تازہ ترین

ہفتہ، 30 مئی، 2020

شمشان میں تدفین کے دلخراش واقعہ کی مذمت اور وقف قبرستانوں کے متولیان کے خلاف سخت کاروائی کرنے مسلم لیگ رکن پارلیمان کا مطالبہ

مسلم میتوں کی تدفین کے تنازعہ کی یکسوئی کیلئے انڈین یونین مسلم لیگ کے ذمہ داران کی نمائندگی
نظام آباد(یواین اے نیوز30مئی2020)انڈین یونین مسلم لیگ کے ایک وفد نے آج نظام آبادکے ایڈیشنل کلکٹر محترمہ بی ایس لتا سے ملاقات کی اور حیدرآباد میں حال ہی میں پیش آئے دلخراش واقعہ جہاںمسلم میت کو وقف قبرستانوں میںتدفین کی اجازت نہیں دینے کی بناء پر ہندوؤں کے شمشان گھاٹ میں تدفین عمل میں لائی جانے پر مسلم لیگ کے رکن پارلیمنٹ جناب پی ۔کے ۔کنہالی کوٹی کی جانب سے تلنگانہ چیف منسٹر جناب کے سی آر کو روانہ کردہ مکتوب کی ایک کاپی حوالے کرتے ہوئے اپنا احتجاج درج کروایا۔ تفصیلات کے مطابق محمدخواجہ جن کا تعلق گدوال سے ہے چندسالوں سے حیدرآباد میں مقیم تھے اور رمضان المبارک میں جمعۃ الوداع کے موقع پر قلب پر حملے کے باعث ان کاانتقال ہوگیاتھا۔ان کے افراد خاندان نے تدفین کے لئے حیدرآباد کے پانچ تاچھ قبرستانوں کے ذمہ داران و متولیان سے ملاقات کرتے ہوئے تدفین کی اجازت مانگی مگر ان تمام ذمہ داران و متولیان نے میت کوغیر مقامی بتاتے ہوئے تدفین کی اجازت دینے سے انکارکردیا۔آخر کار افرادخاندان نے مجبوری کی حالت میں ہندوبھائیوںکی مدد حاصل کرتے ہوئے مسلم میت کو ہندوؤںکے شمشان گھاٹ میں تدفین کردیا۔اس افسوسناک واقعہ کی اطلاع عبدالغنی ریاستی جنرل سکریٹری مسلم لیگ نے جناب پی ۔کے ۔کنہالی کوٹی کو دیتے ہوئے اس سلسلہ میں کوئی اقدامات کا مطالبہ کیا۔

چنانچہ معززرکن پارلیمان نے اس سلسلہ میں فوری حرکت کرتے ہوئے ہماری ریاست کے چیف منسٹر جناب کے سی آر کو فوری ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے اس سلسلہ میں موثر اقدامات روبہ عمل لانے اور مسلم میتوں کی باضابطہ قبرستانوں میں تدفین کویقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔انہوںنے گذارش کی کہ متعلقہ قبرستانوں کے ذمہ داران اور متولیان کو فوری معطل کردیاجائے اور سخت قانونی کاروائی کرتے ہوئے آئندہ اس طرح کے واقعات کا اعادہ نہ ہونے دیاجائے۔ واضح رہے کہ وقف جائیدادیں مسلمانوںکیلئے ہوتی ہیں چنانچہ ایسے مقامات پر مسلم میتوں کی تدفین سے اعتراض کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ متولیان کی ذمہ داری ہے کہ وہ وقف قبرستانوں کے تحفظ کیلئے اپنی تمام ترکوششوںکو روبہ عمل لائیں جبکہ تدفین کی اجازت دینے یا نہ دینے کیلئے ان کاکوئی کردار نہیں ہوتاہے۔آئے دن شہروں میں تدفین کیلئے معصوم عوام سے بھاری رقم طلب کرنے کے واقعات پر بھی حکومت کو توجہ دیناچاہئے۔ وقف جائیدادوں پر قابض متولیان اور ذمہ داران اپنی مفوضہ ذمہ داریاںادا نہ کرنا وقف بورڈ کی نااہلی ولاپرواہی کا ثبوت ہے۔ مسلم لیگ کے رکن پارلیمان نے تلنگانہ چیف منسٹر کے سی آر سے گذارش کی ہے کہ وہ ریاست تلنگانہ کے کسی بھی مقام پر مسلم میتوں کی تدفین کو یقینی بنائیں اور متولیان کی جانب سے ہونے والے اعتراضات اور رکاوٹوں کو ختم کردیں۔اس موقع پر مسلم لیگ کے قائدین عبدالغنی ریاستی سکرٹری، شیخ مجاہد، محمدفاروق ،ایم اے نعیم کے علاوہ دیگر موجودتھے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad