تازہ ترین

ہفتہ، 3 اکتوبر، 2020

نظام آباد میں قاضی خلیل سرائے کی وقف اراضی پر ناجائز قبضہ کیخلاف کارروائی ضروری

منشائے وقف کے تحت ملت کے یتیم و یسیر طبقہ کی مدد کیلئے سخت اقدامات وقف بورڈ اور حکومت کی ذمہ داری   
 محمد ظہیر الدین جاوید این آر آئی،نائب صدر ضلع وقف کمیٹی نظام آباد و قائد مجلس اتحاد المسلمین

نظام آباد:3/ اکتوبر  محمد ظہیر الدین جاوید این آر آئی،نائب صدر ضلع وقف کمیٹی نظام آباد و قائد مجلس اتحاد المسلمین کے مطابق نظام آباد شہر میں اسٹیشن کے نزد واقع قاضی خلیل سرائے کی وقف اراضی 2530 گز پر مشتمل ہے اس وسیع اراضی پر کئی دہوں سے ناجائز قبضہ جات کرلئے گئے ہیں بتایا جاتا ہے کہ دور قدیم میں سے قاضی خلیل کی جانب سے مسافر خانہ کیلئے استعمال کیا جاتا تھا چونکہ یہاں پر ریلوے اسٹیشن اور بس اسٹانڈ قائم ہے عوام کی سہولت کیلئے مسافر خانہ کیلئے مختص کردہ یہ وقف اراضی جو آج کروڑہا روپئے مالیت کی ہے اس پر شاپنگ کامپلکس، ہوٹل، کمرشل کامپلکس تعمیر کرلئے گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وقف بورڈ کے عہدیدار ریاست بھر میں کروڑہا روپئے مالیتی قیمتی وقف اراضیات کو جس طرح لاوارث چھوڑ دیا تھا نظام آباد شہر میں بھی یہی روش کی وجہ سے آج اس قیمتی وقف اراضی پر شاپنگ کامپلکس تعمیر کرلیا گیا ہے شہر کے مسلمان یہ سوال کررہے ہیں کہ کیایہ قیمتی وقف اراضی کو دوبارہ قانونی طریقہ کار سے قبضہ میں لیتے ہوئے کیا ان ناجائز قابضین کو کرایہ دار نہیں بنایا جاسکتا کیونکہ قیمتی اراضی پر ناجائز قابضین کیخلاف کارروائی اور قبضہ کی صورت میں وقف بورڈ کو ماہانہ کروڑوں روپئے آمدنی حاصل ہوسکتی ہے جس سے ملت کے یتیم و یسیر طبقہ کا اور مستحق طلباء و طالبات کی فلاح وبہبود کے اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔


 محمد ظہیر الدین جاوید این آر آئی،نائب صدر ضلع وقف کمیٹی نظام آباد و قائد مجلس اتحاد المسلمین کے مطابق منشائے وقف کے تحت وقف جائیدادوں سے حاصل ہونے وا لی آمدنی کے اولین مستحق یتیم و یسیر لوگ ہے لیکن وقف جائیدادوں پر ناجائز قبضہ جات کی وجہ سے وقف بورڈ کو محدود آمدنی حاصل ہور ہی ہے جس سے اولین مستحق طبقہ کی فلاح وبہبود نہیں ہو پارہی ہے جس کی وجہ سے ریاست کے شہری علاقوں میں سڑکوں پر برقعہ پوش گداگر خواتین اور بچوں کی کثیر تعداد دیکھی جارہی ہے


 اس کے علاوہ اعلیٰ تعلیم کے خواہشمند طلباء و طالبات کو بھی اسکالرشپ کی اجرائی عمل میں نہیں آرہی ہے بیوہ خواتین کو ماہانہ وظیفہ بھی وقف بورڈ سے اجراء نہیں ہورہا ہے محمد ظہیر الدین جاوید نے وقف بورڈ اور حکومت تلنگانہ سے پرُ زور مطالبہ کیا کہ وقف اراضیات پر ناجائز قابضین کیخلاف کارروائی کیلئے وقف بورڈ کو عاملا نہ اختیار ات دئیے جائیں۔


 ظہیر الدین جاوید نے بتایا کہ انہوں نے نظام آباد شہر اور ضلع میں وقف جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں وقف بورڈ سے بارہا نمائندگی کی لیکن اس سلسلہ میں کوئی پیشرفت نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اب بھی وقت ہے وقف جائیدادوں پر ناجائز قابضین کیخلاف قانون کارروائی کرتے ہوئے وقف بورڈ کو ماہانہ کروڑہا روپئے کرایہ حاصل کرتے ہوئے منشائے وقف کے تحت مستحق مردو خواتین طلباء اور بچوں کی مدد کی جاسکتی ہے۔ 
نوٹ:فوٹو ای میل 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad