تازہ ترین

جمعہ، 4 ستمبر، 2020

خواجہ یونس قتل معاملہ توہین عدالت کی پٹیشن پر سماعت ایک ہفتہ کے لیئے ٹلی

ممبئی .خواجہ یونس قتل معاملے میں ملوث چار پولس والوں کو ملازمت پر بحال کئے جانے کے خلاف ممبئی ہائی کورٹ میں داخل توہین عدالت کی پٹیشن پر آج ممبئی ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس ایس ایس شندے اور جسٹس ایم ایس کارنک کے روبرو سماعت ہوئی جس کے دوران عدالت نے فریقین کو حکم دیا وہ معاملے کی اگلی سماعت پر بحث کریں اور سماعت ایک ہفتہ کے لیئے ملتوی کردی،


حالانکہ گذشتہ سماعت پر ہائی کورٹ کے حکم پر ممبئی پولس کمشنر کی جانب سے جواب داخل کیا گیا  تھاجسمیں تحریر ہے کہ اسسٹنٹ پولس انسپکٹر سچن وازے، پولس کانسٹبل راجندر تیوار، سنیل دیسائی سمیت کل 16 پولس والوں کو ملازمت پر دوبارہ بحال کیا گیا ہے تاکہ وہ کرونا وباء میں ملازمت کررہے دیگر پولس والوں کو راحت دی جاسکے کیونکہ ممبئی پولس فورس کو اضافی پولس کی ضرورت تھی

 نیز ملزمین کے خلاف مقدمہ زیر سماعت ہے لہذا انہیں ملازمت پر دوبارہ بحال کرنے میں انہیں قانونی دشواری محسوس نہیں ہوئی اس کے باوجود اگر ان کے اس فیصلہ سے عدالت کی توہین ہوئی ہے تو وہ عدالت سے غیر مشروط معافی طلب کرتے ہیں حالانکہ ان کا مقصد عدالت کے حکم کو نظرانداز کرتے ہوئے پولس والوں کو ملازمت پر بحال کرنا ہرگز نہیں تھا۔

ممبئی پولس کمشنر نے اپنے جواب میں مزید لکھا ہیکہ حالانکہ ہائی کورٹ نے7 اپریل 2004کو ان چار پولس والوں کو ملازمت سے معطل کرنے کا حکم دیا تھا لیکن اپنے فیصلہ میں یہ کہیں نہیں لکھا ہیکہ وہ انہیں دوبارہ ملازمت پر لیا نہیں جاسکتا۔  ممبئی پولس کمشنر کی جانب سے جوائنٹ پولس کمشنر نول بجاج نے ہائی کورٹ میں حلف نامہ داخل کیا ہے۔

جواب میں مزید لکھا ہیکہ روویو کمیٹی کی سفارشات کے بعد ہی ان چار پولس والوں سمیت دیگر 16 پولس والوں کو ملازمت پر بحال کیا گیا ہے جو اپنی سروس سے معطل تھے۔ممبئی پولس کمشنر کے جواب کی روشنی میں معاملے کی اگلی سماعت پر جمعیۃعلماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ مہیر دیسائی  بحث کریں گے۔

واضح رہے کہ23 دسمبر 2002  کو خواجہ یونس کو 2، دسمبر 2002 کو گھاٹکوپر میں ہونے والے بم دھماکہ کے الزام میں گرفتارکیا تھا جس کے بعد سچن وازے نے دعوی کیا تھا کہ خواجہ یونس پولس تحویل سے اس وقت فرار ہوگیا  جب اسے تفتیش کے لیئے اورنگ آبا دلے جایا جارہا تھا حالانکہ سی آئی ڈٖی نے سچن وازے کے دعوے کی نفی کرتے ہوئے معاملے کی تفتیش کے بعد سچن وازے سمیت دیگر تین پولس والوں کے خلاف خواجہ یونس کو قتل کرنے کا مقدمہ قائم کیا تھا جو فاسٹ ٹریک عدالت میں زیر سماعت ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad