فوٹو۔ (۱)مولانا مزمل علی قاسمی (۲)مولانا رحمت اللہ نور قاسمی (۳)مولانا ابراہیم قاسمی
دیوبند،4ستمبر(دانیال خان)فرانس کے ایک طنزیہ جریدہ چارلی ہیبڈو کے ذریعہ گستاخانہ کارٹونس کو دوبارہ شائع کئے جانے کے اعلان پر علماء،ادباءو دانشوران نے سخت غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے حکومت فرانس سے اس متنازع میگزین پر پابندی لگائے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ معروف دینی درسگاہ جامعة الشیخ حسین احمد المدنی دیوبند کے مہتمم مولانا مزمل علی قاسمی نے چارلی ہیبڈو میگزین کے ذمہ داران کی سخت مزمت کرتے ہوئے کہا کہ ان دنوں صرف ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ ساری دنیا میں یہ دیکھا جارہا ہے کہ شہرت حاصل کرنے کے خواہاں عناصر کو ہزاروں لاکھوں ڈالرس یا روپئے خرچ کرتے ہوئے اپنی تشہیر کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ شہرت، دولت حاصل کرنے کے خواہاں مرد و خواتین صرف ایک شیطانی فارمولہ پر عمل کرتے ہوئے دنیا کی ہر نعمت حاصل کررہے ہیں
اور یہ شیطانی فارمولہ اسلام اور مسلمانوں سے دشمنی ہے چنانچہ وقفہ وقفہ سے ایسے بدبخت مرد اور عورتیں منظر عام پر آرہی ہیں جو نعوذ باللہ سارے جہانوں کے خالق اللہ عزوجل، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم، دین اسلام اور مسلمانوں کے خلاف زہر اگل کر یا متنازع پوسٹ یا گستاخانہ کارٹونس اور فلمیں و ڈرامے بناکر اپنے ناپاک دنیاوی مقاصد حاصل کررہے ہیںجن پر قدعن لگائے جانا نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے فرینچ حکومت سے متنازع میگزین پر پابندی لگائے جانے اور اس کے مالکان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کئے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔دارالعلوم فاروقیہ کے نائب مہتمم مولانا رحمت اللہ نور قاسمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ساری دنیا میں چاہے وہ امریکہ ہو یا ہماراا ملک ہندوستان اسلام اور مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے والا راتوں رات مقبولیت کی بلندیوں اور اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ جاتا ہے
اور ایسے عناصر کی ہر سطح پر حوصلہ افزائی بھی کی جاتی ہے اور یہ لوگ اعتدال پسند اسلام، اصلاح پسند اسلام، روشن حیال مسلمان، مسلم خواتین کے حقوق، صنف نازک کو بااختیار بنانے، تعداد ازدواج، تین طلاق، خواتین کی ختنہ، لڑکیوں کی تعلیم، عصری علوم اور حجاب (حجاب کی مخالفت میں) کے نعرے بلند کرتے ہوئے ان کی آڑ میں اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرتے ہیں۔جس کے پیچھے یہودی لابی سرگرم رہتی ہے،مزکورہ معاملہ بھی ایسا ہی ہے انہوں نے حکومت ہند سے مزکورہ معاملہ کے متعلق حکومت فرانس سے اپنا احتجاج درج کروائے جانے اور متنازع میگزین پر پابندی عائد کرائے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔جامعہ قاسمیہ دارالتعلیم والصنعہ دیوبند کے مہتمم مولانا ابراہیم قاسمی نے کہا کہ یہ انتہائی تشویش کی بات ہے کہ فرانس میںشر پسند عناصرایک خاص مذہب کی مخالفت میں مہم چلا رہے ہیں اور وہاں کی حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے،
اگر ایسے افراد کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی تو یہ معاملہ پوری دنیا کے امن و امان کو اپنی گرفت میں لے سکتا ہے کیونکہ مسلمان سب کچھ برداشت کرسکتا ہے لیکن حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی شان اقدس میں ذرا برابر بھی گستاخی برداشت نہیں کرسکتا۔انہوں نے گستاخانہ کارٹونس دوبارہ شائع کرنے کے میگزین کے اعلان کو نہایت سنجیدگی سے لینے اور میگزین مالکان کے خلاف سخت قانونی کاروائی کئے جانے کا مطالبہ حکومت فرانس سے کیا ہے
۔واضح ہو کہ سال 2005میں ڈنمارک کے روزنامہ جی لینڈس پوسٹن نے کئی گستاخانہ کارٹونس شایع کئے تھے جنہیں دوبارہ فرانس کے ہفتہ وار اخبار نے2006میں شائع کیا تھا اور ان سب کی دیکھا دیکھی چارلی ہیبڈو نے بھی جین کا پوٹ کارٹونسٹ کے بنائے ان گستاخانہ کارٹونس کو2015میں شائع کیا تھا جس پر پوری دنیا میں غیضو غضب کی لہر دوڑ گئی تھی اور سال 2015میں چارلی ہیبڈو کے دفتر پر بندوق برداروں نے حملہ کیا تھا۔اس حملہ سے متعلق مقدمہ کے آغاز کے موقع پر چارلی ہیبڈو نے یہ شرپسند اعلان کیا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں