تازہ ترین

پیر، 5 اکتوبر، 2020

علماء دیوبند نے مولانامحمدطہ مظفرپوری کے انتقال کو علمی و اصلاحی میدان کا عظیم خسارہ قرار دیا

دیوبند5/ اکتوبر (دانیال خان)مظاہرعلوم وقف سہارنپور کے قدیم استاذمولانامحمدطہ مظفرپوری کے انتقال کو یہاں پر بھی شدت کے ساتھ محسوس کیا گیا اور علم و ادب کا نقصان قرار دیا گیا۔ان کے انتقال پر جامعتہ الشیخ حسین احمد مدنی کے مہتمم مولانا مزمل علی قاسمی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ موت ایک فطری اور حقیقی عمل ہے،یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کسی کو بھی انکار نہیں،انہوں نے بتایا کہ مرحوم کی عمراسی سال سے متجاوزتھی عربی وسطی کی کتابیں پڑھاتے تھے معقولات میں اچھادرک تھااصلاحی تعلق پاکستان کے مشہوربزرگ مولانا احسن بیگ سے تھامولاناسنن ونوافل کے بڑے پابندتھے ان کے ہزاروں شاگردان ومریدان عالم اسلام میں پھیلے ہوئے ہیں مرحوم نے تقریبا پچاس سال مظاہرعلوم کی بے لوث خدمت کی ہے

،اللہ ان کی خدمات قبول فرمائے اور مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطاء فرمائے دارالعلوم زکریا دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی محمدشریف خان قاسمی نے مرحوم کے انتقال کو علمی و اصلاحی میدان کا عظیم خسارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرحوم کے انتقال سے جو خلاء پیدا ہوا ہے وہ آسانی سے پر نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ مرحوم نے نصف صدی سے زائد عرصہ تک علمی میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں،اللہ پاک مرحوم کی علمی زریں خدمات کو شرف قبولیت سے نواز کر انکی مغفرت اور درجات بلندی کا ذریعہ بنائے

۔دارالعلوم فاروقیہ کے مہتمم مولانا نور الہدی قاسمی بستوی نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ مولانا مرحوم کو شیخ محمدزکریاکاندھلوی،مولانامحمداسعداللہ اورمفتی مظفرحسین سے دورہ حدیث پڑھنے کا شرف حاصل تھا،وہ بہت سی خصوصیات کے حوالے سے منفرد مزاج شخصیت کے حامل تھے،صاف دل اور صاف گو انسان تھے،ان کا شمار ان افراد میں ہوتا تھا جو نہایت مخلص تھے،ایک دوسرے کے ساتھ حسن سلوک،دوستی اور رفاقت میں سب سے الگ تھے

 اللہ انہیں جنت میں اعلی مقام اور پسماندگان کو صبر جمیل عطاء فرمائے۔اتر پردیش اردو اکیڈمی کے سابق چیئر مین ڈاکٹر نواز دیوبندی،کل ہند رابطہ مساجد کے جنرل سیکٹری مولانا عبداللہ ابن قمر،دارالعلوم اشرفیہ دیوبند کے مہتمم مولانا سالم اشرف قاسمی،مدرسہ اسلامیہ اصغریہ کے نائب مہتمم مولانا تجمل حسین،مولانا ابراہیم قاسمی،قاری عامر عثمانی،مولوی سکندر خان،سید وجاہت شاہ،تنویر اجمل دیوبندی،دلشاد خوشتر،شمیم کرتپوری،عبداللہ عثمانی اور شاہ عالم قاسمی نے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ مولانا مرحوم نے طویل مدت تک دینی خدمات انجام دیں،تاہم دل و دماغ ابھی اس بات کے لئے آمادہ نہیں تھا کہ وہ ہمیں داغ مفارقت دے جایں گے لیکن مشیعت ایزدی پر لبیک کہنا ہمارا تقاضہ ہے،ہم دعاء گو ہیں کہ اللہ تعالی تمام اہل خانہ کو صبر جمیل عطاء فرمائے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad