دیوبند 13/ جنوری (دانیال خان)بجلی چیکنگ کے دوران بجلی محکمہ کی ٹیم پر حملہ کرنے اور جے ای کے ساتھ مارپیٹ کرنے کے معاملہ میں پولیس نے چار لوگوں کو نامزد کرتے ہوئے 50نامعلوم افراد کے خلاف مختلف دفعات میں معاملہ درج کر لیا،وہیں محلہ کے باشندگان نے بھی بجلی محکمہ کے افسران کے خلاف کوتوالی میں تحریر دیتے ہوئے رات کے گیارہ بجے بغیر اجازت گھروں میں گھسنے اور خواتین کے ساتھ بدسلوقی کئے جانے کا الزام لگایا ہے۔
واضح ہو کہ بجلی چیکنگ و بقایہ بلوں کی وصولی کے لئے چلائی جا رہی مہم کے تحت شہر کے محلہ قلعہ پرپہنچی بجلی محکمہ کی ٹیم کی محلہ کے سلیم ولد منا سے میٹر چیک کرنے کو لیکر معمولی کہا سنی ہو گئی تھی،جس کے بعدسلیم نے عبدالرحمان ولد سمیع اللہ،شاہنواز ولد مستقیم،شاہ فیصل ولد محمد مستقیم کے علاوہ محلہ کے ہی 40/50لوگوں کے ساتھ ملکر بجلی محکمہ کی ٹیم کی مخالفت شروع کر دی تھی،الزام ہے کہ اس دوران موقع پر جمع ہو ئے لوگوں نے بجلی محکمہ کی ٹیم کو دوڑا لیا تھا
اور سرکاری کام میں رخنہ ڈالنے کے مقصد سے ٹیم کے ساتھ بلا وجہ گالی گلوچ و مارپیٹ شروع کر سرکاری دستاویزات کو بھی پھاڑ کر پھینک دیا تھا۔دیر شام سماجوادی پارٹی کے لیڈر کارتک رانا نے محلہ قلعہ پر پہنچ کر متاثرہ افراد سے ملاقات کی اور محلہ کے لوگوں کو ہر ممکن مدد کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ یو پی میں جب سے بی جے پی اقتدار میں آئی ہے تب سے ہی تمام سرکاری محکمہ عام لوگوں کا استحصال کر رہے ہیں اور بی جے پی لیڈر عوامی مسائل میں دلچسپی نہ لیکر ہندو مسلم کرتے ہوئے اپنی جیبوں کو بھرنے کا کام کر رہے ہیں،انہوں نے بجلی محکمہ پرایک خاص طبقہ کے لوگوں کو پریشان کرنے کا الزام لگایا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں