تازہ ترین

ہفتہ، 4 اپریل، 2020

کروناوائرس کی پیدائش کاسچ

ازقلم-محمدقمرانجم قادری فیضی، ریسرچ اسکالرسدھارتھ یونیورسٹی سدھارتھ نگریوپی
آج پوری انسانیت جس خوفناک ودہشت زدہ وموت کے دہانے پر پہنچ گئی ہے وہ کسی بھی عقل والے سے چِھپانہیں ہے، آج ہر کوئی اس ماہ ماری سےڈرکر گھروں میں قید ہوتاہوا نظر آرہاہے کرونا وائرس اس لئے نہیں آیا کہ وہ ہمیں مار ڈالے  اور ختم کردے بلکہ اس لئے آیاہے کہ تاکہ ہمارےسوئے ہوئےضمیروں کو جھنجھوڑکر جگادے، خواب غفلت سے بیدار کردے، اس لئے آیاہے تاکہ ہمیں ہماری کمزوری اور بےبسی ولاچاری کااحساس دلائے، واہ رے مجبوری ایک ایسا چھوٹا ساجرثومہ جسکو ہم دیکھ بھی نہیں سکتے. اور جسے سوئی کی نوک پر دس ہزار کی مقدار میں اکٹھا کیاجاسکتاہےاس نے پوری دنیا ہِلا رکھاہے اور ایسا چیلنج دے رکھاہے کہ جس سے پوری دنیا کے سائنسداں اور ماہرین طب مبہوت اور ششدرہیں، وہ اس لئے آیا تاکہ ہمیں جنھجھوڑ کرکہے کہ تمہارا ایک رب ہے جو تمہیں منٹوں اور سکنڈوں میں فناکرکے دوسری قوم لا سکتاہے، ذرا غوروفکرکریں، ایک باریک سا جراثیم جسے ہم آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتے، ہاتھوں سے نہیں چھو سکتے۔اس نے پوری دنیا کی چولیں ہلا دی ہیں، بڑی بڑی حکومتوں کے اندر لرزہ براندام پیدا کردیاہے، مزید پورے عالم کے نظام کو درہم برہم کردیاہے اور پوری انسانیت کو خوفناک وخطرناک دہشت زدہ ماحول میں زندہ در گور کردیاہے، جب کہ ہم یہی سمجھتے رہے کہ یہ محض  چھوٹاسا نہ دکھائی دینے والا جراثیم ہے اس کی طاقت وقدرت کیاہے، جس کو اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی قوم پر مبتلا کیاہےجو اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتی، جو اللہ تعالیٰ کو ایک رب نہیں تسلیم کرتی، ہم یہی کہتے رہے کہ ان سربراہاں مملکت نے اپنے یہاں کی اقلیتوں اور غریبوں پر ظلم ڈھایاہے،ان پر زوروستم جبروجورکےپہاڑ توڑے ہیں، اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب مسلط کردیاہے اور اپنے ایک لشکر کو بھیج دیا جسے وہ خود ہی جانتاہے جس نے مدرسوں، کارخانوں، فیکٹریوں، اسکول وکالج، مساجد ومدارس اور عبادتگاہوں کو بند کرادیا، لیکن ہم۔ہمیں کیا ہوگیا ہم پر کون سی آفت آگئی؟؟  کروناوائرس نے ہمارے مقدس ومتبرک مقامات کو بندکرادیا، اور پوری روئے زمین کےسب سے عظمت ومقدس اور مبارک ومسعود، پاک وطاہرگھرکو بندکرادیا، خداکی قسم  ہم مسلمانوں کےلئے اتنی بڑی مصیبت ہے جس کو سن کردل دہل جاتاہے روح کانپ جاتی ہے، جسم پر لرزہ براندام طاری ہوجاتی ہے، اور رونگٹےکھڑے ہوجاتے ہیں، لیکن کیا؟؟ ہم نے مصیبت کو بھاری سمجھا؟ اگر کرونا وائرس چند گھنٹوں کےلئے طواف کو رکوادیاتو بھی ہمارے لئے بہت بڑی تکلیف اور دکھ کی بات ہوئی، مگر ان تمام باتوں کے علاوہ ہماری آنکھیں خشک ہوگئیں، ہمارے احساسات مردہ ہوگئے، ہمارے ضمیر جو زندہ تھے مردہ ہوگئے، ہم میں بھونچال آگیا ہم ایک دوسرے کو حرمین شریفین بند ہوجانےاورطواف کےرک جانےپرصرف میسیج ہی بھیجتے رہے جیسے لگتاہے کہ کسی سپر مارکیٹ اور مال کو چند گھنٹوں کےلئے وقتی طورپر کچھ وجوہات کی بنیادپر بند کر دیا گیا ہو خداکی قسم، اگر ہم نے صدق دل سے معافی ،توبہ،استغفار نہ کیا اور اپنے جرائم وگناہوں کی رب تعالی سے معافی نہ مانگی اور صدقہ خیرات کرکےاپنے خدائے تعالیٰ کےغضب کو ٹھنڈا نہ کیاتو ہم اس زمین پر"وبا"ہیں اور اللہ تعالیٰ ہمیں بدل کر دوسری قوم کو لانےنیز آبادکرنےپرقادرہے جو توبہ واسغفار کرنےوالی ہوگی، کرونا وائرس نےاگر ہمیں خواب غفلت سے نیز دین کی بیزاری سےبیدار نہ کیا،اور ہم اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں سے باز نہ آئے تو، سود، زنا، شراب نوشی، جھوٹ، غیبت، چغل خوری، حرام خوری، نیز جملہ گناہوں سےتوبہ نہ کی تو ربِ تعالیٰ کی پکڑ بہت سخت ہے، اور اسکی پکڑ قریب ہے۔ان بطش ربک لشدید، اگر ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ وبا چین کےلوگوں پر اس لئے عذاب بن کرآیا کہ وہ کتے بلی، چمگادڑ، سانپ، کیچوا، چھپکلی، گوجر اور دیگر ممنوعاتِ گوشت کھاتے تھے، توذرا غورکریں، کہ ہم بھی تو لڑکیوں کی میراث، یتیموں کاحق اور اپنے بھائیوں کا گوشت کھاتے ہیں محض ایک جراثیم نے ہمیں ایسا ڈرادیا، کہ جیسا لگتاہے کہ موت ہمارے قریب ہے، وہ رب العزت کتنا عظیم ہے، جس نے اس جراثیم کو پیدا کیا، کیا وہ اس کا مستحق نہیں کہ ہم اس سے ڈریں، اسکی فرمان پرصدق دل سے عمل پیرا ہوجائیں، اس کے سامنے روئیں، گڑگڑائیں، گریہ وزاری کریں، تاکہ وہ ہماری کمزرویوں، گناہوں، خطاؤں پر رحم فرمائے،کرونا اگر چلاگیا، خداکرے کہ وہ نیست ونابودہوجائے، اور ہماراضمیر بیدار نہ ہوسکا، ہم خواب غفلت سے بیدار نہ ہوسکیں ،اپنے گناہوں سے توبہ واستغفار نہ کرسکیں، اپنے سرزدہوچکےجرائم کی معافی نہ مانگ سکیں، تو یقین جانئے کہ اس زمین پر ہم ہی"وبا"ہیں، اور ہم ہی کروناوائرس ہیں"

بالکل اہم اور پختہ ثبوت جس میں خود ایک چینی فوجی کے بیان کے ذریعے حقیقت کا انکشاف و خلاصہ ہوا ہے۔zee news29/مارچ2020ء نئ دلی کے ذریعہ اپڈیٹ کردہ ریپورٹ کے مطابق "سرزمین چین سے ہی کورونا کو لیکر ایک بڑا خلاصہ ہوا ہے۔چین کے ملیٹری انٹیلیجنس کے ادھیکاری نے ایک ایسا خلاصہ کیا ہے جس کی وجہ سے چین اب پوری دنیا کے سامنے گھر گیا ہے کورونا'وائرس،کے پیچھے چین کی اصلیت کا پردہ فاش ہوچکا ہے ۔اسی ادھیکاری کا کہناہے :کہ اگر اس نے اپنی پہچان ظاہر کردی تو اس کی جان کو خطرہ ہوسکتاہے بلکہ یہ یقین ہے کہ اسے مار دیاجائے لیکن وہ بہت صاف طور پر کہہ رہا ہے کہ اس کے پاس ایسی جانکاری ہے جو چین کی سرکار کو اکھاڑ پھینکنے کی طاقت رکھتی ہے۔اس نےبتایا کہ چین نے کورونا پر سب سے بڑا جھوٹ بولا سچ تو یہ ہے کہ سرزمینِ چین سے ہی کورونا ایک خطرناک منصوبہ کے تحت پھیلایا گیا ہے ۔یہ ادھیکاری جس کا بیان ہے کوئی معمولی آدمی نہیں بلکہ چین کمیونسٹ پارٹی کا ایک رکن بھی ہے ۔اس نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ چین ہانگ کانگ میں ہورہے ویرودھ پردرشن کو روکنا چاہتا تھا جس کےلئے وہ ایک ایسا بائیولوجیکل ایجنٹ کر رہا تھا جسے اگر ہیلی کواپٹر سے  نیچے پردرشن کاریوں پر چھڑک دیا جاتا تو وہ یا تو مانسک، دماغی طور پر پاگل ہو جاتے یا پھر ان کے برتاؤ میں تبدیلی واقع ہو جاتی ۔اس پروجیکٹ کا حصہ رہ رہے اس فوجی کا مزید بیان ہے:کہ اسے اس لئے روک دیا گیا کہ 'ہانگ کانگ، پردرشن کاریوں پر دنیا کی نظریں تھیں اور ایسے کسی بائیولوجیکل ایجنٹ کا چھڑکاؤ بہت خطرناک ہو سکتا تھا اس طرح چین دنیا کی نظروں میں آجاتا اس لئے اس نے ایک خطرناک طریقہ نکالا اور اس بائیولوجیکل ویپنVaipen کو 'جن جیانگ ،شہر میں باقاعدہ ایک ٹریننگ کیمپ میں اسلامک کٹر پنتھیوں (یعنی سچے پکے مسلمانوں) پر ٹیسٹ کیا اور جب لوگوں کے جسم پر اس ایجنٹ ٹیسٹ کا اثر ہوا تو نتیجہ انتہائی بھیانک،ڈراؤنا اور دل دھلا دینے والا تھا۔جن جن لوگوں پر اس کا استعمال ہوا دیکھتے ہی دیکھتے ان کا بدلنا گلنا شروع ہوگیا ۔آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ چین کا یہ کتنا خطرناک اور خوفناک قدم تھا۔ایک سوال آپ کے ذہن میں ابھرتا ہوگا اور بار بار یہ خیال آتا ہوگا کہ ' کرونا،جیسا مہلک وائرس چین کے شہر "ووہان،، سے ہی کیوں پھیلا ؟ایسا کیا ہوا تھا جو وہیں سے پھیلا؟۔ تو اس کا جواب بھی وہی ادھیکاری دیتا ہے :کہ دراصل امریکا کے اینٹیلیجنس ایجنسی کو اس بائیولوجیکل ایجنٹ کی خبر لگ گئی تھی۔اور سی آئی اے یعنی سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی Central intelligence agencyریاستہائے متحدہ امریکا کا جاسوسی ادارہ ، جو ملک کے اندر اور ملک سے باہر پوری دنیا میں امریکی مفادات کا تحفظ کرتاہے) بھی اس میں دلچسپی دکھا رہاتھا ۔چین نے جس وائرس کو لیب میں بنایا اس کی بھنک امریکہ کو لگ چکی تھی ۔لیکن چین اور امریکا کی 'وائرس، کے لین دین پر ڈیل نہ ہو سکی ،اس کی وجہ کیا ہے؟ تو وہ وجہ یہ ہے چینی فوجی بیان کرتا ہے کہ ہمارے C.I.Aیعنی امریکی ایجنسی سے اچھے رشتے ہیں لیکن معاملہ بڑا خطرناک تھا اسی لئے ہم نے منع کردیا ۔ لیکن C.I.Aکو لگ رہا تھا کہ ہم نے بہت طاقت ور چیز بنالی ہے اور چین اسے اپنے تک ہی رکھنا چاہتا ہے۔ امریکی اینٹیلجینس ایجنسی نے چین کو بہت زیادہ ڈالر دینے کی پیشکش کرکے اس وائرس کی مانگ کی ۔ اور چینی ریسرچر وائرس کا نمونہ دینے کو بھی تیار ہوگیا ۔اب آپ سمجھیئے کہ وہ وائرس امریکا کے ہاتھ کیوں نہیں لگ سکا ؟تو سنیے ! جب امریکی ایجنٹ چین کے ریسرچر سے اس وائرس کی ڈیل کررہاتھا کہ عین اسی وقت ایک 'وائرس، شوٹ آؤٹ ہوگیا جس میں کئی لوگ فوراً مرگئے، افراتفری مچ گئی اور کئی لوگ امریکی ایجنٹ سمیت بھاگنے میں کامیاب ہوگئے ۔ یہ شوٹ آؤٹ جانوروں کے بازار کے پاس ہوا تھا ۔جس شیشی میں وائرس کا نمونہ تھا وہ شیشی وہیں پر گرگئی تھی یہی وجہ ہے 'وائرس، "ووہان،، شہر میں پھیلا۔ مگر چین کیا کرتا لہھذا اس نے اسے چھپانے کےلئے چمگادڑ سے پھیلنے کا ڈھونگ رچا اور دنیا کے سامنے جھوٹ بولا۔ دنیا اس سے مطمئن رہی اور یہی سمجھتی رہی کہ چین میں یہ وائرس جب چمگادڑ کھانے سے پھیلا ہے تو ہم محفوظ رہیں گے اس لئے کہ ہم چمگادڑ کھاتے نہیں۔ پھر دھیرے دھیرے یہ وائرس پوری دنیا میں پھیلتا چلاگیا۔ چین کے کرتوت  ساتھ جھوٹ نے آج پوری دنیا کو موت کے منہ کی طرف ہانک دیا ہے اور اب تک یہ خطرناک وائرس دنیا کے اکثر ممالک کو اپنی چپیٹ میں لے چکا ہے۔

کرونا وائرس کی بیماری سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے ذریعے  دو ہفتے قبل کافی سرخیوں میں تھا، جس میں  یہ باور کرانے کی کوشش کی تھی کہ کرونا وائرس دراصل امریکہ کا چین کے معاشی و اقتصادی نظام کو تہ وبالا کرنے کا ایک منظم منصوبہ ہے۔تاکہ چین کے لوگوں کو دنیا والے ایک اچھوت سمجھیں، اور اس کے مقابل امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک سے تجارتی تعلقات قائم کریں۔پڑھنے کے بعد مضمون کے بعض مشمولات پر اختلاف ہونے کے باوجود بعض کے مبنی بر حقیقت ہونے کا ظن غالب ہونے لگاتھا۔لیکن اس کے بعد سے اس مہاماری نے جیسے ہی اپنا رخ یوروپین ممالک کی طرف کیا ہے، تو چین کے اقتصادی نظام پر حملہ والی بات سراب کی حقیقت سے زیادہ  کچھ نہیں لگی۔آج امریکہ میں اس بیماری کے متاثرین کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار کے قریب پہونچ چکی ہے۔اور دوہزار سے زائد افراد کو لقمہ اجل بناچکی ہے۔اٹلی میں بانوے ہزار سے زیادہ لوگ متاثر ہیں، اور دس ہزار سے زائد لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار چکی ہے۔لیکن اس کے برعکس چین میں یہ بیماری دوچند شہروں کے علاوہ زیادہ آبادی کو متاثر کرنے میں ناکام ثابت ہوئی، چین آج تک اس بیماری سے فقط اکیاسی ہزار لوگ ہی متاثر ہوئے، اور بتیس سو افراد لقمہ اجل بنے۔ پچہتر ہزار لوگ صحتیاب ہوگیے۔ اور آج پوری دنیا کو اس وایرس سے مقابلہ کرنے کے لئے سامان چین فراہم کررہا ہے۔ گویا کہ جو ملک اقتصادی اعتبار سے بہت پیچھے ہونے والاتھا، آج وہی ملک پھرسے دنیا بھر میں من مانے داموں میں اپنی اشیاء فروخت کرنے جارہا ہے۔

یہ وبا کسی نہ کسی طرح سے گندی سیاست اور فروغ تجارت کا ذریعہ بھی ہوسکتی ہے۔ جہاں اس وبا سے کثیر تعداد میں لوگ مررہے ہیں، وہیں یہ وبا کچھ ملکوں کے اقتصادی حالات کو قوی سے قوی تر بنانے کا کام انجام دینے والی ہے۔اور بعض ملکوں کے بگڑتے اقتصادی حالات کے لئے ستر پوشی کا فریضہ انجام دینے والی ہے۔مگر بیچارے غریب اور محنت و مزدوری کرنے والے اکرچہ یہ وبا ان کا کچھ نہ بگاڑ سکے مگر بھوک اور فاقہ کسی ضرور ان کو اور ان کے نونہالوں کو اپنا لقمہ تر بناسکتی ہے۔اس لئے ہم میں سے ہرایک کی ذمہ داری ہے کہ اپنے قرب و جوار کے لوگوں کا خیال رکھیں، اور ہر ممکن طریقے سے ایک دوسرے کی مدد کریں، اور زیادہ سے زیادہ صدقات و خیرات کریں، نمازوں کی پابندی ،درود وسلام اور تلاوت قرآن کی کثرت کریں۔مولی تعالیٰ جملہ مسلمانان عالم کو اس بلاء سے محفوظ و مامون رکھے، اور ظالموں کو کیفرکردار تک پہونچائے۔آمین بجاہ سید المرسلین۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad