احمدآباد/سمیع اللّٰہ خان(یواین اے نیوز30مئی2020)لاک ڈاون کی آڑ میں گجرات پولیس کی طرف سے مسلسل مسلمانوں کے خلاف ظالمانہ کارروائیوں کی خبریں آرہی ہیں احمدآباد میں پولیس نے مسلم علاقوں میں جس طرح تشدد کیا وہ سب کے سامنے ہے
پالن پور میں پولیس کا جال
اسی طرح پولیس نے گجرات کے پالنپور میں مسلمانوں کو منظم طورپر ٹارگٹ کیا جس وقت سی اے اے اور این آرسی کے خلاف احتجاج چل رہےتھے انہی دنوں میں ایک احتجاج پالن پور میں بھی ہونے جارہا تھا احتجاج کی قانونی اجازت بھی مل گئی ساری تیاریاں ہوگئیں لیکن جس دن ۱۹ دسمبر کو لوگ احتجاج کرنے والے تھے اس سے صرف ایک دن پہلے رات میں پولیس نے اجازت منسوخ کردی جبکہ وہ احتجاج پرامن اور آئینی ہونا تھا اس کے باوجود اچانک پولیس نے احتجاج کی اجازت منسوخ کرکے ماحول بگاڑنے کا کام کیا کیونکہ پورے علاقے میں تیاریاں ہوچکی تھیں اور سب اگلے دن سڑک پر اپنے حقوق کی خاطر احتجاج کے لیے منتظر تھے انہیں اچانک اجازت منسوخ کرکے گھروں میں روکنا ناممکن تھا اور وہی ہوا اگلے دن متعینہ وقت پر لوگ احتجاج کے لیے مقررہ جگہ پر پہنچ گئے، لیکن پولیس بھی آئی اور احتجاج کے سرکردہ افراد کو حراست میں لینے لگی، جس کے بعد لوگوں نے احتجاج کیا اور حراست میں لیے گئے افراد کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا، احتجاج کرتے ہوئے بھیڑ نے پولیس کی گاڑی کو بھی ہلایا، اس طرح وہ احتجاج تنازعے کی نظر ہوگیا پھر ۲۱ دسمبر سے پولیس نے سازشی سسٹم کا کریک ڈاؤن شروع کیا ۱۰۰ کے قریب نوجوانوں کو گرفتار کرلیاگیا
جن میں سے بیشتر پالن پور کی مشہور مومن / چیلیا برادری کے لوگ تھے، ان ۱۰۰ میں سے ۵۰ رہا ہوئے اور ۵۰ مزید ۳ مہینہ جیلوں میں بند رہے، اب عید سے پہلے انہیں پیرول پر رہا کیا گیا یعنی پیرول کی مدت ختم ہوتے ہی یہ پھر سے گرفتار کرلئے جائیں گے، اور لاک ڈاؤن کا استحصال کرتے ہوئے ابھی دو دن پہلے اس احتجاج کے سرکردہ ایکٹوسٹ عبدالحق کو بھی گرفتار کرلیاگیا ہے دو دن پہلے گرفتار کیے گئے عبدالحق کو بھی پولیس نے ایک چالاک جال میں پھنسایا ہے، اس طرح کہ جس وقت گرفتاریاں چل رہی تھیں شروعات میں، تبھی یہ عبدالحق بھی پی ایس آئی پولیس کے پاس اپنی گرفتاری دینے گئے تھے لیکن ان کو گرفتار نہیں کیاگیا پھر انہیں فرار قرار دیا گیا اور پھر بحیثیت فرار مجرم انہیں گرفتار کیاگیاہے ! " اس طرح اب پالن پور کے مسلمان سسٹم کے ظلم و ستم کے نشانے پر ہیں میں نے ان مظلوموں پر درج ایف آئی آر کو بھی دیکھا ہے، ایف آئی آر پھنسانے والی ایک اسکرپٹ ہے اگر آپ غور کیجیے تو پالن پور میں یہ گرفتاریاں اور پولیس کا ننگا ناچ شروعات سے ہی منصوبہ بند تھا، پہلے قانونی طورپر احتجاج کے لیے اجازت دی جاتی ہے، جب ساری تیاریاں مکمل ہوجاتی ہیں تو پھر اچانک چند گھنٹوں پہلے احتجاج کی اجازت منسوخ ہوجاتی ہے
یہ کر کے، پولیس نے پہلے ہی احتجاج کو غیرقانونی بنادیا کیونکہ انہیں یقین تھا کہ مسلمان ہرحال میں اب احتجاج کرینگے، اور اس کے بعد پالن پور کے مسلمانوں کو ٹارگٹ کیاگیا اور پالن پور کی مشہور مومن / چیلیا برادری جوکہ مسلمانوں میں اپنی تجارتی اور دینی اسپرٹ کے لیے مشہور اور زبردست منظم بھی ہے اس برادری کو کمزور اور ہراساں کرنے کا سلسلہ شروع ہواپولیس کی یہ کارروائیاں کس قدر انتقامی اور مسلم دشمنی پر مبنی ہے اس کا اندازہ یوں لگایا جاسکتاہے کہ دو دن پہلے جب پولیس عبدالحق کو گرفتار کرنے ان کے گھر گئی تو گھر کی مستورات سے بدتمیزی کی اور خواتین کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی یہی حال گجرات پولیس نے احمدآباد میں بھی کیا اور مسلم علاقوں میں گھروں میں گھس کر خواتین کو تشدد اور ظلم کا نشانہ بنایا گجرات پولیس کی طرف سے یہ کارروائیاں بالکل ناقابل برداشت ہیں، اب ان کے خلاف بڑے پیمانے پر آواز بلند کرنے کی ضرورت ہےپالن پور میں جو کچھ پولیس کا کریک ڈاؤن چل رہاہے
وہ مسلمانوں پر بڑا حملہ ہے، پالن پور میں یوں تو سبھی نشانے پر ہیں لیکن خاص طورپر مومن / چیلیا برادری کو کمزور کرنے کی یہ ایک سرکاری کوشش ہے جیسا کہ ماضی میں کئی منظم مسلم برادریوں کے خلاف انڈین سسٹم نے کی ہے اس وقت سارے مسلمانوں کو پوری قوت سے پالن پور کے مظلوم مسلمانوں اور ٹارگٹ کی جارہی چیلیا برادری کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے، پالن پور کے علاقے میں دسمبر سے پولیس کارروائیاں چل رہی ہیں اتنا طویل پولیس کریک ڈاون نہایت ظالمانہ ماحول بنا رہا ہے، اس سے پہلے کہ پوری برادری کے نوجوان ایک منفی اثر اور علاقہ خوف کے سائے میں احساس کمتری کا شکار ہوجائے آئینی جراتمندانہ اقدام مسلم قیادتوں کو اٹھا لینا چاہیے، پالن پور اور احمدآباد میں مسلم خواتین کے ساتھ پولیس کی بدسلوکی پر سخت غیرت مندانہ اور آئینی ایکشن لینے کی ضرورت ہے



کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں