کیا ہم اس حکمت عملی کو بھول گئے ہیں
از....... عمران صدیقی ندوی
اسلام تو مجدد الف ثانی رح کے دور میں بھی خطرے میں تھا بلکہ آج کے مقابلے میں بہت زیادہ خطرے میں تھا لیکن باوجود اس کے کہ ان کے لاکھوں جانثار مریدین تھے انہوں کبھی بھی حکومت وقت سے ٹکر نہیں لی بلکہ ایسی حکمت عملی اختیار کی کہ ١٠٠ سال ہی میں اسلام کو اورنگزیب عالمگیر رح جیسا بادشاہ مل گیا اور جس حکومت سے اسلام کو سب سے زیادہ خطرہ تھا وہی حکومت اسلام کی سب بڑی محافظ و خادم بن گئی.
حضرت مجدد الف ثانی رح کی حکمت عملی کا ایک پہلو یہ تھا کہ حضرت نے نہ ہی جلد بازی کی اور نہ ہی جذبات میں آئے بلکہ تدریجا حکومت میں موجود اسلام مخالف چیزوں کو ختم کیا اور حکومت میں موجود اہم لوگوں کے دلوں میں اسلام و مسلمانوں کی محبت جگا دی.
ان کی حکمت عملی کا دوسرا اہم پہلو یہ تھا کہ انہوں نے حکومت وقت کو اس بات کا یقین دلایا کہ وہ ان کے خیر خواہ ہیں اور جو باتیں وہ کہہ رہے ہیں وہ ان کی بھلائی کے لیے کہہ رہے ہیں، نہ ان کو حکومت کی کوئی لالچ ہے اور نہ مال و دولت کی ہوس ہے. ان دو باتوں نے ٹکراؤ اور ڈر کو ختم کر دیا اور اعتماد و بھروسے کی فضا کو قائم کی جو اصلاح کے لیے بہت ضروری ہوتی ہے.
آج بھی مسلمانوں کو اسی حکمت عملی کو اختیار کرنے کی ضرورت ہے، اسلام چاہے جتنا بھی خطرے میں ہو اگر ہم نے سمجھداری اور ہوش مندی سے کام لیا اور ٹکراؤ کی "فضا پیدا کرنے کے بجائے اعتماد و بھروسے کی فضا قائم کی تو یہی اسلام دشمن عناصر کچھ وقت بعد اسلام کے سب سے بڑے محافظ بن جائیں گے.
نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں