کچھ سمجھ کر ہی ہوا ہوں موج دریا۔۔۔
محمد نصر الله ندوی۔
ان دنوں سوشل میڈیا میں مفتی سلمان صاحب منصور پوری مدظلہ استاذ شاہی مراد آباد کی ایک تحریر گردش کر رہی ھے جس میں انہوں نے این پی آر کے بائیکاٹ کے حوالے سے اندیشہائے دراز کا اظہار کیا ھے مفتی صاحب ایک مستند عالم دین ہیں اور فقہ وفتای پر اچھی نظر رکھتے ہیں لیکن ملکی قانون کے بارے میں ان کی واقفیت ابجدی بھی نہیں ھے اس لئے اس میدان میں ان کو نہیں کودنا چاہئے،انہوں نے جن اندیشوں کا اظہار کیا ھے وہ دراصل توہمات ہیں جو عقل اور قانون دونوں لحاظ سے بے بنیاد ہیں ۔۔یہ اندیشے بالکل اسی طرح ہیں جیسے کوئی زلزلہ کے خوف سے پختہ مکان بنانا چھوڑ دے روح فرسا حادثہ کے ڈر سے ہوائی جہاز پر بیٹھنا چھوڑ دے۔ظاہر ھے اس طرح کے وہم کے ساتھ زندگی کی گاڑی نہیں چل سکتی ھے بلکہ زندگی جہنم زار بن جائے گی اور انسانوں کیلئے جینا دو بھر ہو جائے گا اس لئے ضروری ھے کہ اس طرح کے وہم سے اپنے ذہن ودماغ کو پاک رکھیں تا کہ سماج کا چین وسکون غارت نہ ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب آئیے ایک نظر اندیشہائے دراز پر بھی ڈال لیں جن کا اظہار مفتی صاحب نے اپنی تحریر میں کیا ھے۔وہ لکھتے ہیں کہ بائیکاٹ کر نے کی وجہ سے ہزاروں لوگ جیل چلے جائیں گے تو ان کی ضمانت کون کرائے گا ؟
پہلی بات ھے کہ اگر صرف مسلمان ہی بائیکاٹ کریں گے تو تعداد ہزاروں نہیں کروڑوں پہونچ جائے گی اور اس بات کا امکان ھے بائیکاٹ میں دلت بھی شامل ھوں گے ان سب کو اگر جوڑ لیا جائے تو یہ تعداد چالیس پچاس کروڑ پہونچ جائے گی اتنی بڑی تعداد کو جیل میں رکھنا ممکن ھے؟جیل کے ضابطے اتنے حساس ہیں کہ تھوڑی سی تعداد بڑھ جانے سے افراتفری پھیل جاتی ھے اب تک حکو مت آسام کے ڈٹینشن سنٹر نہیں بنوا پائی ھے جہاں ہزاروں لوگوں کو رکھنا ھے تو کروڑوں لوگوں کیلئے جیل کیسے بنوا سکتی ھے ؟یہ نا ممکن بات ھے اور وہم کے سوا کچھ نہیں ھے،دوسری بات یہ کہ اگر پولیس گرفتار کرے گی تو کس قانون کے تحت کرے گی ؟ہندوستانی قانون کی کون سی دفعہ اس پر لا گو ہو گی؟ تیسری بات۔۔معلومات نہ دینا کوئی قابل تعزیر جرم ملکی قانون میں نہیں ھے ۔۔۔۔بلکہ سپریم کورٹ نے 2017 میں ایک فیصلہ دیا ھے یہ تاریخی فیصلہ نوججوں نے دیا ھے ہر پڑھے لکھے شخص کوضرور اس کا مطالعہ کرنا چاہئے ۔۔۔اس فیصلہ میں صاف صاف لکھا ھے کہ ہر شہری کو رائٹ ٹو پرائیویسی حاصل ھے یعنی ذاتی انفارمیشن دینے کیلئے کسی کو محبور نہیں کیا جا سکتا۔۔این پی آر کے سوالات خالص ذاتی نوعیت کے ہیں ان کیلئے جبر نہیں کیا جا سکتا یہ سپریم کورٹ کا واضح حکم ھے ہمیں اس فیصلہ کی کاپی یا کم از متعلقہ پیرا گراف کی نقل اپنے پاس ضرور رکھنی چاہئے تا کہ بوقت ضرورت دکھا سکیں۔مفتی صاحب کا دوسرا اندیشہ یہ ھے کہ بائیکاٹ کی وجہ سے ممکن ھےکہ حکومت شہریت ختم کر دے گی؟؟
۔یہ اندیشہ بالکل بے بنیاد ھے۔۔اس لئے کہ بائیکاٹ سپریم کوٹ کے حکم کے مطا بق ھو گا ۔۔۔اور جب کوئی فیصلہ سپریم کوٹ کے مطابق ہو تو اس پر شہریت ختم کرنے کا سوال ہی نہیں اٹھتا اس کو فورا سپریم کوٹ میں چیلنج کیا جا سکتا ھے ۔۔اور سب سے اہم بات یہ کہ یہ کوئی جرم نہیں ھے تو کس بنیاد پر شہریت ختم کی جائے گی؟شہریت ختم کرنے کیلئے این آر سی کرانا پڑے گا جس کا پہلا زینہ این آر پی ھے اس کے بغیر کسی کی شہریت ختم نہیں کی جا سکتی ھے واضح رھے کہ جو شخص ہندوستان میں پیدا ہوا وہ ہندوستانی ھے کوئی اس کی شہریت نہیں چھین سکتا ۔۔۔حال ہی میں آر ٹی آئی کے ذریعہ معلوم ہوا کہ وزیر اعظم بھی پیدائشی طور پر ہندوستانی ہیں ان کے پاس بھی این پی آر کے کاغذات نہیں ہیں سپریم کوٹ کے وکیل بھا نو پرتاپ نے اس کی کاپی شائع کر دی ھے واٹس ایپ کے ذریعہ وہ عام ہو چکی ھے اس کی ایک کاپی بھی اپنے پاس رکھیں اور گھروں کے باہر اس کو چپکا دیں۔۔۔لکھنؤ کے ایک مسلم محلہ میں یہ کام ہو چکا ھے ہمیں بھی اس نمونہ کو اختیار کر نا چاہئے۔
مفتی صاحب کا تیسرا اندیشہ ھے کہ بائیکاٹ سے بنک میں کھاتہ بند ہو جائے گا یہ بھی ممکن نہیں ھے اس لئے کہ بنک کھاتہ کھو لنے سے پہلے آئی ڈی مانگتی ھے ویری فائی کرتی ھے تب کھاتہ کھو لتی ھے آئی ڈی میں کیا کیا کاغذات چل سکتے ہیں ان کی تفصیل پہلے سے موجود ھے این پی آر کوئی آئی ڈی نہیں ھے یہ صرف رجسٹر میں اندراج کا نام ھے اس لئے بنک بطور آئی ڈی اس کا مطالبہ نہیں کر سکتی ھے جس کا پہلے سے کھاتہ ھے اس کیلئے مسئلہ نہیں ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مفتی صاحب کا چوتھا اندیشہ یہ ھے کہ کچھ جو شیلے نوجوان سرکاری اہلکار سے الجھ سکتے ہیں اور اس وجہ سے گرفتار ہو سکتے ہیں۔۔۔؟اس کا حل یہ ھے کہ ہر محلہ کی ایک کمیٹی بنائی جائے جس میں سمجھدار لوگ ہوں اور وہی بات کریں الحمد للہ آج کے حالات میں نوجوان کیا عورتیں بھی بیدار ہو گئیں ہیں اور حالات سے نمٹنے کا ہنر سیکھ گئی ہیں اس لئے آپ زیادہ تشویش میں نہ پڑیں ۔۔آج ملک میں جو بیداری کے آثار نظر آرہے ہیں اور حکومت جس دباؤ میں ھے وہ انہیں جوانوں اور عورتوں کی قربانیوں کا صلہ ھے ۔۔۔جب گولیاں چل رہی تھیں لاٹھیاں برس رہی تھیں اور پولیس کی بر بریت عروج پر تھی تب میدان میں یہی نوجوان تھے اور خواتین تھیں ۔۔علماء درس وتدریس میں مشائخ ذکر وتسبیح میں اور اصحاب افتاء فتوی نویسی میں مشغول تھے لیکن جب حالات کچھ بہتر ہوئے تو غیر ضروری مشورے دینے کیلئے آگے آگے نظر آرہے ہیں یقینا یہ افسوسناک اور لمحہ فکر بھی !!


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں