دیوبند2/ اکتوبر (دانیال خان)تر پردیش کے ہاتھرس میں اجتماعی آبروریزی کی شکار ہوئی دلت سماج کی دو شیزہ منیشا والمیکی کی موت ہو جانے کے بعد لوگوں کا غصہ پھوٹ پڑا ہے۔ اجتماعی عصمت دری کی شکار دو شیزہ کی موت پردلت سماج کے ساتھ سماجوادی پارٹی کارکنان سڑکوں پر اتر آئے جنہوں نے پارٹی کے ضلع صدر چودھری رودر سین کی ہدایت پرشہر کے منگلور روڑ پر واقع ایک بینکٹ ہال میں جمع ہوکر سہکاری گنا سمیتی کے سابق چیئر مین پروندر چودھری اور ضلع نائب صدر توفیق احمد جگی کی قیادت میں کینڈل مارچ نکال کر احتجاج کیا۔
![]() |
| فوٹو۔ کیڈل مارچ نکالتے ہوئے سماجوادی پارٹی کارکنان |
اس دوران چودھری پروندر اور توفیق احمد جگی نے کہا کہ یوگی اور مودی حکومت میں دلتوں پر ظلم ڈھائے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ متاثرہ لڑکی کو انصاف ملنا چاہئے اور اس طرح کے معاملات پر سخت قانون آنا چاہئے۔انہوں نے دواکتوبر کو سہارنپور کے گاندھی پارک میں ہونے والے دو گھنٹہ کے خاموش ستیہ گرہ پروگرام کو کامیاب بنانے کے لئے زیادہ سے زیادہ لوگوں سے سہارنپور پہنچنے کی اپیل کی۔محمد عاقل اور واجد ملک نے کہا کہ مودی اور یوگی کی حکومت میں ظلم و تشدد کی تانا شاہی چل رہی ہے۔
یوگی حکومت میں مسلسل خواتین کے ساتھ عصمت دری کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، صدام قریشی اور ذیشان عرف نجمی نے کہا کہ اتر پردیش میں قانون کا نظام خستہ حال ہے۔ یوگی حکومت ایک خاص ذات کیلئے کام کر رہی ہے اور دوسری ذات کے لوگوں پر ظلم کر رہی ہے۔انہوں نے ادھر عصمت دری کی شکار ہوئی دوشیزہ کے اہل خانہ کے کنبے کو تحفظ فراہم کئے جانے کا مطالبہ کرتے ہوئے امدادی رقم کے طور پر ایک کروڑ روپے اور کنبہ کے ایک ممبر کو سرکاری ملازمت دیئے جانے کا بھی مطالبہ کیا۔کینڈل مارچ میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں