تازہ ترین

بدھ، 1 نومبر، 2017

ظالموں کی گھیرابندی کے لیے ڈیجیٹل آرمی کی ناگزیریت


ظالموں کی گھیرابندی کے لیے ڈیجیٹل آرمی کی ناگزیریت
عالمی تناظرمیں ملکی صورتحال پر:
 
تحریر،سمیع اللہ خان ،جنرل سکریٹری: کاروانِ امن و انصاف
سوشل میڈیا جدید تکنیکات میں سب سے مقبول ایجاد ہے، یہ اب صرف پیغام رسانی اور گھریلو خبری نہیں رہا اس کا دائرہ وسیع ترین ہوتا جارہاہے، اور یہ بات واقعاتی پیمانے پر سامنے آچکی ہے کہ سوشل میڈیا عالمی سیاست اور سیاسی پالیسیوں تک میں دخیل ہوچکا ہے، اقوام متحدہ، حقوق انسانی کی تنظیمیں یہاں تک کہ عالمی عدالتیں سوشل میڈیا کی فضا پر نظر رکھتی ہیں، تیونس، مصر، کے انقلابات سوشل میڈیا طاقت کے جیتے ثبوت ہیں، تیونس کا حال دگرگوں تھا غربت، افلاس، مجرمانہ روش زوروں پر تھی حکمراں طبقے نے عوام کو غیر ضروری مسائل میں الجھا رکھا تھا اور عوام کو جہنم میں جھونک رکھا تھا کوئی امید نہیں تھی، کوئی امکان نہیں تھا عوام کے ابھرنے کا، کیونکہ صحافتی ذرائع تک بک چکے تھے لیکن عوامی میڈیا،، یعنی کہ سوشل میڈیا جو کبھی قید ہو نہیں سکتا ہے نا بک سکتا ہے وہ موجود تھا چند فکرمندوں نے اس کی دیرپا، دور رس طاقت کو بروئے کار لانے کی ٹھان لی اور جٹ گئے،، اسی دوران وکی لیکس نے انکشافات کا سلسلہ شروع کیا اور اس میں تیونسی صدر زین العابدین کی بدعنوان کارستانیاں بھی سامنے آئیں اور خوب وائرل ہوئیں، ایک دن سوشل میڈیا پر اعلان ہوا اور لوگوں نے صدارتی محل کو گھیر لیا،، اور انجام کار زین العابدین آج تک تیونس سے فرار ہیں اور سعودیہ میں پناہ لیے ہوئے ہیں، 
موبائل فون پر سوشل میڈیا کے ذریعے ذہن سازی کرکے ہزاروں قارئین ہورہےہیں، ایک ایک قلمکار کے لاکھوں قارئین ہوتے جارہے ہیں، ایک ایک سرگرم کارکن کا عالمی حلقہ بن رہا ہے، ذہنوں کو ترقیاتی غذا مل رہی ہے، ضرورتمندوں کے لیے اداروں اور جماعتوں کے لیے کروڑوں کے عطیات ایک اعلان میں جمع ہوجاتے ہیں، نوجوانوں کی سمتیں متعین ہوتی ہیں، ملکی مسائل اور ترقیاتی امور کے لیے چرچا ہوتی ہیں ، وہ مسائل اور وہ نکات جو انسان دشمن طاقتیں اپنے آشیانوں کو محفوظ کرنے کے لیے عوام سے چھپاتی ہیں، اور انہیں جز وقتی اُبال میں جھونک کر ان کی زندگیاں تباہ کردیتے ہیں وہ نکات، وہ حقائق، ہم سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی قوم اور اہل وطن کے سامنے لا سکتے ہیں،مشاہدات گواہی دیتےہیں کہ اس اسلحے سے لیس قوم کے پاس لامحدود توانائی، اور اس درجہ مؤثر ہتھیار ہوجاتا ہے جس میں نا خون بہانے کی ضرورت نا سڑکیں جام کرنے کی بار بار ضرورت ہوتی ہے،، سوشل میڈیا کی سرگرمی اور اثرپذیری سے پوری دنیا متاثر ہے، 
۲۰۰۱ میں فلپائن کے صدر جوزف ایسٹراڈا سے معافی کے مطالبے کی تحریک چلی تھی اس کی ابتدا بھی سوشل میڈیا سے ہوئی تھی اور اس کا نتیجہ یہ ہوا تھا کہ جوزف کو عہدہ چھوڑنا پڑا تھا، برطانیہ، امریکہ، مشرق وسطیٰ اور ہندوستان کے بے شمار حکمرانوں اور سیاسی ظالموں کی نیندیں وکی لیکس نے سوشل میڈیا کے ذریعے ہی حرام کردی تھی، وینزویلا کے صدر ہوگو شاویز نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ سے متاثر ہوکر ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ چند دن کے اندر لاکھوں مداحوں کو جمع کرلینا ایک حسین اتفاق ہے، ہوگو شاویز نے امریکہ سے اختلافات رکھنے والے اپنے ہم افکار ممالک کیوبا اور بولیویا کو بھی سوشل میڈیا پر منظم کیا اور آج بھی یہ حقیقت ہیکہ ان ممالک کے عوام امریکہ و اسرائیل کی شدت پسندی اور انسانیت سوزی سے واقف ہیں اور ان کی پالیسیوں سے متنفر! اسی سے اندازہ لگائیے کہ سوشل میڈیا کس قدر اثر انداز ہے کہ، امریکہ اور اسرائیل نے باقاعدہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر اپنے خلاف گردش کرنے والے پیغامات کا توڑ کرنے کے لیے ایک شعبہ بنا رکھا ہے جسے ڈیجیٹل آوٹ ریچ ٹیم کہتے ہیں،اس کا کام ہی یہی ہیکہ ان کے خلاف ان کے نظریات و سرگرمیوں کے خلاف لکھے جانے والے حقائق کا توڑ کرنا، اور ان حقائق کو متعلقہ ممالک اور افراد کے خلاف کردینا، راقم کو اس کا بارہا تجربہ ہوا ہے جو آج بیان کرتاہوں کہ کئی دفعہ ہم نے امریکی و اسرائیلی پالیسیوں کے خلاف تحریر لکھی اس کے چند لمحات بعد ہی امریکی محکمہ خارجہ کے ادارے ڈیجیٹل آؤٹ ریچ شعبے نے اس کا جواب دیا اس کی مختلف صورتیں ہوا کرتی ہیں، یہ شعبے اپنے متعلق لکھے گئے حرف حرف پر نظر رکھتے ہیں اور ان کا جواب بھی دیتے ہیں، اور تعجّب خیز امر تو یہ ہیکہ ان یوروپین صحافتی شعبوں میں ہر ہر زبان چاہے وہ اردو زبان ہی کیوں نا ہو، اس کے ماہرین موجود ہوتے ہیں جو مستقل ان کی پالیسیوں اور سرگرمیوں پر ہمارے لکھے گئے تجزیات و تبصرات کو دیگر زبانوں میں منتقل کرتےہیں،صرف یہی نہیں سوشل میڈیا سماجی، فلاحی اور رفاہی مہمات میں ایک مؤثر وسیلہ ثابت ہونے لگا ہے، اور اب نیٹ ورکنگ کے ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا معاشی، تجارتی سرگرمیوں اور ان کی اشاعت و تشہیر کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، پہلے تجارتی و صنعتی برادری اپنی ایجادات کے اشتہارات کے لیے ٹیلیوژن اور اخبار کا سہارا لیتی تھی لیکن اب یہ بیشتر امور سوشل میڈیا سے انجام دیے جارہے ہیں، تعلیمی و ثقافتی سرگرمیوں میں تو سوشل میڈیا سے جس قدر استفادہ کیا جارہاہے وہ جلد ہی ایک عظیم علمی ذریعہ بھی ثابت ہوگا ویکیپیڈیا کا وجود سامنے ہے، جس قدر علمی اثاثہ محفوظ کرنا ہو اور جس نہج پر کرنا ہو آپ یہاں کرسکتے ہیں کوئی آپ پر پابندی اور روک ٹوک نہیں ہے، سوشل میڈیا کے ٹولز ہر صارف کے لیے ہر آن کھلے ہوتے ہیں اس کو استعمال کرنے کے لیے بہت زیادہ ڈگریوں اور مہارتوں کی ضرورت نہیں بسس ضرورت ہے کھرے کھوٹے کو پرکھنے کی یا کم از کم اچھائی لینے کا شعور ہو، ایسے گروپس میں رہیں جن کے منتظمین سے واقف ہوں یا کم از کم ان کے افکار کے جانکار ہوں، اور علمی و ثقافتی ادبی و ملی اور تحریکی گروپس کو تلاش کرکے ان کا حصہ بنیں، 
راقم کی سوشل میڈیا سے لانبے عرصے سے بے شمار گروپس تشکیل دیے، بطور خاص اہل مدارس کے لئے اور مدارس و کالجز کے لیے، کوشش یہی رہی کہ کسی بھی طرح ہماری قوم اس ہتھیار کی اثراندازی سے واقف ہو، اور کم از کم اس کا تعمیری استعمال کرسکے، اور اس کی باریکیوں نیز پیچ و خم سے بہت سابقہ پڑا ہے اور اس کی گیسوؤں کو سنوارنے کا کچھ کام کیا ہے، اس لیے آج یہ موضوع لے بیٹھا ہوں کہ کمیونٹی کے نوجوان ادھر اُدھر کی چیٹنگ، بے مقصد ایپلیکیشنز اور اطلاقیوں میں وقت گذاری اور جنسی تسکین کا اس سے کام لیتے ہیں اور صدی میں جوانیاں تباہ کرتےہیں اور جس تباہی میں ہمارے نوجوان ساتھی جارہے ہیں یقینًا یہ کہا جاسکتا ہے کہ برصغیر کی قومیں اس وقت سوشل میڈیا سے گمراہ ہورہی ہیں، جرائم پیشہ اور آوارہ ہوتی جارہی ہیں، انٹرنیٹ کی دنیا سے کماحقہ فائدہ واقعی یوروپین اور مصر و تیونس کی اقوام نے اٹھایا ہے، ہمارے لوگوں کا اس سے بے خبر ہونا اور اس سے فائدہ نا اٹھا پانا بلکہ غلط فایده بہت بہت تباہ کن ثابت ہوگا،کیونکہ یہ تلخ حقیقت اور کڑوی سچائی ہے کہاس وقت ہماری گنجان آبادیاں مجرموں کی آماجگاہ ہیں، جرائم پیشہ سرگرمیوں کا اڈہ ہیں اور منشیات کے سوداگروں کی بڑی منڈیاں ہیں، آج بھی ان کے رخ بدلے جاسکتے ہیں، آج بھی ہمارے نوجوان اولوالعزم ہوسکتےہیں کوئی بہت بڑے کاز کو کھڑا کرنے کی ضرورت نہیں، ان کا معالج ان کے ہاتھ میں ہے ان کی دوا اور ٹیبلیٹ ان کی جیبوں میں ہے اور وہ ہے سوشل میڈیا، بالیقین ان نوجوانوں کو ایک مخصوص ذہنیت نے اپنے سامراج کی بقاء اور اپنے شدت پسند مکھوٹوں کو محفوظ کرنے کے لیے کمال چالاکی سے منشیات کا عادی اور جرائم پیشہ بنایا ہے، تاکہ وہ مقصدیت سے ہٹے رہیں اور یونہی مر کھپ جائیں، لیکن صرف اس وجہ سے ہم انہیں ان کے ذاتی مظالم کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے،یہ انسانیت سے دغا ہوگی اپنے ضمیر سے دھوکہ اور اپنے وجود کا مفادات سے سودا ہوگا، ہمیں ان نوجوانوں کو باہر نکالنا ہوگا اس اندھیر نگری سے اجالوں اور ترقیاتی سرگرمیوں کی روشنی میں نہلانا ہوگا، یہ اصول ہے کہ تاریکی اور ظلمت غلاظت و گندھ روشنی اور پاکیزہ کوششوں کے آگے دم توڑ دیتی ہیں، اسلئے کوشش یہ کریں ہم کہ نوجوانوں کو سوشل میڈیا پر بیدار مغزی اور اولوالعزمی کی غذا پہنچائیں، ہم اس میدان میں ہیں لیکن جمانے کی کوئی خواہش نہیں ہے دور اور دیر تک کے انقلابی فائدے کا مشاہدہ کیا ہے تجربات ہوئے ہیں اس لیے شدید آرزو ہیکہ اپنی قوم کے جوان جو فکری افلاس اور ذہنی سطحیت کی وجہ سے عیش و عشرت والی سرگرمیوں میں اپنے آپ کو ختم کررہےہیں، جس سے صرف ان کا نہیں ان کے ماں، باپ، بھائی بہن، پورے گھرانے اور معاشرے کا دیوالیہ نکل رہا ہے، ان کو رخ دیا جائے، ان کی صلاحیتیں یہاں لگوائی جائیں، ان کی ارتقا کا سامان کیا جائے ، سامنے کی بات ہے، جب ہمارے نوجوان ان سرگرمیوں میں حصہ لیں گے، ملت کی زبوں صورتحال میں اپنے وجود کی افادیت سمجھیں گے تو وہ نیک مقصدیت پر گامزن ہوں گے، اور یہ راستہ ایک بیدار مغز معاشرے کی تشکیل کرے گا ۔اس سلسلے میں سب سے مؤثر ذریعہ ٹوئٹر ہے، اور ٹویٹر ٹرینڈ 
ٹویٹر ٹرینڈ کا مطلب ہوتا ہے کسی بھی مسئلے پر عالمی بیداری پیدا کرنا، اور کہیں کسی پر ظلم ہوا ہے اور ظالم پر سسٹم مہربان ہے، یا کہیں کسی کو سسٹم یا فسطائی طاقتوں سے خطرہ ہے یا کوئی پالیسی ملکی ترقیات کے آڑے آتی ہو اور صرف کارپوریٹ سیکٹر کے مفاد میں ہو جس کی وجہ سے عوام پر اذیتوں کے بادل ٹوٹ سکتے ہوں، تو آپ ایسے کسی بھی مسئلے پر ٹویٹر کے ذریعے ٹرینڈ چلائیں ۱ سے ۲ گھنٹے میں ٹویٹر پر اگر جس مسئلے پر ٹرینڈ چلایا جارہا ہے جس عنوان (ہیش ٹیگ) کے ساتھ اس عنوان کے تحت اگر چند لاکھ آرا درج ہوگئی تو آپ کا ٹرینڈ کامیاب اور بلا کسی سڑک و میدان کو بھرے آپ کسی نا کسی درجے میں مظلوموں کی مدد کرسکتے ہیں، ستائے ہوئے کی ڈھارس بندھا سکتے ہیں ، فلاحی و رفاہی اداروں. کا تعاون کرسکتے ہیں، تعلیمی مسابقت کرسکتے ہیں، اپنے افکار و نظریات کا تعارف کراسکتے ہیں، بلکہ کئی جانیں بھی محفوظ کرسکتےہیں، صرف اپنے موبائل پر چند گھنٹے اور کچھ ایم بی صرف کرکے، اسی طرح کے کئی ایک کامیاب ٹرینڈ چلانے کا تجربہ ہوا ہے، جس کے مثبت اثرات کا مشاہدہ بھی ہوا ہے، مظلوموں اور ستم رسیدوں کے حق میں زہریلی فضاؤں کو دم توڑتے دیکھا ہے، لیکن المیہ تو یہ ہے نا کہ سوشل میڈیا کی واہیاں تباہیاں بتانے والے تو بے شمار مقررین اور ناصحین ہیں جبکہ سب جانتے ہیں کہ نوجوان اسے کبھی نہیں چھوڑے گا، تو کیوں نا ہمارے دانشوران اس مؤثر عوامی صحافت کو ایک سمت دینے کی طرف قدم بڑھائیں، اور کاش کہ بیدار ذہن جوان اس کے ذریعے تعمیر و انقلاب کا عزم کریں، ہر ہر کمیونٹی کے افراد نے کچھ کیا ہو یا نا، لیکن اس پلیٹ فارم پر اپنا مضبوط قلعہ ضرور بنایاہے، بیشتر جماعتوں نے باقاعدہ سوشل میڈیا پر اپنی ڈیجیٹل آرمی بنا رکھی ہے، جس سے وہ اپنے ایک علاقائی مسئلے پر بھی پوری دنیا کے انصاف پسندوں کو متوجہ کرلیتےہیں، اس سلسلے میں رفیق محترم یاسر بھائی کی منجملہ کاوشوں میں سے ، ان کے سلسلہ وار پروگرام سرجیکل اسٹرائک نے بہترین پیش رفت کی ہے، اور اب اس کی مذاکراتی صورت قابل تحسین اور لایق صد ستائش ہے ۔ کاش کہ ہمارے نوجوان اور ہمارے علما، ٹیچرز و وکلا سب کے سب ہر فیلڈ کے ساتھی اگر سوشل میڈیا پر ایکٹیو ہوجائیں، ان سرگرمیوں کے لیے، اس بے سروسامانی کے عالم میں ظالموں کی گھیرا بندی کے لیے ڈیجیٹل آرمی کی ناگزیریت سے واقف ہوتے ہوئے ٹویٹر سے جڑ جائیں تو انقلابی فضائیں نظر آسکتی ہیں، کیونکہ جن لوگوں نے اس کے ذریعے انقلابی تاریخ رقم کی ہیں وہ کسی دوسری دنیا اور تیسری صدی کی مخلوق نہیں وہ ہم اور آپ کے ہم عصر ہی ہیں۔ 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad