تازہ ترین

جمعرات، 12 مارچ، 2020

دیوبند:دیر رات آئے آندھی طوفان اور جھما جھم بارش بھی شہر کے عیدگاہ میں شہریت ترمیمی ایکٹ کی مخالفت میں غیر معینہ دھرنے پر بیٹھی خواتین کے حوصلوں کو پست نہیں کر سکی

دیوبند:دانیال خان(یواین اے نیوز12مارچ2020)جمہوریت کی بقاء اور دستور کی حفاظت کے لئے بلا تفریق دیوبند کی خواتین نے عید گاہ میدان میں گزشتہ27جنوری سے جو تحریک چلائی ہوئی ہے وہ موسم کی مار، انتظامیہ سے تقرار اور سیاست کے وار سے ذرہ برابر بھی کمزور نہیں ہوئی ہے،آج بھی تیز ہواؤں اور بارش کے باوجود خواتین میدان عمل میں ڈٹی رہیں۔دیر رات آئے آندھی طوفان اور جھما جھم بارش بھی شہر کے عیدگاہ میں شہریت ترمیمی ایکٹ کی مخالفت میں غیر معینہ دھرنے پر بیٹھی خواتین کے حوصلوں کو پست نہیں کر سکی،ساری رات خواتین ٹپکتے ہوئے پنڈال میں بیٹھی رہیں اور صبح ہوتے ہوتے پنڈال پوری طرح ٹوٹ پھوٹ گیا، بارش کی پرواہ نہ کرتے ہوئے انتظامات میں لگے لوگوں نے پنڈال کو دوبارہ تیار کرا دیا۔

دھرنا گاہ کے اسٹیج سے خطاب کرتے ہوئے زینب عرشی،فریحہ عثمانی اور ارم عثمانی نے کہا کہ ملک کی آزادی کے لئے علمائے دین اور مسلمانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور انگریزوں کو وطن عزیز سے بھگانے کے لئے مسلم ماؤں نے اپنے بیٹوں کو سر پر کفن باندھ کر روانہ کیا،ملک کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ملک کی زمین متعددعلماء،مجاہدین آزادی کے خون سے سینچی ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ عصر حاضر میں سیاہ قوانین کے خلاف ہماری جد و جہد جمہوری انداز میں جاری رہے گی۔ملک کے دستور کے تحفظ کے لئے سب کا متحد ہونا بے حد ضروری ہے۔ آمنہ روشی،فوزیہ سرور اور عذرا خان نے کہا کہ ملک میں نفرت کا ماحول پیدا کرنے کی فرقہ پرست طاقتوں کی ناپاک کوششوں کو ملک کی سیکولر عوام نے دہلی میں ناکام بنا دیا ہے،ملک کی اکثریت سیکولرزم پر یقین رکھتی ہے،ملک کی مرکزی حکومت سیاہ قوانین کے ذریعہ ملک کے امن و امان کو مکدر کرنے میں مصروف ہے،ملک میں امن و امان کی برقراری اور تمام شہریوں کے مساو یانہ حقوق کو یقینی بنانا ہمارے آئین و دستور میں شامل ہے۔

مگر افسوس کے مٹھی بھر فرقہ پرست طاقتیں ملک کی پر امن فضاء کو کشیدہ کرنے کے ساتھ ساتھ دلت،مسلم و دیگر پسماندہ طبقات کے نوجوانوں کو متنازع قوانین کے جال میں الجھا کرتعلیم سے دور رکھنے میں لگی ہوئی ہیں۔روبینہ،شہزادی اور بے بی قریشی نے کہا کہ مرکزی حکومت ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے اور اپنی اسی ناکامی کو چھپانے کے لئے مرکزی حکومت نے متنازع قوانین کو نافذ کرنے کا ارادہ کیا ہے،عجیب المیہ ہے کہ ملک میں اس وقت بے روز گاری،مہنگائی،جی ڈی پی،اور بینکو ں و شیئر بازار کا جوحال ہے وہ اتنا افسوس ناک ہے کہ اگر یہی حال رہا تو اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارا ملک برباد ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اس ملک کاآئینی دستو ر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہم سب آپس میں مل جل کر رہیں مگر مودی حکومت ملک کے سیکولر تانے بانے کو توڑکر ہن دو راشٹر کی جانب قدم بڑھا رہی ہے۔

خورشیدہ خاتون،عائشہ اور فاطمہ نے کہا کہ گزشتہ چھ سالوں سے ملک جن مشکلوں سے دو چار ہے اس کے لئے مرکزی حکومت ذمہ دار ہے،پہلے نوٹ بندی کرکے ہمیں اس حکومت نے لائنوں میں کھڑا کیا اور اب شہریت ثابت کرنے کے لئے ایک بار پھر حکومت ہمیں لائنوں میں لگانا چاہتی ہے لیکن حکومت کے اس ناپاک منصوبے کو ہم کسی طور پر کامیاب نہیں ہونے دینگے چاہے اس کے لئے ہمیں کیسے بھی حالات کا سامنا کیو ں نہ کرنا پڑے۔وہیں محلہ محل اور شہر کی مختلف مساجد میں شہر کے لوگوں نے میٹنگوںکا انعقاد کر مجوزہ این پی آر کے تحت سروے ٹیم کو کسی بھی طرح کی تفصیلات فراہم نہ کرنے کا فیصلہ اتفاق رائے سے لیا اور این آر سی و این پی آر سے متعلق عوام میں شعور بیدار کرنے کے لئے محلہ کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad