دیوبند،دانیال خان(یو این اے نیوز 26 اگست 2020)گزشتہ چھ ماہ سے آج تک اسکول فیس نہیں ملنے کی وجہ سے اسکولوں میں تعلیمی خدمات انجام دینے والے اساتذہ اور ملازمین کو تنخواہ کی ادائیگی نہیں ہوئی ہے جس کے سبب تدریسی و غیر تدریسی ملازمین کو معاشی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،ساتھ ہی اسکول مینجمنٹ پر بھی زمین،بلڈنگ کرایہ،بینک لون،گاڑیوں کی قسط،روڑ ٹیکس،بجلی بل،ہاو ¿س ٹیکس،واٹر ٹیکس وغیرہ کا قرض بڑھتا ہی جا رہا ہے
جس کے نتیجہ میں کئی اسکولوں کے مالک ڈپریشن کا شکار ہیں۔پرائیویٹ اسکول مالکان کا کہنا ہے کہ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی و وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے پورٹل پر اور تحریری طور انہیں خط لکھ کر معاشی مدد کئے جانے کا مطالبہ کیا ہے لیکن انہیںوزیر اعظم یا وزیر اعلی کی جانب سے ابھی کوئی امدادنہیں ملی ہے۔انہوں نے کہا کہ لاک ڈاو ¿ن کی وجہ سے لاکھوں لوگ بے روزگار ہو نے کے ساتھ ذہنی پریشانی کا بھی شکارہیں ساتھ ہی پرائیویٹ اسکولوں کے تدریسی و غیر تدریسی ملازمین کے گھر والے فاقہ کشی کے شکار ہو چکے ہیں
ایسے وقت میں انہیں سرکاری امداد کی سخت ضرورت ہے،انہوں نے کہا کہ انہیں وزیر اعظم اور وزیر اعلی سے امید ہے کہ وہ ہماری فریاد ضرور سنیں گے اور ہماری معاشی امداد کریں گے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں