تازہ ترین

ہفتہ، 30 مئی، 2020

یواے پی اے،قانون کی شکارصفورازرگر

ازقلم۔محمدقمرانجم قادری فیضی
رابطہ نمبر۔6393021704
ہندوستان میں غیرقانونی سرگرمیوں کو روکنے کے لئی ایک قانون  یواے پی اے بنایا گیا تھاجسکی باریمیں کہاجاتاہے کہ یہ ایسا قانون ہے جسمیں ضمانت ملنا مشکل ہوتاہے اس قانون کو سمجھنے کیلئے بس اتناہی سمجھ لینا کافی ہوگا کہ جس پر بھی یہ قانون لگ جاتاہے پھر وہ سیدھا مجرم ہوجاتاہے اسکے برعکس دیگر قوانین میں یہ ہے کہ جب تک عدالت سیجرم ثابت نہیں ہوتا اس وقت تک وہ مجرم نہیں ہوتامگر، یوایپی اے، کیتحت وہ سیدھا مجرم گرداناجاتاہے جیسے کسی  کودہشت گردی کے الزام میں اٹھایا جاتاہے تووہ فوراً دہشت گرد قرار دے دیا جاتاہیویسے ہی دہلی پولیس نے سی اے اور این آر سی کیخلاف احجاجات کرنیوالوں کو کچھ دنوں سیتلاش تلاش کراسی قانون کے تحت اٹھارہی ہے اور جیلوں میں قید وبند کی زندگی گزارنیپر مجبور ومقہور کررہی ہے اسی کے تحت، صفورازرگر، کو بھی اٹھایاگیاہیصفورازرگر کون ہیں۔

صفورازرگر کشمیرکے کستواڑ ضلعے کی رہنے والی ہیں۔جامعہ ملیہ اسلامیہ کی ایک ریسرچ اسکالر ہیں اور جامعہ کوآرڈینیشن کمیٹی(جیسی سی) کی میڈیا کوآرڈینیٹرہیں، ان پر ماہ فروری میں شمالی مشرق دہلی میں ہونے والے فسادات کے اہم سازشی ہونیکا الزام لگایا گیاہے سی ایاے، این آر سی، کیخلاف پورے ملک میں بہت سارے شہروں میں پُرامن احتجاجات ہوئے اور یہ احتجاجات کئی مہینوں تک چلے، میڈیا اور حکومت نے انکو بدنام کرنے کا کبھی بھی کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیا،کبھی بریانی کے بہانے،کبھی گولی چلانے اور کبھی پولیس کی بربربیت کیبہانے سے،بدنام کرنے کی ہر ممکنہ طورپر کوششیں کی گئیں مگر خاطرخواہ کامیابی نہیں ملی، چند ہندتوا سنگھیوں نے ان پر گولیاں لاٹھیاں بھی چلائیں، مگر ان کے پائے استقلال میں کوئی فرق نہیں پڑا، جب دشمنوں نے اس چال میں کامیابی حاصل نہیں کی تو پھر سازشاً ملک کی راجدھانی دہلی میں ایک خوفناک فساد کروایاگیا، جس میں بے گناہوں کی کئی جانیں گئیں اور سیکڑوں لوگ بیگھر ہونیپر مجبورہوگئے، مگر اصلی مجرم آج بھی آزاد گھوم رہے ہیں،

جب بہت دنوں سے سوشل میڈیا ٹوئیٹر اور فیسبک نیزقلمکارحضرات کے ذریعے سے اخبارات وغیرہ میں بھی صفورہ زرگر کے بارے میں مضامین وغیرہ لکھے جاتے رہے تب بھی حقوقِ نسواں کے فرائض کی انجام دہی کرانے والی تنظیمیں خوابِ غفلت میں سورہی تھیں جوکہ کچھ کہہ اور کر نہیں پائیں،مگر سوشل میڈیا میں خاص طور سیملک کے باشعور افراد، دانشوران قوم، ماہرین  اپنے مشترکہ بیان میں شدید برہمی کااظہاراور سخت ناراضگی جتانے کے بعد دلی ویمن کمیشن کی چیئر پرسن سواتی مالیوال کی طرف سیایک لیٹر پیڈ جاری کیاگیاتھا اور انہوں نے اخلاق باختہ، انسانیت کیدشمن ہندتواکیچیلوں کے خلاف کارروائی کرنیکا اعلان کیاتھا، مگر ایک صفورازرگر ہوں تو کچھ کہاجائے یہاں آج ہندوستان میں بڑی بڑی سوشل ایکٹوسٹ، قدآورشخصیات، جو کہ  جب ملک کے سلگتیہوئے مسائل پر کچھ بولتیہیں تو فوراً انہیں دیش دروہی، اور ملک سیغداری کے الزام میں جھوٹے معاملات بناکر گرفتار کرلیاجاتاہے

    ڈاکٹر ظفرالاسلام خان،ہرش مندر، پروفیسر اپوروانند، پروفیسر رام پنیانی، انجینئر سعادت اللہ حسینی، ڈاکٹر منظورعالم، ایس آرداراپوری، جان دیال، سیدہ حمیدہ سیدین، مجتبی فاروق، تپن بوس،منیشاسیٹھی،وغیرہ جیسی آفاقی شہرت کی حامل عظیم شخصیتوں کی غداروطن اور ملک میں دو قوموں کے بیچ نفرت پھیلانے کے الزام میں گرفتاریاں ہوچکی ہیں اورساتھ ہی ساتھ  شرجیل امام،میران حیدر، عمرخالد جیسے انقلابی بہادروں پر(یوایپی اے)لگا کرگرفتارکیا جاچکاہیکتنے افسوس کا مقام اور قابل مذمت ہے کہ این آر سی اور این پی کیخلاف پر امن احتجاج کرنیوالی  صفورازرگر، کو گرفتار کر کیجیل میں ڈالاگیاتھا مگر انکے ساتھ ساتھ احتجاج کرنے والی قوم کی غیور بیٹیاں، جسمیں گل افشاں اور، عشرت جہاں کو بھی گرفتار کرکیجیل کے اندرطرح طرح کی اذیتیں دی جارہی ہیں، جھوٹے معاملات میں پھنسا کر قیدمیں رکھ کر جھوٹے معاملات کیذریعے ڈرانے دھمکانے کی کوششیں قابل مذمت ہے،

 سیکڑوں معلامات کے ذریعے صفوارزرگر،عشرت جہاں اور گل افشاں جو سی ایاے، این آر سی، مخالف احتجاج میں پیش پیش تھیں، انکی گرفتاری پر سبھی لوگ کافی مضطرب وبیچین ہیں، انکے خلاف غیرقانونی سرگرمیوں کے قانون (یوایپی اے) کی دفعات کے تحت الزامات عائد کئے گئے ہیں ساتھ ہی ساتھ ملک سے غداری کا بھی الزام لگاتے ہوئے تہاڑ جیل میں محروس رکھا گیاہے، حکام جھوٹے بیانیہ کا استعمال کررہاہے تاکہ مخالف سی ایاے، این آر سی، احتجاج کو2020 میں ہونے والی دہلی تشددسے جوڑا جاسکے، ان سنگھیوں کا اسکے پیچھے یہی مقصد کارفرماہیں کہ ان خواتین پر اصلی سازشی ہونیکا الزام لگایا جا سکے، عشرت جہاں سابق بلدیاتی کونسلر اور سماجی کارکن ہیں، انھوں نے بھی احتجاج میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیاتھا، انکو دہلی میں تشددکیدوران اقدام قتل کا ملزم بنایاگیاہے اور جیل میں اذیتیں تکلیفیں دی جارہی ہیں،اس ظلم وجبرکے خلاف بہت سارے تنظیموں نیحکومت سیصفورازرگر گل افشاں اور عشرت جہاں کو فوری طور پر رہاکرنے کامطالبہ کیاہے

مضمون نگار۔سدھارتھ یونیورسٹی سدھارتھ نگر کے ریسرچ اسکالر ہیں

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad