تازہ ترین

ہفتہ، 30 مئی، 2020

خدا کرے تیرا غرور بھی کبھی ٹوٹے

بسم اللہ الرحمن الرحیم 
از: محمد طاسین ندوی 
اس کارگہ عالم میں اللہ تبارک وتعالی نے  بہت ساری مخلوقات پیدا فرمایا  انسان،حیوان،نباتات وجمادات اور نوع بنوع کے لیکن سب کی تخلیق  اول الذکر کے لئے ہی کی گئی کیونکہ وہ حیوان ناطق ہے اسے گاہ بگاہ ان ساری چیزوں کی احتیاج ہوتی ہے کیونکہ اللہ نے اسی حضرت انسان کے لئے پورے عالم کو مسخر کردیا ہے ہر ادنی و اعلی،ارفع و ابتر میں انسان محترم کے لئے خیر پنہا ہے،ہم انسان تو ضرور ہیں لیکن  انسانیت کسی سنار کی دوکان پر کان چھیدوا رہی ہے ایسا کیوں؟ اگرعالمی تناظر میں دیکھا جائے تو پورا کرۂ ارض جہاں سے امن و شانتی انسانیت دوستی کی صدائے بازگشت بلند ہوتی تھی اس سرزمین پر انسانیت سوز، ہوش ربا،دل خراش، جاں گسل واقعات آئے دن رونما ہورہے ہیں کہاں تک اعداد و شمار میں لایا جائے..

 سفینہ چاہئیے اس بہر بیکراں کے لئے
اور ایک دو زخم نہیں جسم ہیسارا چھلنی
یہ مصرعہ آج کے حالات پر مکمل منطبق ہوتا نظر آرہا ہے 
کورونا وائرس یہ ایک آفت ناگہانی یا خود ساختہ وبا جو بھی ہو اس کے آڑ میں لاک ڈاؤن اورہر وہ دلدوز اعمال وجود میں آرہے  ہیں جس سے انسانیت ناک رگڑتی گھٹنہ ٹیکتی نظر آرہی ہے ابھی حالیہ واقعہ مظفر پور اسٹیشن کا کس سے مخفی ہے اور اس طرح کے متعدد واردات و واقعات رونما ہوئے ہیں جس سے انسانیت بالکل عریاں نظر آرہی ہے بہر حال ہوا یہ ایک خاتون اور اس کے دو چھوٹے جگر پارے جو پیادہ پا اپنی منزل مقصود کے لئے نکلی چلتے چلتے تھک کر چور ہوئی اور سستانے اور آرام کی خاطر پلیٹ فارم کی فرش پر دراز ہوئی تو کسے معلوم تھا کہ یہ لیٹنا ایسا لیٹنا اور ایسا آرام ہوگاکہ  اب جگنا محال ہی نہیں مستحیل ہوگا چنانچہ وہ بے  چاری ابدی نیند سوجاتی ہے اور اس کے بچے میں سے کوئی اپنی ماں کو جگانے کے لئے سر پر پانی انڈیل رہا تو کوئی اس کی تنی چادر کو کھینچ رہا ہے کہ ان کی ماں جگ جائے اور اسے اپنے آغوش عاطفت میں لے چمکارے پیار کرے لیکن ایسا کیسے ممکن تھا وہ تو جان کی بازی ہار چکی تھی اب اسے کون جگا سکتا تھا اس نے ہمیشہ ہمیش کے لئے داعی اجل کو لبیک کہا اپنے نابالغ و نادار پیاروں کو روتا ہوا چھوڑ دیا.اور بھی ایسے بہت سے واقعات سامنے آچکے ہیں جو ذی ہوش لوگوں سے قطعا مخفی نہیں ایسا کیونکر ہوا اس کے بارے میں ہر خاص و عام، ہر پڑھا لکھا و ان پڑھ نے ضرور سوچا ہوگا تو یقینا وہ اس نتیجہ پر پہنچیہونگے کہ مانوتا کی کمی اور دل درد مند سے دوری ضرور ہے اور کیسے یہ نتیجہ اخذ نہ کیا جائے جبکہ انسانیت مرچکی ہے حکومتیں اپنی سیاست چمکا رہی ہیں، اپنی کرسی کی فکر میں سر گرداں و حیراں ہیں لیکن یہ بھول چکی ہے کہ جس نے اسے یہ تخت و تاج عطا کیا ہے وہی ذات سیکنڈوں میں اسے تاراج و سبوتاژ کرنے پر بھی قادر ہے 

قارئیں کرام! 
 یہ کیسی دانائی،زیرکی،دانشمندی، دانشوری، کے اپنا الو سیدھا کرنے کے لئے  مواطن و مقیم کی جان کی کوئی قیمت نہ رہ جائے جس حکومت و قیادت نے لاک ڈاؤن کیا تھا کہ حضرت انسان کو وبا سے بچایا جاسکے لیکن کیا وہ اس پر قادر نہیں تھی کہ کام کرنے والے مزدور پیشہ مردو زن کو انکے اپنیاپنیوطن تک پہنچانے کا حکم صادر کرکہ انکا اپنا وطن پہنچنا یقینی بنایا جاسکے  یقینا حکومت ایسا کرسکتی تھی لیکن وہ حکومت جس کے اندر حس ہو انسانیت باقی ہو دوسروں کے دکھ و درد اور کرب کو اپنا دکھ درد اور کرب سمجھتی ہو ایسا کر سکتی ہے  جو حکمراں عوام الناس کے ٹیکس سے پلتے ہوں بڑے بڑے محلوں میں داد عیش دیتے ہوں اور اپنے خوردو نوش اور پہناوے پر ملکی سرمایہ کو موروثی جائداد سمجھ کر بے تہاشہ خرچ کرتے ہوں اس سے ایسا ممکن نہیں کے اپنے علاوہ دوسروں کا بھلا کرے.ایاللہ تبارک وتعالی  وہ دن لا کہ ان نام نہاد قائدین اور ارباب اقتدار کے انا کو التماس سے بدل دے اورانکو اپنی اوقات یاد آجائے

خدا کرے تیرا غرور بھی کبھی ٹوٹے
اَنا کو بنتے ہوئیالتماس دیکھوں میں
   ــــــ ـــــ ـــــــ ــــــ ـــــــ ــــــــ  ــــــــ

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad