تازہ ترین

ہفتہ، 3 اکتوبر، 2020

رام راجیہ میں سیتا محفوظ نہیں.....


   تحریر: محمد عدنان عالم      کیا لکھوں.....
کیسےلکھوں......؟
کہاں سے شروع کروں...؟
کچھ سمجھ میں نہیں آرہا ہے....
الفاظ ختم ہوگئے...

دل ودماغ نے ساتھ دینا چھوڑ دیا...
قلم  چلنے سے ہچکچا رہا ہے....
انسانی ضمیر دن رات اندر سے کچوکے لگا رہی ہے....
بےجان جسم کرب و اذیت کی بھنور میں سسکیاں لے رہے رہا ہے.....

ایسا  ہو بھی کیوں نا جب ہماری عزت وغیرت کی علامت، حرمت وشرافت کی نشانی،آنکھوں کا نور، دل کا سرور، جن پر ہمیں ناز ہوتا ہے وہی محفوظ نہیں ہیں...؟ جب ہماری بیٹیاں درندہ صفت انسان، بلکہ کے درندوں سے بھی بدتر انسانی شکل کے بھیڑیوں کی ہوس کے شکار ہونے لگیں.. جب ہماری بہنوں کی عزت کو چیڑ پھاڑ کھانے والوں جانوروں کا خطرہ لاحق ہوجائے. تو پھر کیسے ایک باپ چین کی نیند سو سکتا...؟ کیسے ایک بھائی اپنی بہن کی عزت و ناموس کو خطرہ میں دیکھ مضطرب پریشان نہ ہوگا...؟ کیسے ایک ماں اپنی لاڈلی، اپنی گڑیا کے تئیں پریشان و بے قرار نہ ہوگی...؟ 

     میرے دل  میں " بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ" جیسے دل فریب  نعرے، فلک شگاف باتیں ابھی بھی نقش کالحجر ہیں جو ملک کے وزیر اعظم نے 2014 ء میں انتخابی ریلیوں میں لگایا تھا.... مجھے ابھی بھی وزیر اعظم کے ذریعہ  2017ء میں یوپی میں دئے گئے بیانات کے الفاظ اچھی طرح یاد  ہیں. "اتر پردیش میں ڈر کا ماحول ہے، بیٹیاں اکیلی باہر نکلنے سے ڈرتی ہیں. بھائیو، بہنوں...! ہمت اور حوصلہ  سے اس کے خلاف لڑا جا سکتا ہے...

. ہماری سرکار اس ظلم وناانصافی  کے خلاف لڑائی لڑے گی"...  سرکار بننے کے بعد یوپی کے وزیر اعلیٰ نے جو رام راجیہ کا عندیہ دیا تھا وہ دل میں محفوظ ہے.... سوچا جب رام راجیہ قائم ہوگا تو سیتا کی عزت پر انگلی ڈالنے والوں کی انگلیاں کاٹ دی جائیں گی... ان پر بدنگاہی سے اٹھنے والی آنکھیں پھوڑ دی جائیں گی...  رام راجیہ ہوگا، انصاف کی بالا دستی ہوگی. ظلم کا صفایا ہوگا.... بیٹیاں بے خوف باہر نکل سکیں گی....... 

لیکن ہائے بھگوان.....! یہ کبھی نہیں سوچا کہ کچھ لوگ ڈھونگی بھی ہوتے ہیں.... ان کی کرنی اور کتھنی میں آگ اور پانی کا سا تضاد ہوتا ہے .... ہوا بھی یہی ملک کی سیتا  کے ساتھ ظلم و زیادتی کی کہانی ، ان کی  عصمت دری کے واقعات میں اور بھی اضافہ ہوگیا.....  درندے سر عام سڑک پر آگئے....  بیٹیاں خوف وہراس کے کی فضا میں سانس لینے لگیں.... رام راجیہ کا سب سے گھناؤنا کھیل  ملک کی معصوم سیتا "آصفہ" کے ساتھ کھیلا گیا جس میں خود اس کے مخافظ لوگ ملوث تھے..... ملک خاموش رہا کیونکہ وہ ایک مسلم بچی تھی... لیکن انہیں یہ خبر نہ تھیں کہ حیوانیت کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ہے....

 ہوس کے پجاریوں کا کوئی مسلک نہیں ہوتا....... رفتہ رفتہ یہ انسانی شکل میں حیوان صفت گروہ پورے ملک میں پھیل گئی..... "بابا رام رحیم" کا مسخ چہرہ، "کلدیپ سنگھ سینگر" کی ظلم کی داستان "،" چنمیانند" کا ملک کی بیٹیوں کی عزت کے ساتھ کھیلنے کی درد بھری کہانی سامنے آئی.... مزید برآں" بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ" کا نعرہ بلند کرنے والی نام نہاد حکومت نے ان کا ساتھ دیا.... ابھی پھر یوپی کی بیٹی، ہاتھرس کی دلاری منیشا دیدی کے ساتھ چار درندوں نے ظلم کی انتہا کردی. عزت لوٹ لی، ہڈیاں توڑ دی، اس سے دل نہ بھرا تو  حیوانوں نے زبان بھی کاٹ دی....


  بالآخر اس نے زندگی کو الوداع کہہ دیا... کیا یہی کم تھا..؟نہیں... موت کے بعد ایک اور ننگا پن سامنے کا آیا. وہ ننگا پن تھا پوپی پولیس کا، ہاتھرس کے سپاہیوں کا، وہاں کے اعلی افسران کا .... ایسے بے مروت لوگوں  کا جنہوں نے اس عصمت دری کے داستان میں  ایک اور سیاہ باب کا اضافہ کیا... وہ باب ہے منیشا بہنا کی آخری سنسکار کا... اس مظلوم کے آخری حق کو چھین لینے کا ...

. پٹرول کے ذریعہ اس نازک کلی کو پولیس والوں کے ذریعہ ودائی دینا کا... ستم بالائے ستم والدین کو ڈرانے اور دھمکیاں  دینے کا..... اہل خانہ کو نظر بند کر نے کا ....  میڈیا کی رسائی کو بھی ممنوع قرار دینے کا ... بات یہی ختم نہیں ہوئی. ایک بے ضمیر افسر کا یہ بھی کہہ ڈالنے  کا کہ"ریپ ہوا ہی نہیں"... 

    لیکن افسوس ہوتا ہے  عصمت دری کی بڑھتی شرح کو روکنے کے لئے حکومت نے  اب تک کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا... لہٰذا ہم تمام برادران وطن کو ایک ساتھ یہ مطالبہ کرنا ہوگا کہ ایسا سخت قانون بنایا جائے کہ کوئی بھی شخص ایسا قدم اٹھا نے سے پہلے ہزار بار سوچیں.....

  اس لئے کے حکومت اس قانون کو اپنا سکتی ہے جو عرب ممالک میں رائج ہے.... اگر یہ بھی ہضم نہ تو ایک ایسےخصوصی عدالت کا قیام ملک میں عمل میں لاجائے جو صرف اور صرف  اس طرح کے معاملات کی سنوائی کرے.. اور فوری طور پر  درندوں کو ان کے انجام تک پہنچا دے.... تب جا کر ملک کی سیتا محفوظ ہوسکتی ہیں.... اور یہ کہہ سکتی ہیں کہ وہ رام راجیہ کی کھلی فضا، انصاف کے ماحول میں جی رہی ہیں... ورنہ یہ ڈھونگ، یہ نوٹنکی، آپ کو مبارک ہو صاحب.......!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad