تازہ ترین

ہفتہ، 30 مئی، 2020

مظفرنگر ضلع کی مختلف تنظیموں نے گوشت پر سے پابندی ہٹانے کاکیا مطالبہ

مظفرنگر/شاہدحسینی(یواین اے نیوز30مئی2020)رحمتِ عالم سیرت کمیٹی سمیت مظفرنگر ضلع کی مختلف تنظیموں نے کیا گوشت پر سے پابندی ہٹانے کا مطالبہ۔کھتولی کی معروف ملی تنظیم رحمتِ عالم سیرت کمیٹی کے سیکریٹری زاہد امیر نے  پریس کو جاری بیان میں ضلع انتظامیہ سے مطالبہ کیاہے کہ کرونا وائرس پھیلنے کا  کسی بھی قسم کا گوشت سے کوئی تعلق نہیں ہے اس سلسلے میں نہ تو ڈبلیو ایچ او نے کوئی پابندی کی بات کہی  ہے اور  نہ ہی محکمہ صحت نے اسکے باوجود ضلع انتظامیہ نے بلا کسی جواز کے گوشت پر  پابندی عائد کی ہوئی ہے جبکہ شراب اور بیڑی سگریٹ پان تمباکو گٹھکھا وغیرہ سے پابندی ختم کردی گئی ہے جبکہ گوشت پر پابندی لاک ڈاؤن شروع ہوتے ہی  25 مارچ سے جاری ہے جسکا نتیجہ یہ ہے کہ جہاں گوشت خور بڑے گوشت سے محروم ہیں اور تمام ہوٹل بند ہیں  وہیں کچھ علاقوں میں پابندی کے باوجود  مرغ کا گوشت جوکہ عام طور پر سو سوا سو روپے کلو ملتا ہے250 روپے سے 300 روپے تک فروخت ہورہا ہے

 اس طرح لاک ڈاؤن میں خانگی اخراجات سے پریشان حال لوگ مہنگا گوشت خریدنے پر مجبور ہیں جبکہ گوشت کا کاروبار کرنے والوں و ہوٹلوں کے مالکان  کے سامنے الگ روٹی روزی کا مسئلہ کھڑا ہوگیا ہے اس لئے ضروری ہے  کہ گوشت پر عائد پابندی ہٹا لی جائے ڈی ایم سلوا کماری سے مطالبہ۔کرنے والوں میں جمیعت علمائے ہند کے ضلع نائب صدر  حاجی عزیزالرحمن جمیعتہ کے میڈیا انچارج کلیم تیاگی جمیعت القریش کے ڈاکٹر محمد امیر اعظم قریشی ایس پی کے سرکردہ لیڈر ڈاکٹر منصور الحق سرکردہ صحافی و نیوز پیپر ایجنٹ حافظ محمد ابراھیم خلیل، دھلی دربار کے ایم ڈی حاجی ضمیر الدین انصاری حاجی ہوٹل کے شجاع الدین انصاری  ندائے غزل اردو سوسائٹی کے جمال ھاشمی، مولانا محمد علی جوہر  ائمہ مساجد کے مولانا شاہنواز قریشی  مشن تعلیم کے کنوینر محمد آباد قریشی ظہیر اعظم قریشی(ڈی ایس پی)  اردو پریس ایسوسی ایشن کے صدر عزیز الرحمن خاں و گوشت تاجر وہوٹل مالکان  وغیرہ شامل ہیں

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad