تازہ ترین

جمعرات، 27 فروری، 2020

قومی راجدھانی میں پر تشدد ہنگامے افسوس ناک:مقررین

دیوبند/دانیال خان(یواین اے نیوز27فروری2020)دیوبند کے عیدگاہ میدان میں غیر معینہ دھرنے پر بیٹھی خواتین نے دہلی میں ہونے والے تشدد میں جاں بحق،زخمی اور فسادیوں کے ذریعہ دوکانوں کو لوٹنے اور آگ لگانے کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کینڈل جلاکر دو منٹ کی خاموشی اختیار کرتے ہوئے مرنے والوں کویاد کیا اور دہلی تشدد کو مرکزی حکومت کی ایک اور ناکامی قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سے حالات کو جلد قابو میں کرنے کا مطالبہ کیا۔اس دوران مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے فریحہ عثمانی نے دہلی تشدد میں مرنے والے افراد کے غم میں برابر کے شریک رہنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ رات دس بجے کے بعد دہلی کے مہلوکین اور وہاں کے حالات پر امن ہو جائے اس لئے خواتین اجتماعی دعاؤں کا اہتمام کریں گی۔فریحہ عثمانی نے کہا کہ بی جے پی لیڈران کے شر انگیز بیانوں کے سبب دہلی سمیت پورا ملک جل رہا ہے اور پولیس حالات کو قابو میں کرنے کے بجائے شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف پر امن مظاہرے کرنے والے افراد کے خالاف فرضی مقدمات قائم کر نوٹس بھیجنے میں لگی ہوئی ہے۔

سلمہ احسن اور فوزیہ عثمانی نے کہا کہ آج ملک تیزی کے ساتھ تنزلی کی طرف بڑھ رہا ہے،معاشی اعتبار سے ملک دیوالیہ ہو چکاہے بہادر فوجی جوانوں کی جانیں جا رہی ہیں،سرکاری املاک اور محکمہ جات کو فروخت کیا جا رہا ہے اور من مانے فیصلوں کے ذریعہ دستور کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں،مہنگائی بڑھ گئی ہے،اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں،ملک میں خواتین محفوظ نہیں ہیں،عصمت ریزی اور قتل کے واقعات میں بے تحاشہ اضافہ ہو گیا ہے،ہجومی تشدد کے واقعات پیش آ رہے ہیں جس سے ملک تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے لیکن اب حد ہو چکی ہے پانی سر سے اونچا ہو چکا ہے تمام طبقات ملک کے دستور اور جمہوریت کی بقاء کے لئے سڑکوں پر نکل آئے ہیں اب امیت شاہ کی من مانی اور وزیر اعظم کی تاناشاہی ہرگز نہیں چلے گی۔ارم عثمانی،زینب عرشی،عذرا خان،آمنہ روشی،ستارہ قریشی،روحی انعام، رابیہ، حلیمہ، بشری اور رفعت نے کہا کہ آج ملک کی معاشی حالت خستہ ہے۔

 روزگار برائے نام ہے،کمپنیاں بند ہو رہی ہیں،کسان خودکشی کرنے پر مجبور ہے ایسے نازک وقت میں ملک کو اس طرح کے قانون کی ضرورت نہیں ہے،آج لوگوں کو کھانے کے لالے پڑے ہوئے ہیں،بے روزگاری اپنے پنکھ پھیلائے کھڑی ہے،پڑھے لکھے لوگ روزگار کی تلاش میں در بدر کی ٹھاکریں کھا رہے ہیں اور ہم سی اے اے اور این آر سی جیسے غیر ضروری مسائل میں الجھے ہوئے ہیں جس سے نقصان کے سوائے کوئی فائدہ نہیں ہے ساتھ ہی یہ قانون غیر جمہوری اور غیر آئینی بھی ہے اس لئے بھی اس قانون کی مخالفت بہت ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت بار بار کہ رہی ہے سی اے اے قانون سے ہندوستانیوں کا کچھ لینا دینا نہیں ہے،لیکن ہمارا ماننا ہے کہ جب این پی آر اور این آر سی کا نفاذ ہوگا تو اس سے تمام ہندوستانی باشندے متاثر ہوں گے اور وہ اپنی شہریت کے ساتھ اپنی زمین جائداد اور ملازمت سمیت تمام چیزوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔اس دوران کمسن بچے اور بچیاں بھی این پی آر،سی اے اے اور این آر سی کی مخالفت میں نعرے بازی کرتے ہوئے نظر آئے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad