یوگی حکومت کو بڑا جھٹکا،ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ،او بی سی ریزرویشن کے بغیر ہونگے بلدیاتی انتخابات
لکھنؤ۔اسماعیل عمران ۔(یو این اے نیوز 26دسمبر 2022) یوپی باڈی الیکشن۔ الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے اتر پردیش میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے اہم فیصلہ سنایا ہے۔ ہائی کورٹ نے او بی سی ریزرویشن سے متعلق حکومت کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کو منسوخ کر دیا ہے۔ ہائی کورٹ کے حکم کے بعد اب او بی سی کے لیے ریزرو تمام سیٹیں جنرل زمرہ میں شمار کی جائیں گی۔ ساتھ ہی ہائی کورٹ نے ریاست میں بلدیاتی انتخابات جلد کرانے کا بھی حکم دیا ہے۔
الہ آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ جب تک ٹرپل ٹیسٹ نہیں ہوتا، او بی سی ریزرویشن کا نفاذ نہیں کیا جائے گا۔ حکومت اور الیکشن کمیشن کو ریاست میں او بی سی ریزرویشن کے بغیر باڈی الیکشن کرانے ہوں گے۔ لکھنؤ بنچ نے منگل کو 70 صفحات کا فیصلہ سناتے ہوئے او بی سی ریزرویشن کو مکمل طور پر منسوخ کر دیا۔
ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد اتر پردیش میں بلدیاتی انتخابات کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔ ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق او بی سی ریزرویشن دینے کے لیے کمیشن بنایا جائے، تب ہی او بی سی ریزرویشن کا نظام لاگو کیا جائے۔ اس کے لیے حکومت کو ٹرپل ٹی فارمولہ اپنانا چاہیے اور اس میں وقت لگ سکتا ہے۔ اس میں حکومت اور الیکشن کمیشن کو او بی سی ریزرویشن کے بغیر فوری طور پر انتخابات کروانے چاہئیں۔
بلدیاتی انتخابات کو لیکر تھا تنازعہ
گزشتہ ماہ یوگی حکومت نے بلدیاتی انتخابات کے لیے سیٹوں کی ریزرویشن لسٹ جاری کی تھی۔ اس ریزرویشن لسٹ کے خلاف ہائی کورٹ میں کئی عرضیاں دائر کی گئی تھیں۔ درخواستوں میں کہا گیا کہ حکومت نے او بی سی ریزرویشن جاری کرنے کے لیے ٹرپل ٹیسٹ فارمولہ نہیں اپنایا ہے، جبکہ سپریم کورٹ اس سلسلے میں پہلے ہی واضح ہدایات دے چکی ہے۔
جانیئے کہ ٹرپل ٹیسٹ فارمولا کیا ہے۔
ٹرپل ٹیسٹ فارمولے کے مطابق، اتر پردیش حکومت کو ایک کمیشن بنانا ہوگا، جو دیگر پسماندہ طبقات کی حیثیت کے بارے میں اپنی رپورٹ دے گا اور اس کی بنیاد پر اتر پردیش میں او بی سی کے لیے ریزرویشن نافذ کیا جا سکتا ہے۔ ریزرویشن دینے کے لیے 3 سطح کے معیار طے کیے جائیں گے۔ اس ٹرپل ٹیسٹ میں یہ دیکھا جائے گا کہ ریاست میں او بی سی کی معاشی اور تعلیمی حالت کیسی ہے اور انہیں ریزرویشن کی ضرورت ہے یا نہیں۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں