تازہ ترین

پیر، 26 دسمبر، 2022

حاجی صوفی مولوی عبد الغنی خان صاحب کے۳۱۱/ ویں عرس کا شاندار آغاز:موسم سرما کو دیکھتے ہوئے ممکنہ امیدواروں محمد ابراج منصوری،اکبر قریشینے چائے کے انسٹال لگوائے

بھوگاؤں،مین پوری،حافظ محمد ذاکر ہمارے ضلع و قصبہ میں مختلف بزرگان دین کے سالانہ عرس منعقد کئے جاتے ہیں،جس میں عقیدتمندوں کی حاضری ہوتی ہے،۵۲،۶۲،دسمبر میں مولوی عبد الغنی صاحب کا بھی عرس منعقد کیا جا تاہے،جو امسال اپنی شاندار روایات کے ساتھ منعقد کیا جارہا ہے،مولوی عبد الغنی صاحب ہمارے قصبہ بھوگاؤں کے محلہ کریانیم میں ایک صوفی صفت بزرگ گزرے ہیں،جن کے اندر انسا نی خدمات کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا تھا،صحیح معنو میں انسانیت کے علمبر دار تھے، آج ان کے۳۱۱ /ویں عرس کے موقعہ پر بھی غیر مسلموں کی اکثریت دیکھنے کو ملتی ہے،صرف اتنا ہی نہیں بیرونی ممالک سے بھی موصوف سے عقیدت رکھنے والے عقیدتمند اتنا عرصہ گزرجانے کے بعد بھی محبتوں اور عقیدتوں کے ساتھ حاضری لگا تے ہیں۔
اور اپنی جبیں جھکا کر اپنی عقیدتوں کا اظہار کرتے ہیں، ہمارے ضلع کے اکثر تمام عروسوں میں قوالیوں کا چلن ہوتا ہے،مختلف رسم و رواج کو عقیدتوں کے ساتھ اپنا یا جاتا ہے،لیکن مولوی عبد الغنی صاحب کا عرس ان سب رسم و رواج سے بیگانہ ہو کر صرف قرآن کی تلاوت،ذکر اللہ،ذکر حبیب ﷺ،اور ذکر بزرگان دین کی محفلوں کا انعقاد کیا جاتا ہے،بتایا جاتا ہے کہ موصوف کی قبر پر ایصال ثواب کے لئے باداموں پرلفظ اللہ،اللہ،اللہ اور درود پاک پڑھا جاتا ہے، قرب جوار کے لوگ بڑی تعداد میں شرکت کرتے ہیں،اور اپنی اپنی عقیدتوں کے تحت منتیں مرادیں مانگتے ہیں،تین روزہ یہ پروگرام اپنی سابقہ شاندار روایات کے ساتھ کل (آج(اختتام پذیر ہوگا،بیرونی مہمانوں اور زائرین کی آمد اور سخت سردی کو مد نظر رکھتے ہوئے،سماجی کارکن اور ممکنہ نگر پنچایت عہدے کے امیدوار اکبر قریشی،اور محمدابراج منصوری نے چائے کے انسٹال لگ وائے ہیں،کسی حد تک زائرین کو سردی سے راحت دے رہے ہیں، سیکڑوں کی تعداد میں دکانیں،اور چھولے لگے ہیں، جس سے بچے اور بچیاں خوب لطف اندوز ہو رہے ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad