تازہ ترین

بدھ، 26 اگست، 2020

محرم الحرام کی فضیلت

ازقلم، اسلامک ریسرچ اسکالر،مفتی محمد ضیائالحق قادری فیض آبادی ماہ محرم الحرام کی سب سے اولین اہمیت خصوصیت تو یہ ہے کہ اسلامی سال کا آغاز اسی  مہینے سے ہوتا ہے جس پر تمام مکتبہ فکر کا اجماع و اتفاق ہے۔ 

 اس مہینہ میں روزہ رکھنا  بھی رمضان المبارک کے بعد دوسرے مہینوں کی بہ نسبت  افضل ہے۔ صحیح مسلم کی ایک  روایت کے مطابق محرم الحرام کے مہینے میں عاشورہ کا دن ہے جس کا روزہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔ ”جس نے عرفہ کے دن کا روزہ رکھا اس کے ایک سال آئندہ اور ایک سال گزشتہ کے گناہ معاف کردیے جائیں گے اور جس نے عاشورہ کا روزہ رکھا اس کے گزشتہ ایک سال کے گناہ معاف کر دے  جائیں گے۔ صحیح مسلم کی ایک دوسرے روایت کے مطابق اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: ”رمضان المبارک کے بعد سب سے افضل روزہ اللہ کے مہینے محرم کا ہے اور فرض نمازوں کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز ہے“۔  جس  پر بھی تمام مکتبہ فکر کا اجماع ہے اور تاریخ اسلام کے زاویوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یوم عاشورہ کے روزے رکھنا عہد حضرت موسیٰ علیہ السلام سے شروع ہوا جو اب تک جاری ہے اور صبح قامت تک جارے رہے گا۔

یہ ہے اس مبارک مہینے کی شرعی حیثیت جسے بالائے طاق رکھ کر عام مسلمانوں نے اسے شرک و خرفات کا مہینہ ٹھہرا لیا ہے، اور بہت سے سادہ مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ ماہ محرم منحوس ہے جس میں شادی و بیاہ اور کوئی کاروبار شروع نہیں کرنا چاہیے، مثال کے طور پہ اس ماہ میں شادی بیاہ کو بے برکتی اور مصائب وآلام کے دور کی ابتداء کا باعث سمجھ کر اس سے احتراز کیا جاتاہے حالانکہ محرم میں شادی کرنا کوئی گناہ یا برائی نہیں۔ سال کے کسی بھی مہینے میں شادی کرنا نہ ہی گناہ ہے، نہ ہی عیب ہے کوئی مہینہ منحوس نہیں لہذامحرم میں بھی شادی کرنا ناجائز نہیں کیونکہ محرم میں آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کا نکاح ہوا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اورحضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح ہوا،سیدنا علی المرتضیٰ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح مبارک ہوا۔لوگ اس ماہ میں اعمال مسنونہ کو چھوڑ کر بہت سی من گھڑت اور موضوع احادیث پر عمل کرتے ہیں جو کہ نہیں ہونا چاہئیے۔ 

 اگر آج بھی مسلمان اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں تو محرم الحرام کے مہینے میں شرک و بدعات وخرفات  سے بچ کر، عاشورہ کے روزے رکھ کر، توبہ و استغفار اور ذکر و اذکار کا اہتمام کرکے، درس امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کو مدنظر رکھ کر اللہ رب العزت کی رضا حاصل کر سکتے ہیں۔

 اللہ ہمیں اپنے احکامات پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے،آمین

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad