سمیع اللہ خان
اپنے گھر میں ہتھیار رکھو، کچھ نہیں تو سبزی کاٹنے والا چاقو ذرا تیز رکھو، میں بالکل صاف اور واضح بول رہی ہوں کہ ہمارے گھروں میں بھی سبزی کاٹنے کے لیے ہتھیار تیز ہونا چاہیے، انہوں نے چاقو سے ہمارے ہندو بہادروں کو کاٹا ہے، بجرنگ دل اور بھاجپا کے کارکنوں کو کاٹا ہے، پتا نہیں کب کیسا موقع آجائے، تو جب ہماری سبزی اچھے سے کٹے گی تو یقیناﹰ دشمنوں کے چہرے اور سر بھی اچھے سے کٹ سکیں گے۔
یہ خطرناک بیان کھلے عام، عوامی اسٹیج سے بم دھماکوں میں ماخوذ ہندو لیڈر سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر نے کرناٹک میں دیا ہے،اس " نفرتی بمبار سادھوی " کے بارےمیں آپکو یہ بھی ضرور معلوم ہوناچاہئے کہ اب یہ " سادھوی " ہندوستان کی ممبر آف پارلیمنٹ ہے، بم دھماکوں میں ماخوذ ہونے کےبعد اسے بھارتی جمہویت کے سب سے بڑے ستون اور جمہوری ایوان کا " معزز ممبر " بنایا گیا اور اب یہ دہشتگرد عورت بحیثیت ممبر آف پارلیمنٹ ہندوستان کے ہندوؤں سے اپیل کررہی ہے کہ وہ ہتھیار رکھیں اور دشمنوں یعنی کہ مسلمانوں کی گردنیں ماریں،ممبر آف پارلیمنٹ کی حیثیت سے دیا گیا یہ کھلا بیان بہت صاف کرتاہے کہ خفیہ طورپر بھارت کے " بمبار سادھوی " نما ممبرانِ پارلیمنٹ اس ملک میں کیا کررہےہیں۔
سب سے پہلے تو یہی کیا کم ذلت اور شرم کی بات ہے کہ بم دھماکوں میں ماخوذ ایک عورت حکومت و ریاست کا حصہ بن گئی اور اب وہ ایوان اقتدار کہ گدی پر بیٹھ کر علانیہ ہندوﺅں کو ہتھیار اٹھانے اور سر مارنے کی ترغیب دیتی ہے، یہ جمہوریت کی ذلت و شکست نہیں تو اور کیا ہے؟ کہ اس نظام کی بدولت ایسے خون کے پیاسے بھیڑیے بھی حکمرانی کرنے لگتے ہیں،جو "سیکولر انٹلکچوئل" لوگ یہ کہنے لگے ہیں کہ بھاجپا اور آر ایس ایس کی اعلیٰ سطحی لیڈرشپ نفرت و تشدد اور خون خرابے کےخلاف ہے ایسی نفرتیں پھیلانے والے تو چھوٹی سطح کے کٹر ہندو ہیں، ہم نے بارہا کہا ہے کہ یہ طفلِ تسلیاں ہیں اور ہندوتوا سرکار کی آغوش میں پناہ لینے کے بہانے ہیں، ان "انٹلکچوئل" کے سامنے پہلے بھی ایسی بےشمار نظیریں سامنے آچکی ہیں اور اب سادھوی پرگیہ ٹھاکر جیسی نفرتی بمبار ایک اور زندہ اور پھڑپھڑاتی ہوئی نفرتی نظیر ہے جوکہ ہندوستان میں خانہ جنگی بھڑکانے کے لیے سرگرم عمل ہے، کیا " مثبت مزاج " اور بھاجپا کی طرف مائل " سیکولر دانش وروں " کا خیمہ سادھوی پرگیہ کے معاملے میں مودی اور امیت شاہ کو بھاگوت اور ڈوبھال کو عار دلانے کی جسارت کرسکے گا؟ ایک نفرتی بمبار ممبر آف پارلیمنٹ بنی ہی کیسے؟ اور اب پارلیمانی پوزیشن کےساتھ ملک میں ہندو۔بنام۔مسلم خانہ جنگی کے لیے متحرک ہے، اگر بھاجپا اور سَنگھ کے دہشتگردوں کا علانیہ ایجنڈا اس قدر زہریلا ہے تو خفیہ طورپر یہ لوگ بھارت میں کیا کچھ نہیں کررہے ہوں گے؟ کیا ملک کا عدالتی نظام ان کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کرسکتاہے؟ خود کو سیکولر کہلانے والے ہندو لیڈران اس نفرت کو روکنے میں ناکام کیوں ہیں؟ کیا، سبھی منتظر ہیں؟
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں