دیوبند5/ اکتوبر (دانیال خان)صوبہ اتر پردیش کہ آہنی ملی اور سماجی رہنما ں و سابق مرکزی وزیر صحت و رکن پارلیمنٹ قاضی رشید مسعود کے دار فانی سے دار بقا کی طرف کوچ کر جانے کی خبر عام ہوتے ہی سیاسی حلقوں اور علاقہ میں غم کی لہر دوڑ گئی اور علاقہ کے لوگ بڑی تعداد میں ان کے آخری دیدار کے لئے ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئے۔
ان کے انتقال پر اتر پردیش اردو اکیڈمی کے سابق چیئر مین ڈاکٹر نواز دیوبندی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ مرحوم نہایت ملنسار اور ہمیشہ غریب بے سہارا مظلوموں کی آواز رہے وہ ایک لمبے عرصہ تک ملک کی سیاست پر تابناک ستارے کی مانند چمکتے رہے چاہے کسی بھی پارٹی کے ساتھ رہے ہوں یا دوسری سیاسی جماعتوں سے وابستہ رہے مگرہمیشہ غریب مزدور عوام کی خدمت کو اپنا نصب العین بنایا اللہ مرحوم کی مغفرت اور پسماندگان کو صبر جمیل عطاء فرمائے۔سابق ایم ایل اے معاویہ علی نے کہا کہ قاضی رشید مسعود کانگریس کے مضبوط ستون تھے
آج ایسے وقت میں انہوں نے داعی اجل کو لبیک کہا جب ان کی ملک کو سخت ضرورت تھی ان کے انتقال سے ایسا خلاء پیدا ہوگیا ہے کہ جس کا پر ہونا ممکن ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے غم کی اس گھڑی میں ہم ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں
اور ان کے عم میں برابر کے شریق ہیں۔مسلم فنڈ دیوبند کے منیجر سہیل صدیقی،جامعہ طبیہ میڈیکل کالج کے سکیٹری ڈاکٹر انور سعید،ایڈمنسٹریٹر ڈاکٹر اختر سعید،مولانا آزاد پیرا میڈیکل کالج کے ڈائرکٹر ڈاکٹر یونس صدیقی،اسپرنگ ڈیل اسکول کے چیئر مین وسینئر کانگریس لیڈر سعد صدیقی،سابق چیئر مین دیوبند انعام قریشی،معروف ادیب سید وجاہت شاہ،جمعیتہ علماء ہند کے ضلع جنرل سکیٹری ذہین احمد،کانگریس ورکرز کمیٹی کے ضلع صدر سلیم احمد عثمانی،نیتا مظاہر حسن،تنویر اجمل دیوبندی،امداداللہ نور قاسمی،رحمت اللہ نور قاسمی،عبید اقبال عاصم،حاجی ریحان الحق،فہیم نمبردار،تحسین خان
ایٹوکیٹ،منصور انور خان ایڈوکیٹ،توصیف احمد،مولوی سکندر خان،سعید معین،اسلام الدین نظامی،سید حارث،حیدر علی اور نسیم انصاری ایڈوکیٹ نے تمام آئمہ مساجدو مدارس کے ذمہ داران سے مرحوم کے لئے ایصال ثواب کا اہتمام کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم ایک بہترین سیاست داں ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین انسان بھی تھے اللہ تعالی ان کے درجات بلند فرمائے۔ان کو جوار رحمت میں جگہ دے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطاء فرمائے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں