تازہ ترین

ہفتہ، 6 جون، 2020

ہندی و امریکی فورسز کے نظریہ میں فرق

       از قلم۔ وحدت عالم سمستی پوری    ہفتوں سے چل رہے امریکی مظاہرین کا قومی عصبیت کے خلاف احتجاج نے یہ ثابت کردیا ہے کہ رنگ و نسل کی بنیاد پر، خاندان و قبیلہ کی بنیاد پر، اونچ و نیچ کی بنیاد پر، طاقت و کمزوری کی بنیاد پر، رئیسی و غریبی کی بنیاد پر، بڑے اور چھوٹے کی بنیاد پر، کوئی ڈکٹیٹر شپ، کوئ تفریق، کوئی بھید بھاؤ نہیں چلے گا، 

     دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک کہلانے والا امریکہ آج پوری دنیا کے سامنے ذلیل وخوار ہوتا ہوا دکھ رہا ہے، مظاہرین اور پولیس کے درمیان زبردست کشمکش ہے، عربوں ڈالر کی مالیت کا نقصان ہوچکا ہے، ہر طرف قیامت ٹوٹ پڑی ہے، چہار سو تباہ کاریاں ہی تباہ کاریاں ہیں، املاک تباہ کی جاری ہیں،  صورت حال ادھک سے ادھک تر ہوچکی ہے، فورسز نے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں، ڈونالڈ ٹرمپ اپی حکومت کے شکست وریخت کا تماشا کھلی آنکھوں دیکھ چکا ہے،، مظاہرین کے وائٹ ہاوس پر حملہ کرنے کے عزائم کو دیکھ دنیا کا سب سے طاقتور اور ماسٹر مائنڈ کہلانے والا شخص ڈونالڈ ٹرمپ زمین دوز قلعہ ہوچکا ہے، پولیس فورسز کی شکستگی کے بعد اب فوجی طاقتیں عوامی جذبات کو سرد کرنے بلکہ کچلنے کے لئے استعمال کی جارہی ہیں،

 ان سب کے باوجود اب تک لوگوں کے جذبات سرد نہیں پڑے ہیں، بلکہ اس نے اور اشتعال اختیار کر رکھا ہے اور لمحہ بہ لمحہ انکے جذبات چڑھتے سورج کی طرح عروج پکڑتے جارہے ہیں، جگہ جگہ آتش فشاں پھوٹ پڑا ہے، دکانیں، بڑے بڑے کارخانے، کمپنیاں، مولس نذر آتش ہیں، وائٹ ہاؤس کہلانے والا عظیم الشان سلطنتی محل کی روشنیاں گل ہوکر بلیک ہاؤس میں تبدیل ہوگیا ہے، 

ان سب کے باوجود پولیس والوں کا جو کردار رہا وہ مختلف ملکی تجزیاتی اعتبار سے بہت بہتر بلکہ آفریں رہا، اس لئے کہ پولیس نے پبلک پر ظلم و زیادتی کا مظاہرہ نہیں، ان پر پہاڑ نہیں توڑے، ان پر ستم نہیں ڈھائے، انہوں نے ان پر اپنی اسٹیک استعمال نہیں کیا، رائفلس اور بندوقوں کو حرکت نہیں دی،اور نہ ہی اپنی طاقت کے جوہر دکھائے، کیوں معلوم ہے، کیوں کہ وہاں کی پولیس تعلیم یافتہ اور مہذب ہے، وہاں کی پبلک کو اپنا دیشواسی سمجھتی ہے، انہیں اپنا بھائی تصور کرتی ہے، انکو اپنے ملک کا سرمایہ خیال کرتی ہے، عوام کی طاقت کو ملک کی طاقت سمجھتی ہے، اور مریکی پولیس اپنے ملک کی بقاء عوام کی بقاء اور وجود پر منحصر سمجھتی ہے،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لیکن اس کے برعکس انڈین پولیس نے اپنے ملک کے لوگوں کو جانور سمجھ رکھا ہے، انہیں اپنا شکار بنا رکھا ہے، ہر وقت انہیں اپنا لقمہ اجل بنانے کو تیار رہتی ہے، ہر لمحہ ایک مخصوص طبقہ کی تاک میں رہتی ہے،

ہر ساعت اپنی عقابی نگاہیں اقلیت پر جمائے رکھتی ہے، ابھی وہ منظر ہم نے بھلا یا نہیں ہے، جس میں ہزاروں بے گناہوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا، جس میں لاکھوں اور کروڑوں دیشواسیوں کے ساتھ درندانہ اور وحشانہ برتاؤ کیا گیا، سیکڑوں ماؤں کی گودیں اجاڑ دی گئیں، ہزاروں بے قصوروں کو جیلوں کے اندر ٹھونسا گیا، حالیہ مرکزی فساد میں سیکڑوں مظلوموں کو تہ تیغ کیا گیا، ایک مخصوص طبقہ کی دکانوں کو ملبہ میں تبدیل کردیا گیا، مقامات مقدسہ کی بے حرمتی کی گئی، ماؤں اور بیٹیوں کی عزت پر ڈاکیں ڈالے گئیں، 

فیوچر میں جو ملک کا نام روشن کرتے جو ملک کے محافظ اور پاسپاں بنتے ان پر ستم ڈھائے گئے، ان کے عزائم و ارادے کو پست کیا گیا، انہیں سڑکوں، کھیتوں اور کھلیانوں میں جانوروں کی طرح کھدیڑا گیا، معصوم بچے اور بچیوں کو چیخیں نکالنے پر مجبور کیا گیا، بلکہ حد درجے تک کی رذیل حرکتیں کی گئیں، یہ فرق اور تفاوت ہے دونوں جمہوری ملکوں کی پولیس کے درمیان ایک بین فرق، اسلے اے لوگوں کہ دو پولیس والوں سے کہ ظلم مت کرو، پاپ مت کرو، اور ڈرو اپنے بھگوان سے ڈرو اپنے اشور سے اور باز آجاؤ اپنے ان مجرمانہ حرکتوں سے اور سبق حاصل کرو ان مھذب پولس والوں کے کردار سے جس نے کسی پر اپنی بندوق تک نہیں تانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انڈین پولیس شرم کرو۔۔۔۔ شرم کرو، شرم کرو

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad