تازہ ترین

ہفتہ، 5 اپریل، 2025

وقف (ترمیمی) بل 2025: رحمت یا زحمت؟

وقف (ترمیمی) بل 2025: رحمت یا زحمت؟
ڈاکٹر محی الدین آزاد اصلاحی 


وقف (ترمیمی) بل 2025 کے نفاذ نے برصغیر کے مسلم معاشرے میں ایک فکری طوفان برپا کر دیا ہے۔ یہ بل، جو وقف املاک کے نظم و نسق میں انقلابی تبدیلیاں متعارف کروانے کا عندیہ دیتا ہے، بیک وقت امید اور اضطراب کا باعث بنا ہوا ہے۔ حکومتِ وقت کا موقف ہے کہ یہ قانونی اصلاحات شفافیت، جوابدہی اور انتظامی بہتری کی ضامن ہیں، جبکہ ناقدین اسے مسلم خودمختاری پر ایک کاری ضرب قرار دیتے ہیں۔ زیر نظر مضمون میں ہم اس قانون کی اہم شقوں کا تجزیہ کریں گے، ان کے اثرات کو پرکھیں گے اور یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ آیا یہ مسلم کمیونٹی کے لیے رحمت ہے یا زحمت۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ وقف کی جائیدادوں میں بدانتظامی، لوٹ کھسوٹ اور بے ضابطگیاں کوئی نئی بات نہیں، اور اسی بنا پر حکومتِ ہند وقتاً فوقتاً وقف ایکٹ میں ترامیم کرتی رہی ہے۔ اصلاحات کے نام پر مختلف حکومتوں نے اپنے اپنے دور میں قوانین میں تبدیلیاں کیں—کچھ واقعی بہتری کے لیے تھیں، جبکہ کچھ کے پیچھے مخصوص عزائم کارفرما رہے۔
لیکن موجودہ حکومت کے طرزِ عمل کو دیکھتے ہوئے، اصلاحات کا تصور تو کیا جا سکتا ہے مگر اس پر حقیقی عمل درآمد ہوتا نظر نہیں آتا۔

جب نیت ہی خراب ہو، تو نہ دلیل اثر کرتی ہے اور نہ حجت، بلکہ فیصلے پہلے ہو جاتے ہیں اور دلیلیں بعد میں گھڑی جاتی ہیں۔ آج یہی کچھ وقف املاک کے معاملے میں بھی دکھائی دے رہا ہے۔

*وقف کی اہمیت اور تاریخی پس منظر*
وقف، اسلامی قانون کا ایک بنیادی ستون ہے، جو کسی بھی جائیداد کو دائمی طور پر مذہبی، تعلیمی یا فلاحی مقاصد کے لیے مختص کرنے کا ضامن ہے۔ اس کے ثمرات نسل در نسل امتِ مسلمہ کو پہنچتے ہیں، اور یہ ایک ایسا نظام ہے جو دینی، سماجی اور اقتصادی فلاح و بہبود کا مرکز رہا ہے۔ 

ہندوستان میں وقف املاک کا دائرہ وسیع ہے؛ تقریباً 4,05,000 ہیکٹر پر محیط یہ اثاثے 14.22 بلین ڈالر کی تخمینی مالیت رکھتے ہیں۔ وقف املاک کا انتظام و انصرام وقف ایکٹ 1995 کے تحت قائم شدہ مرکزی اور ریاستی وقف بورڈز کے سپرد ہے۔

مگر بدقسمتی سے، وقف ادارے طویل عرصے سے کرپشن، بدانتظامی، اور غیر قانونی قبضوں جیسے سنگین مسائل کا شکار ہیں۔ ان خامیوں کو جواز بنا کر حکومت نے اصلاحات کا بیڑا اٹھایا ہے، مگر مسلم دانشوران و مذہبی قائدین کو خدشہ ہے کہ یہ اصلاحات اصلاح کے بجائے زوال کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہیں۔

*وقف (ترمیمی) بل 2025 کی کلیدی شقیں*
یہ مجوزہ قانون درج ذیل بنیادی تبدیلیاں متعارف کرواتا ہے:

*1. غیر مسلم اراکین کی شمولیت*
مرکزی وقف کونسل (CWC) اور ریاستی وقف بورڈز (SWBs) میں غیر مسلم اراکین کی تقرری کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔

اس سے قبل یہ ادارے مکمل طور پر مسلمانوں پر مشتمل تھے، ماسوائے متعلقہ حکومتی وزیر کے۔
حکومت کے بقول، اس سے شفافیت اور غیر جانبداری میں اضافہ ہو گا، جبکہ ناقدین کے نزدیک یہ مسلم مذہبی خودمختاری میں مداخلت ہے۔

*2. حکومت کی طرف سے وقف جائیدادوں کا انتظام*

بل کے تحت حکومت کو اختیار حاصل ہو گا کہ وہ متنازع وقف املاک کے ملکیتی امور میں ثالثی کرے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد غیر قانونی قبضوں کا خاتمہ ہے، مگر مسلم قیادت کو اندیشہ ہے کہ اس سے سرکاری مداخلت میں غیر ضروری اضافہ ہو گا۔

*3. وقف کے اعلان پر نئی پابندیاں*
کوئی بھی شخص وقف کا اعلان تبھی کر سکے گا جب وہ کم از کم پانچ سال سے اسلام پر عمل پیرا ہو اور جائیداد کا قانونی مالک ہو۔

اس ترمیم کا مقصد جعلی وقف رجسٹریشن کو روکنا بتایا جا رہا ہے، لیکن اس کا اطلاق کئی مستحق وقف املاک کو غیر قانونی بنا سکتا ہے۔

*بل کے حامیوں کے دلائل*

*1. شفافیت اور انتظامی بہتری*
بل کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ بدعنوانی اور مالی بے ضابطگیوں کے خلاف ایک مؤثر اقدام ہے۔
غیر مسلم اراکین کی شمولیت غیر جانبدارانہ نگرانی کو یقینی بنائے گی، جس سے اقربا پروری اور مالی خورد برد کی حوصلہ شکنی ہو گی۔

*2. غیر قانونی قبضے اور بدانتظامی کا سد باب*
بل کی بدولت وہ جائیدادیں، جو ناجائز قبضے میں جا چکی ہیں، دوبارہ وقف کے حقیقی مقاصد کے لیے مختص کی جا سکیں گی۔

املاک کے لیزنگ سسٹم کو شفاف بنانے سے وقف کی آمدنی میں اضافہ ممکن ہو گا۔

*3. شمولیت اور قومی مفاد*
حکومت کا مؤقف ہے کہ چونکہ وقف املاک شہری منصوبہ بندی پر اثرانداز ہوتی ہیں، اس لیے ان کا بین المذاہب نگران ہونا ضروری ہے۔

*بل پر تنقید اور مسلم خدشات*
*1. وقف کی خودمختاری پر حملہ*
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (AIMPLB) اور دیگر مسلم تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اسلامی وقفی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

تاریخی طور پر وقف املاک کی نگرانی صرف مسلمانوں کی ذمہ داری رہی ہے، اور غیر مسلم اراکین کی شمولیت اس بنیادی اصول کی خلاف ورزی ہے۔

*2. ریاستی کنٹرول اور املاک کی ضبطی کا خدشہ*
حکومت کے ثالثی اختیار کو بعض حلقے وقف املاک کی ممکنہ ضبطی سے تعبیر کر رہے ہیں۔


یہ خدشہ اس وقت اور زیادہ سنگین ہو جاتا ہے جب ماضی میں بابری مسجد جیسے تنازعات کی نظیر موجود ہو۔*3. مسلم کمیونٹی کی مزید حاشیہ بندی*
بل کو اقلیتوں کے حقوق محدود کرنے کی ایک کوشش قرار دیا جا رہا ہے، جو آئین کے آرٹیکل 26 کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔


*سیاسی و سماجی مضمرات*
1. فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ
مسلم حلقے اس بل کو مذہبی آزادی پر حملہ تصور کر رہے ہیں، جس کے باعث فرقہ وارانہ تناؤ میں اضافہ ممکن ہے۔

2. عدالتی چارہ جوئی اور قانونی چیلنجز
مسلم تنظیمیں ممکنہ طور پر اس بل کو عدالت میں چیلنج کریں گی، جس سے طویل قانونی جنگ شروع ہو سکتی ہے۔

*3. ریاستی مداخلت کی ایک نئی نظیر*
اگر یہ بل نافذ ہو گیا تو دیگر اقلیتی مذہبی اداروں پر بھی اسی نوعیت کی پالیسی لاگو ہونے کا امکان بڑھ جائے گا

کیا یہ بل رحمت ہے یا زحمت؟*
وقف (ترمیمی) بل 2025 ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔ جہاں یہ شفافیت اور بہتر انتظامی ڈھانچے کی نوید سناتا ہے، وہیں اس میں مذہبی خودمختاری اور مسلم حقوق پر ممکنہ ضرب کے خدشات بھی موجود ہیں۔
اگر حکومت اسے غیر جانبدارانہ اور منصفانہ طریقے سے نافذ کرے، مسلم قیادت کو مناسب نمائندگی دے، اور سیاسی مداخلت سے باز رہے، تو یہ اصلاحات مسلم کمیونٹی کے لیے مثبت ثابت ہو سکتی ہیں۔ 

لیکن اگر اسے اقلیتی حقوق محدود کرنے کے آلے کے طور پر استعمال کیا گیا، تو یہ مسلم عدم اطمینان اور فرقہ وارانہ کشیدگی کو بڑھا سکتا ہے۔ اس کا حتمی فیصلہ وقت اور اس کے عملی نفاذ پر منحصر ہو گا۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad