دیوبند:دانیال خان(یواین اے نیوز یکم اپریل 2020)انتظامیہ کے ذریعہ اب گراؤنڈ زیرو پالیسی اپنائی جا رہی ہے،جس کو لیکر کئی انتظامات بھی کئے گئے ہیں تاکہ لاک ڈاؤن کے دوران لوگوں کو کم سے کم باہر نکلنا پڑے،وارڈ سطح پر ہی گھر گھر سبزی،راشن،دودھ اور پھل وغیرہ کا انتظام کیا گیا ہے،پھل و سبزی ٹھیلہ والوں کو وارڈوں میں جاکر فروخت کرنے کی ہدایت دی گئی ہے،سبزی و ٹھیلہ والوں کی تعداد متعین کرنے کے ساتھ انہیں لاک ڈاؤن پاس جاری کئے گئے ہیں تاکہ لوگوں کو ضروری سامان خریدنیح کے لئے باہر نہ نکلنا پڑے،اس کا اثر بھی دیکھنے کو مل رہا ہے دیگر دنوں کے مقابلہ اب سڑکوں پر بھیڑ بھی کم نظر آ رہی ہے،شہر کے لوگوں نے انتظامیہ سے کھاد،بیج،زراعت،موبائل ریچارج اور کاسمیٹک کی دوکانوں کو کھولے جان ے کا مطالبہ کرتے ہوئے بتایا کہ جو لوگ ڈور ٹو ڈور سامان پہنچانے کا کام کر رہے ہیں ان کے ساتھ بھی پولیس کا رویہ اچھا نہیں ہے،گشت کر رہے پولیس کے جوان انکے ساتھ بلا وجہ گالی گلوچ کر رہے ہیں جس کے سبب وہ اپنے کام کو صحیح طریقہ سے انجام نہیں دے پا رہے ہیں۔
ادھر انتظامیہ کی سختی کے باوجود بھی لوگ اپنی عادت سے باز نہیں آ رہے ہیں وہ لاک ڈاؤن میں بھی سڑک پر نکل رہے ہیں جن کے لئے پولیس کو سختی برتنی پڑ رہی ہے۔ضلع مجسٹریٹ اور ایس ایس پی دنیش کمار پربھو کی ہدایت پر ایس ڈی ایم دیوبند دیوندر کمار پانڈے،سی او چوب سنگھ اور کوتوالی انچارج یگھ دت شرما نے شہر سے لیکر دیہی حلقوں میں پولیس کی گشتی تیز کر دی ہے اور متعلقہ چوکی انچارج اپنے اپنے علاقوں میں مائک سے تشہیر کر رہے ہیں اور لوگوں سے اپیل کر رہے ہیں کہ گھر میں رہ کر اس بیماری کی روک تھام کے لئے مدد کریں۔وہیں روز کھانے کمانے والوں کے لئے لاک ڈاؤن کسی قہر سے کم نہیں ہے،چائے دکاندار،پان فروش،پھلوں کی ریہڈی لگانے والے اور فٹ پاتھ پر سامان فروخت کرنے والے افراد بے روزگار ہو گئے ہیں ان کے لئے اب دو وقت کا کھانا بھی مشکل ہو گیا ہے،ایسے میں گھر کے کسی فرد کو اگر کوئی مرض ہو جاتا ہے تو اس کا علاج کرانا بھی مشکل ہے،ادھر ادھر گھوم کر (پھیری لگاکر)سامان فروخت کرنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ کچھ پیسے بچا کر رکھے تھے وہ گزشتہ دنوں ختم ہو گئے اور اب تو فاقہ کشی کی نوبت آ گئی ہے سمجھ میں نہیں آتا کہ اب کیا کیا جائے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں