تازہ ترین

جمعہ، 13 مارچ، 2020

مدھیہ پردیش کے آپریشن کمل میں بی جے پی لیڈر ظفراسلام کا اہم کردار

مدھیہ پردیش(یواین اے نیوز 13مارچ2020)مدھیہ پردیش میں پیر کو شام ہی سے شروع ہونے والی سیاسی اتھل پتھل میں مزید تیزی آگئی ہے۔ وزیر اعلیٰ کمل ناتھ اور مرکزی قیادت سے کچھ دنوں سےناراض چل رہے کانگریس کے سینئر لیڈر جیوترادتیہ سندھیا نےپارٹی سے استعفیٰ دے کر بی جے پی کا زعفرانی چولا پہن لیا ہے۔  ان سب کے درمیان سیاسی گلیاروں میں کئی سوالات ایسے ہیں جو گردش کر رہے ہیں۔ ان میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون ہے جس نے جیوترادتیہ سندھیا  اور بی جے پی کے درمیان’ ڈیل‘ کرائی؟ کون ہے وہ شخص جس نے سندھیا کو۱۸؍ سال کا کانگریس کاساتھ چھوڑنے کیلئے راضی کیا؟ وہ کون ہے جس نے سندھیا کے سیکولر کردار پر بھگوا رنگ  چڑھایا؟ ان تمام سوالوں کا جواب ایک ہی ہے اور وہ ہے بی جےپی کا ایک مسلم  چہرہ ظفر اسلام۔اس کا انکشاف انگریزی ویب سائٹ آؤٹ لک نے کیا ہے۔ اس کی ایک رپورٹ کے مطابق، مدھیہ پردیش میں اس سیاسی اتھل پتھل کے پیچھے بی جے پی کے ترجمان ظفر اسلام کا ہاتھ ہے۔ ظفر ہی نے سندھیا کو کانگریس سے ناطہ توڑ کر بی جے پی  کےخیمے میں لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

ظفر اسلام  میڈیا کیلئے ایک جانا پہچانا چہرہ  ہے۔ ٹی وی چینلوں پر مباحثوں میں وہ  روزانہ بی جے پی اور بھگوا  سیاست کا دفاع کرتے ہوئے نظرآتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ سیاست میں آنے سے پہلے وہ ایک غیرملکی بینک میں کام کرتے تھے لیکن  بعد میں سیاست میں آنے کی خواہش کے پیش نظر انہوں نے  بی جے پی کا دامن تھام لیا۔رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ ظفر اسلام اور جیوترادتیہ سندھیا ایک دوسرے کو کافی وقت سے جانتے تھے۔ سندھیا کے دہلی واقع گھر پر بھی ظفر کی ملاقات ہو چکی ہے۔  یہ بھی کہا گیا کہ گزشتہ پانچ ماہ سے ظفر اور سندھیا کے درمیان ملاقات کا سلسلہ بڑھ گیا تھا۔ مانا جا رہا ہے کہ یہیں سے بی جے پی نے کھیل شروع کیا تھا۔ذرائع بتاتے ہیں کہ سندھیا اور ظفر حال ہی میں پانچ بار ملے تھے۔ ظفراسلام نےاس دوران ہر  ایک میٹنگ کے منٹس بھی بی جے پی اعلیٰ کمان سے شیئر کئے تھے۔ ملاقاتوں کے نتائج کا گہرا جائزہ لینے کے بعد ہی بی جے پی نے مدھیہ پردیش میں ’ آپریشن کمل‘ شروع کر  دیا تھا۔ دراصل بی جے پی اس طرح کی کوششوں کو اپنی کامیابی کا اہم جز سمجھتی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad