نئی دہلی(یواین اے نیوز27فروری2020)سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) نے پارٹی مرکزی دفتر میں پریس کانفرنس کا انعقاد کرکے سی اے اے مخالف مظاہرین پر پولیس کی کھلی حمایت سے شمال مشرقی دہلی میں سنگھی غنڈوں کے بے لگام حملے اور تشدد پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ پریس کانفرنس سے ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی، نائب قومی صدر اڈوکیٹ شرف الدین احمد، قومی جنر ل سکریٹر ی محمد شفیع اور قومی سکریٹری ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی نے خطاب کیا۔ایس ڈی پی آئی قومی لیڈران نے کہا کہ پچھلے تین دن سے یہ تشدد جاری ہے جس سے مسلم املاک کو بھاری نقصان پہنچا اور مسلمانوں کا قتل ہوا ہے,پولیس ، انتظامیہ اور حکومت کی ساز ش واضح طور پر نظر آرہی ہے,متعدد ویڈیو کلپس میں اصل مجرموں کے ساتھ ساتھ گجرات نسل کشی کو دہرانے کے نمونہ کو بھی دکھایا گیا ہے,پولیس کچھ مقامات پر خاموش تماشائی بن کر کھڑی دکھائی دیتی ہے جبکہ غنڈے مساجد، مزار ات اور مسلمانوں کے املاک کو توڑنے اورآگ لگانے میں مصروف ہیں اور کچھ مقامات پر پولیس ہی قصورواروں کے ساتھ تشدد میں حصہ لیتے ہوئے دکھائی دے رہی ہے۔
سوشیل میڈیا میں موجود ویڈیو فوٹیج میں اشوک نگر کی ایک مسجد کے مینارے پر چڑھ کر چند غنڈے لاؤ ڈ اسپیکر کو توڑ کر ہنومان اور جئے سری رام کے نعرے کی نقش لگائے ہوئے بھگواجھنڈے کو باندھ کر وہاں سے ترنگا ہٹاتے نظر آر ہے ہیں ۔مجرم ان کے حملے کے دوران "ہم آ پ کے ساتھ ہی مودی جی "اور "جئے شری رام "کے نعرے لگارہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ حملہ آوروں کو حکام کی جانب سے ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے ۔ پولیس اہلکار سمیت 20سے زیادہ افراد کی فائرنگ اور لنچنگ میں ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔گولی سے چوٹ لگنے سمیت 150سے زیادہ افراد شدید زخمی حالت میں اسپتال میں داخل ہیں ۔اس زبردست تشدد کے باوجود حکومت نے اس پر آنکھیں بند کرلی ہیں تاکہ غنڈوں کو بغیر کسی خوف کے تشدد میںملوث ہونے دیا ہے ۔ حالیہ تشدد کوئی اچانک ردعمل نہیں ہے بلکہ سی اے اے کے مخالفت کرنے والے لوگوں میں خوف پیدا کرنے کیلئے منصوبہ بند اقدام ہے ۔ جاری تشدد کا آغاز عام آدمی پارٹی کے سابق ایم ایل اے اور موجودہ بی جے پی کے لیڈر کپل مشرا کے وجہ سے ہوا۔ جس نے جعفر آ باد میٹرو اسٹیشن کے قریب ایک انتہائی اشتعال انگیز تقریر کی تھی اور اس کے فورا بعد اس نے ٹویٹ کے ذریعے اس کے پیروکاروں کو اس علاقے میں حملے کرنے کیلئے بلایاتھا۔
دہلی میں جو حملے ہوئے ہیں و ہ 2002کے گجرات نسل کشی سے مماثلت رکھتے ہیں۔ علاقوں میں ہندوؤں کے گھروں اور کاروباری اداروں کے سامنے زعفران جھنڈے باندھ دیئے گئے ہیں تاکہ سنگھیوں کو صرف مسلمانوں پر حملہ کرنے میں مدد ملے۔ ایک وائرل تصویر میں دکھایا گیا ہے کہ ایک مسلمان کی دوکان تنہا تباہ ہوگئی ہے جس کے دونوں اطراف ہندوؤں کی دوکانیں محفوظ ہیں ۔ مجرموں کے ساتھ پولیس کا سلوک اتر پردیش کی طرح ہے ۔ اروند کجریوال جن کو حال ہی میں عوام نے فاشسٹ اور فرقہ پرستوں کے خلاف انہیں بھاری اکثریت سے کامیاب کیا تھاانہوں نے عوام کے مینڈیٹ کو چکنا چور کردیا ہے ۔جب شمال مشرقی دہلی تین دن تک جل رہا تھا وہ محض خاموش تماشائی بنے رہے تھے۔دہلی حکومت متاثرین کو کوئی مدد فراہم کرنے میں مکمل ناکام رہی ہے ۔ ایس ڈی پی آئی جسٹس مرلی دھر کے ہریانہ پنجاب ہائی کورٹ تبادلہ کی سخت اعتراض کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے درخواست کرتی ہے کہ وہ 14فروری 2020کی اپنی تجویز کو کالعدم قرارد ے اور جسٹس مرلی دھر کو دہلی ہائی کورٹ میں جج کی حیثیت سے جاری رکھنے کی اجازت دے۔
تشدد کے دوران میڈیا افراد کو ویڈیو گرافنگ سے روکا گیا ہے اور ان میں سے کچھ کو اپنی ہندو شناخت کی تصدیق کرنے کرنے کیلئے پینٹ اتارنے پر مجبور کیا گیا ہے ۔ایس ڈی پی آئی کا ماننا ہے کہ مظاہرین پر تشدد اور ہلاکتیں سی اے اے کے خلاف ملک گیر احتجاج کمزور نہیں ہونگے اور انصاف ملنے تک یہ جدوجہد جاری رہے گی۔ تاہم پارٹی نے دہلی ہائی کورٹ کی طرف سے بی جے پی قائدین کی نفرت انگیز تقاریر پر ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت کا خیر مقدم کرتی ہے ۔ ایس ڈی پی آئی سختی سے مطالبہ کرتی ہے کہ 1)۔ وزیر داخلہ فوری طور پر استعفی دیں۔2)۔ نقصانات کے تناسب کے مطابق جانوں اور املاک کے نقصان کا مکمل معاوضہ دیا جائے ۔ ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ کو 1کروڑ روپئے اور شدید زخمی افراد کو 50لاکھ روپئے کا معاوضہ دہلی حکومت کی طرف سے فوری طور پر اداکیا جائے ۔ 3)۔ انوراگ ٹھاکر، کپل مشرا، پرویش ورما جیسے نفرت اور تشدد کے مرتکب کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے انہیں جیل بھیجا جائے ۔ 4)۔سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے ایک سیٹنگ جج کی سربراہی میں ایک عدالتی انکوائری کا آغاز کیا جائے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں