تازہ ترین

ہفتہ، 6 جون، 2020

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عظمت

محمد عباس دھالیوال، 
مالیر کوٹلہ،پنجاب. 
رابطہ 9855259650 
Abbasdhaliwal72@gmail.com 
عشرہ مبشرہ میں سے ایک صحابی رسول حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ ہیں آپ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خسر اور تاریخ اسلام کی وہ اہم ترین و عظیم شخصیت ہیں جن کا شمار علماء و زاہدین صحابہ میں ہوتا ہے۔ آپ کی پیدائش مکہ مکرمہ میں 583ء میں ہوئی. نام ونسب کے اعتبار سے عمر بن خطاب بن نفیل بن عبد العزّٰی بن ریاح بن عبد اللہ بن قرط بن زراح بن عدی بن کعب بن لوّیٰ بن فہربن مالک۔ آپ کی والدہ کا نام خنتمہ تھا جو عرب کے مشہور سردار ہشام بن مغیرہ کی بیٹی تھیں.

ابو بکر صدیق کی وفات کے بعد 23 اگست سنہ 634ء مطابق 22 جمادی الثانی سنہ 13ھ کو مسند خلافت کو سنبھالا۔ جب بھی دنیا کے انصاف پسند حکمرانوں کا ذکر کیا جاتا ہے. عمر بن خطاب ایک باعظمت، انصاف پسند اور عادل حکمران تسلیم کیے جاتے ہیں، آپ کی عدالت میں مسلم و غیر مسلم دونوں کو یکساں انصاف ملا کرتا تھا، عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا یہ عدل و انصاف انتہائی مشہور رہتی دنیا تک کے لوگوں کے لئے ایک لاثانی نظیر بنا ہوا ہے یہاں تک کہ جب ہندوستان آزاد ہوا تو بابائے قوم مہاتما گاندھی نے ایک آدرش و آئڈیئل حکومت کے طور پر ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور عمر بن خطاب کی حکمرانی کی مثال دی. 

سیدنا حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تاریخِ اسلام کی وہ نامور شخصیت ہیں جو جرأت و بہادری کی وجہ سے قبولِ اسلام سے قبل ہی شہرت کے حامل تھے۔ امام ترمذی نے بیان کیا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کی اسی جرأت کی وجہ سے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بحضورِ الہی التجاء کی: اے اللہ! عمر بن خطاب اور عمرو بن ہشام (ابوجہل) میں سے اپنے پسندیدہ بندے کے ذریعے اسلام کو غلبہ اور عزت عطا فرما۔ اللہ رب العزت نے اپنے محبوب کی دعا قبول کرتے ہوئے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ذریعہ اسلام کو عزت دی۔ آپ رضی اللہ عنہ کے قبولِ اسلام سے قبل مسلمان مشرکینِ قریش سے چھپ کر عبادات کیا کرتے تھے لیکن جب آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا، تو آپ رضی اللہ عنہ نے اعلان کیا کہ آج سے مسلمان عبادات چھپ کر نہیں بلکہ علی الاعلان کیا کریں گے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ:

’’بے شک سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا قبولِ اسلام ہمارے لیے فتح تھی۔ خدا کی قسم ہم بیت اللہ میں نماز پڑھنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے، مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وجہ سے ہم نے مشرکین کا مقابلہ کیا اور خانہ کعبہ میں نمازیں پڑھنا شروع کیں۔‘‘

اُس دن سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا لقب فاروق رکھ دیا گیا۔ یعنی حق و باطل میں فرق کرنے والا۔ جب مسلمانوں نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تو وہاں نماز کے لیے بلانے کا مسئلہ پیش آیا، جس پر مختلف آراء پیش کی گئیں، مگر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ اس اعلان کے لیے ایک شخص مقرر کرلیا جائے۔ گویا اذان جیسا شعارِ اعظم آپ رضی اللہ عنہ کی رائے سے وجود میں آیا۔ اسیرانِ بدر کے بارے میں اختلاف کی صورت میں تائیدِ الہٰی آپ کی رائے کے موافق تھی۔ حجاب کی آیت بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کی تائید میں نازل ہوئی۔

آپ کو لقب فاروق کنیت ابو حفص، لقب و کنیت دونوں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عطا کردہ ہیں۔ یہی نہیں بلکہ آپ کا نسب نویں پشت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جا ملتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نویں پشت میں کعب کے دو بیٹے ہیں مرہ اور عدی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مرہ کی اولاد میں سے ہیں، جبکہ عمر عدی کی اولاد میں سے ہیں۔عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ دور جہالت میں عرب کے ان چند لوگوں میں سے تھے جو پڑھ لکھ سکتے تھے۔ علم انساب، سپہ گری، پہلوانی اور مقرری میں آپ طاق تھے۔ جبکہ عمراور ان کے باپ اور ان کے دادا تینوں انساب کے بہت بڑے ماہر تھے. "آپ عکاظ کے دنگل میں کشتی لڑا کرتے تھے۔“

ہجرت کے وقت کا وہ واقعہ بھی بہت مشہور ہے کہ جب کفارِ مکہ کے شر سے بچنے کے لیے سب نے خاموشی سے ہجرت کی مگر آپ کی غیرت ایمانی نے چھپ کر ہجرت کرنا گوارا نہیں کیا۔ آپ نے تلوار ہاتھ میں لی کعبہ کا طواف کیا اور کفار کے مجمع کو مخاطب کر کے کہا " تم میں سے اگر کوئی شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کی بیوی بیوہ ہو جائے اس کے بچے يتيم ہوجائیں تو وہ مکہ سے باہر آکر میرا راستہ روک کر دیکھ لے" مگر کسی کافر کی ہمت نہ پڑی کہ آپ کا راستہ روک سکتا۔ مواخات مدینہ میں قبیلہ بنو سالم کے سردار عتبان بن مالک کوآپ کا بھائی قراردیا گیا۔

عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالٰی عنہ سے وابستہ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ جن دس صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کو دنیا میں ہی جنت کی بشارت دے دی گئی تھیں وہ مندرجہ ذیل ہیں ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ، عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ، عثمان غنی رضي اللہ تعالٰی عنہ، علی مرتضی رضي اللہ تعالٰی عنہ، طلحہ رضي اللہ تعالٰی عنہ، زبیر رضي اللہ تعالٰی عنہ، عبدالرحمن رضی اللہ تعالٰی عنہ، سعد رضي اللہ تعالٰی عنہ، سعید رضی اللہ تعالٰی عنہ اور ابوعبیدہ رضي اللہ تعالٰی عنہ۔

عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بارے میں آپ صل اللہ علیہ و سلم نے مختلف موقعوں پر کہے گئے اقوال یقیناً عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی اسلام میں قدر و منزلت اور عظمت ورفعت کو بیان کرتے ہیں. جیسے آپ کا فرمان ہے کہ 
”اے عمر! شیطان تم کو دیکھتے ہی راستہ کاٹ جاتا ہے۔“اسی طرح ایک دوسری جگہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ " جبرائیل و میکائیل میرے دو آسمانی وزیر ہیں جب کہ شیخین یعنی کہ ابوبکر و عمر میرے دو زمینی وزیر ہیں۔“

”میری امت میں اللہ کے دین کے معاملے میں سب سے سخت عمر ہیں۔“
جب ہم آپ کی حکمرانی والی حیات کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس میں ہمارے لیے بہت سبق آموز واقعات ملتے ہیں. ایک مرتبہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد میں منبرِ رسول پر کھڑے خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران ایک غریب شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ "اے عمر ہم تیرا خطبہ اس وقت تک نہیں سنیں گے جب تک یہ نہ بتاؤ گے کہ یہ جو تم نے کپڑا پہنا ہوا ہے وہ بیت المال سے لوگوں میں تقسیم ہونے والے اس حصے سے زیادہ ہے جو دوسروں کو ملا تھا"۔ تو عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے کہا کہ مجمع میں میرا بیٹا عبد اللّٰہ موجود ہے، عبداللّٰہ ابن عمر کھڑے ہو گئے۔ عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے کہا کہ بیٹا بتاؤ کہ تیرا باپ یہ کپڑا کہاں سے لایا ہے ورنہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں قیامت تک اس منبر پر نہیں چڑھوں گا۔ عبداللّٰہ نے بتایا کہ بابا کو جو کپڑا ملا تھا وہ بہت ہی کم تھا اس سے ان کا پورا کپڑا نہیں بن سکتا تھا۔ اور ان کے پاس جو پہننے کے لباس تھا وہ بہت خستہ حال ہو چکا تھا۔ اس لیے میں نے اپنا کپڑا اپنے والد محترم کو دے دیا۔

ابن سعد فرماتے ہیں کہ ہم لوگ ایک دن امیر المؤمنین کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک کنیز گزری۔ بعض کہنے لگے یہ باندی ہے۔ آپ (عمر) نے فرمایا کہ امیر المؤمنین کو کیا حق ہے وہ خدا کے مال میں سے باندی رکھے۔ میرے لیے صرف دو جوڑے کپڑے ایک گرمی کا اور دوسرا جاڑے کا اور اوسط درجے کا کھانا بیت المال سے لینا جائز ہے۔ باقی میری وہی حیثیت ہے جو ایک عام مسلمان کی ہے۔ آپ جب بھی کسی بزرگ کو عامل بنا کر بھیجتے، تو یہ شرائط سنا دیتے تھے کہ گھوڑے پر کبھی مت سوار ہونا۔عمدہ کھانا نہ کھانا۔باریک کپڑا نہ پہننا۔حاجت مندوں کی داد رسی کرنا، ضرورت مندوں کی مدد کرنا اور بے سہارا کو سہارا دینا۔

امام مسلم نے باب الوقف میں بیان کیا ہے کہ فتح خیبر کے بعد خیبر کی زمین مجاہدین میں تقسیم کی گئی، زمین کا ایک ٹکڑا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حصے میں آیا، مگر آپ نے زمین کا وہ ٹکڑا اللہ کی راہ میں دے کر اسلام میں وقف کی بنیاد رکھی۔

قبولِ اسلام کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایسا والہانہ عشق تھا جس کی مثال کم ملتی ہے۔ ایک مرتبہ ایک مسلمان اور یہودی کسی تنازع کے حل کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ حضور سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شواہد و دلائل کی بنیاد پر فیصلہ یہودی کے حق میں دے دیا مگر وہ منافق مسلمان مقدمہ اس امید پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی عدالت میں لے آیا کہ شاید اسلام کی حمیّت میں فیصلہ میرے حق میں آجائے۔ مگر جب آپ کو معلوم ہوا کہ اس مقدمہ کا فیصلہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماچکے ہیں تو فوراً تلوار اٹھائی اور اس منافق کا سر قلم کردیا جس نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فیصلہ تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا۔

اسلام میں کفار کے ساتھ لڑی گئی مختلف جنگوں میں آپ پیش پیش رہے. آپ ذیل غزوات و واقعات میں شریک رہے۔ ان میں سے غزوۂ بدر، غزوہ احد، غزوہ خندق بیعت الرضوان اورصلح حدیبیہ، غزوہ خیبر، فتح مکہ غزوہ حنین، غزوہ تبوک حجۃ الوداع ہیں اپنے دورِ حکومت میں عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ ﻧﮯ مسلمانوں و دنیا ﮐﻮ ﺍﯾﺴﮯ بہترین نظام سے نوازا ﺟﻮ ﺍٓﺝ ﺗﮏ ﭘﻮﺭﯼ دنیائے اسلام ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺋﺞ ﮨﯿﮟ جیسے کہ آپ نے ﺳﻦ ﮨﺠﺮﯼ ﮐﺎ ﺍﺟﺮﺍ ﮐﯿﺎ. جیل ﮐﺎ ﺗﺼﻮﺭ ﺩﯾﺎ مؤﺫﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻨﺨﻮﺍﮨﯿﮟ ﻣﻘﺮﺭ ﮐﯿﮟ. مساجد ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮐﺎ ﺑﻨﺪ ﻭ ﺑﺴﺖ ﮐﺮوﺍﯾﺎ. ﻣﺤﮑﻤﮧ پولیس کو تشکیل دیا. اس کے ساتھ ہی اﯾﮏ ﻣﮑﻤﻞ ﻋﺪﺍﻟﺘﯽ ﻧﻈﺎﻡ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﺭﮐﮭﯽ اور آبپاشی کے ﻧﻈﺎﻡ کو ﻗﺎﺋﻢ کیا۔ فوجی ﭼﮭﺎﻭٔﻧﯿﺎﮞ ﺑﻨﻮﺍﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻓﻮﺝ ﮐﺎ ﺑﺎﻗﺎﻋﺪﮦ ﻣﺤﮑﻤﮧ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﯿﺎ. اس کے علاوہ آپ نے ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﺩﻭﺩﮪ ﭘﯿﺘﮯ ﺑﭽﻮﮞ، ﻣﻌﺬﻭﺭﻭﮞ، ﺑﯿﻮﺍﻭٔﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ آسرا و بے سہارا لوگوں ﮐﮯ ﻭﻇﺎﺋﻒ ﻣﻘﺮﺭ ﮐﯿﮯ. 

ﺍٓﺝ ﺑﮭﯽ ﺟﺐ ﮐﺴﯽ ﮈﺍﮎ ﺧﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﻂ ﻧﮑﻠﺘﺎ ﮨﮯ، پولیس ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻭﺭﺩﯼ ﭘﮩﻨﺘﺎ ﮨﮯ، ﮐﻮﺋﯽ ﻓﻮﺟﯽ ﺟﻮﺍﻥ 6 ﻣﺎﮦ ﺑﻌﺪ ﭼﮭﭩﯽ ﭘﺮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﺴﯽ ﺑﭽﮯ، ﻣﻌﺬﻭﺭ، ﺑﯿﻮﮦ ﯾﺎ ﺑﮯ ﺍٓﺳﺮﺍ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﻭﻇﯿﻔﮧ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻣﻌﺎﺷﺮﮦ، ﻭﮦ ﺳﻮﺳﺎﺋﭩﯽ، ﺑﮯ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﮐﻮ ﻋﻈﯿﻢ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ. 

جن کے بارے میں مشرکین اعتراف کرتے ہیں کہ "اسلام میں اگر ایک عمر اور ہوتا تو آج دنیا میں صرف اسلام ہی دین ہوتا." یہاں تک کہ آپ کے ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺭﺳﻮﻝ اکرم صل اللہ علیہ والہ سلام ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ،ﻣﯿﺮﮮ ﺑﻌﺪ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﺒﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻋﻤﺮ ﮨﻮتا-

 عمر ہی وہ گوھر نایاب تھے جنہوں نے" نیب" کا ادارہ بنایا تھا اور عمر ﻧﮯ ہی ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﺣﮑﻤﺮﺍﻧﻮﮞ، ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﻋﮩﺪﯾﺪﺍﺭﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﻟﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﺛﺎﺛﮯ ﮈﮐﻠﯿﺌﺮ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎﺗﺼﻮﺭ ﺩﯾﺎ اور ﺑﮯ ﺍﻧﺼﺎﻓﯽ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺟﺠﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﺰﺍ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﺎ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ. جس کی وجہ سے اس وقت کی اسلامی ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﮐﻼﺱ ﮐﯽ ﺍﮐﺎﻭٔﻧﭩﺒﻠﭩﯽ (accountability) یا جواب دیہی کو یقینی بنایا گیا. آپ کہتے تھے کہ ﺟﻮ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﻋﺪﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﻭﮦ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮯ ﺧﻮﻑ ﺳﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ. ﺍٓﭖ ﮐﺎ ﻓﺮﻣﺎﻥ ﺗﮭﺎ سید القوم خادمھم (ﻗﻮﻡ ﮐﺎ ﺳﺮﺩﺍﺭ ﻗﻮﻡ ﮐﺎ ﺳﭽﺎ ﺧﺎﺩﻡ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ) یہاں تک کہ آپ کی ﻣﮩﺮ ﭘﺮ یہ عبارت رقم تھی کہ '’ﻋﻤﺮ! ﻧﺼﯿﺤﺖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﻮﺕ ﮨﯽ ﮐﺎﻓﯽ ﮨﮯ‘‘۔ ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﺩﺳﺘﺮﺧﻮﺍﻥ ﭘﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﺩﻭ ﺳﺎﻟﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﮯ ﮔﺌﮯ. ﺍٓﭖ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺳﺮ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺍﯾﻨﭧ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺳﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔

 ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﮐﺮﺗﮯ ﭘﺮ 14ﭘﯿﻮﻧﺪ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﭘﯿﻮﻧﺪﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺳﺮﺥ ﭼﻤﮍﮮ ﮐﺎ ﭘﯿﻮﻧﺪ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﺎ۔ ﺍٓﭖ ﻣﻮﭨﺎ ﮐﮭﺮﺩﺭﺍ ﮐﭙﮍﺍ ﭘﮩﻨﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍٓﭖ ﮐﻮ ﻧﺮﻡ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺭﯾﮏ ﮐﭙﮍﮮ ﺳﮯ ﻧﻔﺮﺕ ﺗﮭﯽ۔ ﺍٓﭖ جب بھی ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﻋﮩﺪﮮ ﭘﺮ ﻓﺎﺋﺰ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺛﺎﺛﻮﮞ ﮐﺎ ﺗﺨﻤﯿﻨﮧ ﻟﮕﻮﺍ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺎﺱ ﺭﮐﮫ ﻟﯿﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﻋﮩﺪﮮ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺛﺎﺛﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺿﺎﻓﮧ ہو ﺗﺎ ﺗﻮ ﺍٓﭖ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﮐﺎﻭٔﻧﭩﺒﻠﭩﯽ (Accountability) ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ. اسی طرح ﺍٓﭖ ﺟﺐ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﮔﻮﺭﻧﺮ ﺑﻨﺎکر بھیجتے ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ کہ کبھی ﺗﺮﮐﯽ ﮔﮭﻮﮌﮮ ﭘﺮ ﻧﮧ ﺑﯿﭩﮭﻨﺎ، ﺑﺎﺭﯾﮏ ﮐﭙﮍﮮ ﻧﮧ ﭘﮩﻨﻨﺎ، ﭼﮭﻨﺎ ﮨﻮﺍ ﺍٓﭨﺎ ﻧﮧ ﮐﮭﺎﻧﺎ، ﺩﺭﺑﺎﻥ ﻧﮧ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﻓﺮﯾﺎﺩﯼ ﭘﺮ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﺑﻨﺪ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﺎ۔ ﺍٓﭖ کا یہ بھی ﻓﺮﻣﺎن تھا کہ ﻇﺎﻟﻢ ﮐﻮ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﺩﯾﻨﺎ ﻣﻈﻠﻮﻣﻮﮞ ﭘﺮ ﻇﻠﻢ ﮨﮯ. ﺍٓﭖ ﮐﺎ ﯾﮧ ﻓﻘﺮﮦ ﺍٓﺝ بھی ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺣﻘﻮﻕ ﮐﮯ ﭼﺎﺭﭨﺮ ﮐﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ: "ﻣﺎﺋﯿﮟ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺍٓﺯﺍﺩ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ، ﺗﻢ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﺐ ﺳﮯ ﻏﻼﻡ ﺑﻨﺎﻟﯿﺎ۔"

 آپ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ کرتے تھے کہ "ﻣﯿﮟ ﺍﮐﺜﺮ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﻮﮞ: "ﻋﻤﺮ ﺑﺪﻝ ﮐﯿﺴﮯ ﮔﯿﺎ۔‘‘
ﺍٓﭖ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﺗﮭﮯ، ﺟﻨﮩﯿﮟ ’’ﺍﻣﯿﺮ ﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ‘‘ ﮐﺎ ﺧﻄﺎﺏ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ. 
اللہ سے ڈر و خوف کا یہ عالم تھا کہ ﺍٓﭖ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ: ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﻓﺮﺍﺕ ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺘﺎ ﺑﮭﯽ ﺑﮭﻮﮎ ﺳﮯ ﻣﺮ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺳﺰﺍ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﮐﻮ ﺑﮭﮕﺘﻨﺎ ﮨﻮﮔﯽ. 

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تاریخِ اسلام میں ایسی شخصیت ہیں جن کا دورِ خلافت قیامت تک آنے والے حکمرانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں اسلامی سلطنت کو اتنی وسعت ملی کہ فارس و روم جیسی سلطنتیں آپ کے عہد میں فتح ہوئیں۔ اسی طرح مصر سے لے کر آذربائیجان تک کے علاقے فتح ہوئے۔ سلطنت کی وسعت کے ساتھ ہی انتظامی شعبہ جات کے قیام کی ضرورت محسوس ہوئی۔

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور حکومت کا نظامِ عدل و انصاف آج بھی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ آپ سب سے پہلے خود عدل پسند بنے اور مثال بن کر دکھایا، پھر اپنے عمال اور رعایا میں عدل و انصاف قائم کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نظامِ عدل میں اصولِ مساوات کا لحاظ رکھتے اور کسی قسم کا امتیاز روا نہ رکھتے۔

آپ رضی اللہ عنہ کی کوشش ہوتی تھی کہ رعایا کے حالات زیادہ سے زیادہ خود معلوم کریں۔ ایک دفعہ سفرِ شام سے واپسی کے دوران راستے میں ایک خیمہ دیکھا، سواری سے اترے، ایک بوڑھی عورت نظر آئی، اس سے پوچھا عمر کا کچھ حال معلوم ہے؟ کہنے لگی: شام سے روانہ ہوچکا ہے مگر خدا اسے پوچھے، مجھے اس کی طرف سے آج تک ایک جبہ بھی نہیں ملا۔ آپ نے کہا: عمر کو اتنی دور کا حال کیسے معلوم ہوسکتا ہے؟ بولی: اگر عمر کو رعایا کے حالات معلوم نہیں تو خلافت کیوں کرتا ہے؟ اس جواب پر آپ پر رقت طاری ہوگئی اور رونے لگے۔ پھر اس عورت کو ضروریات زندگی کی اشیاء بہم پہنچائیں۔

یہ وہ طرزِ حکومت تھا جس نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت کو آج بھی اسی طرح زندہ رکھا ہوا۔ آج بھی لوگ اچھی حکمرانی کے لیے ان کے دورِ خلافت کی مثالیں دیتے ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت کی بے شمار مثالیں ایسی ہیں جو آج کے حکمرانوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ نظامِ حکومت چلانے کے لیے ایسے باکردار اور اہل لوگوں کو ساتھ ملانا ہوگا جن کے اندر منافقت نہ ہو، ملک و قوم اور دینِ اسلام کے لیے مخلص ہوں اور اپنی تمام تر صلاحیتوں کو خلوصِ نیت اور صدق کے جذبات کے ساتھ قوم کی بہتری کے لیے بروئے کار لائیں۔

ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﻋﺪﻝ و انصاف کی ﺣﺎﻟﺖ کا اندازہ اس بات سے ہی لگایا جا سکتا ہے کہ ﺍٓﭖ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﺍٓﭖ ﮐﯽ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﮐﮯ ﺩﻭﺭ ﺩﺭﺍﺯ ﻋﻼﻗﮯ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﭼﺮﻭﺍﮨﺎ ﺑﮭﺎﮔﺘﺎ ﮨﻮﺍ ﺍٓﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﭼﯿﺦ ﮐﺮ ﺑﻮﻻ: ’’ﻟﻮﮔﻮ! ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮨﻮﮔﯿﺎ۔‘‘ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺕ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ "ﺗﻢ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﺳﮯ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﻣﯿﻞ ﺩﻭﺭ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﮨﻮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﺎﻧﺤﮯ ﮐﯽ ﺍﻃﻼﻉ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺩﯼ۔‘ اس پہ چرواہے کا جواب تھا کہ ’’ﺟﺐ ﺗﮏ ﻋﻤﺮ ﺯﻧﺪﮦ ﺗﮭﮯ، ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮭﯿﮍﯾﮟ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﺑﮯ ﺧﻮﻑ ﭘﮭﺮﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﺭﻧﺪﮦ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍٓﻧﮑﮫ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ نہیں دیکھتا ﺗﮭﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﺍٓﺝ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﺍﯾﮏ ﺑﮭﯿﮍﯾﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮭﯿﮍ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﻟﮯ ﮔﯿﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮭﯿﮍﯾﮯ ﮐﯽ ﺟﺮﺍٔﺕ ﺳﮯ ﺟﺎﻥ ﻟﯿﺎ ﮐﮧ ﺍٓﺝ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻋﻤﺮ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ۔'' 

اس سے پہلے غلام ابو لولو فیروز نے آپ پہ فجر کی نماز میں مسجد نبوی میں خنجر سے حملہ کیا اور تین جگہ وار کیے۔ چنانچہ آپ ان زخموں سے جانبر نہ ہو سکے اور 26 ذوالحجہ 23 ھجری میں اس دنیائے فانی سے رخصت ہو گئے۔ آپ کے بعد اتفاق رائے سے عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو امیر المومنین کے طور پر منتخب کیا گیا۔


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad