تازہ ترین

اتوار، 29 مارچ، 2020

ہر وقت کورونا وائرس پر چرچہ کرنے اور سوچنے سے بیمار ہوسکتے ہیں:ماہرین

مین پوری:حافظ محمد ذاکر(یواین اے نیوز 29مارچ2020)اس بھاگ دوڑ کی زندگی میں اچانک سے وقفہ کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔کورونا وائرس نے اچانک لوگوں کو گھروں میں رہنے کو مجبور کر دیا ہے۔ جب کہ حکومت کورونا وائرس کو شکست دینے کی پوری کوشش کر رہی ہے، ہماری بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم صبر اور تحمل کے ساتھ حکومت اور انتظامیہ کا ساتھ دیں۔ عالمی وبائی مرض کی حیثیت اختیار کرنے والا کورونا وائرس کو شکست دینے کے لئے ضروری ہے کہ ہم تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے اپنے اہل خانہ کے ساتھ سارا وقت گزاریں۔ اپنے دماغ اور دل پر کورونا کے خوف کو اثر انداز نہ ہونے دیں۔ گھر والوں سے ہر وقت کورونا کے بارے میں گفتگو نہ کریں۔اورورونا وائرس کے متعلق بار بار سوچیںگے تو آپ ذہنی دباؤ میں آجائیںگے۔قوت مدافعت آپ کے جسم سے جواب دیجائیگی۔اس لحاظ سے چھوٹے سے چھوٹے مرض سے مقابلہ کرنا بہت ہی مشکل ہو جائیگا۔دماغی امراض صحت کے ماہرین ڈاکٹر سنیل پانڈے کا کہنا ہے کہ جس چیز کو ہم بار بار سوچتے ہیں یا بار بار تذکرہ کرتے ہیں،وہ پھر ہمارے دل و دماغ پر حاوی ہو جاتا ہے۔ ایسی صورتحال میں اس کا نفع نقصان ظاہر ہونا شروع ہوجاتا ہے جو کسی کے لئے بھی خطرناک ہوسکتا ہے۔ لاک ڈاؤن کی صورت میں تمام چیزیں روک رکھی ہیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے معمولات کو تبدیل کریں۔ ٹی وی، اخبار اور سوشل میڈیا میںصرف کورونا کو دیکھنے سے گریز کریں، اور صرف اپنے بال بچوںکے ساتھ خوشگواری کے ساتھ وقت کو گزاریں، بار بار ایک ہی تذکرہ سے آپ ذہنی دباؤ میں آکرخود کو اور گھر کے دیگر افراد کو بیمار بنا لیں گے۔ اس سے بچنے کے لئیانہوں نے ٹی وی 

سیریل دیکھنے، کتابیں پڑھنے وغیرہ کا مشورہ دیا۔
اگر آپ کو کھانا پکانے کا شوق ہے تو، پھر کچن میں کچھ وقت گزاریں:اگر آپ کو کھانا پکانے کا شوق ہے تو اپنے ہاتھوں سے کچھ نئے پکوان بنائیں،اور اپنے گھر کے افراد کے ساتھ مل بانٹ کر کھائیں۔ ایسا کرنے سے گھر کے دیگر افراد میں آپ کا احترام بڑھیگا۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی ذہن میں رکھیں کہ ہر کام میں صفائی کے ساتھ ایسی ڈش بنائیں جس سے لوگوں کی قوت مدافعت میں اضافہ ہوجائے، پسندیدہ سیریل اور فلمیں دیکھیں، یا اپنی پسند کتابیں پڑھیں،جب کورونا نے کچھ ملازموں اور تاجروں سے بات کی جو گھر پر وقت گزار رہے تھے تو ان کا کہنا تھا کہ جو حالات پیش آرہے ہیں اس میں صبر کی ضرورت ہے۔گھر کے وہ زرگ جن کی عمر ٦٠ / سال سے زیادہ ہے ایسے لوگوں کو کورونا وائرس کا زیادہ خطرہ رہتا ہے۔ کیونکہ ان کی قوت مدافعت دوسروں کے مقابلے میں کمزور ہے۔ اس بات کو دھیان میں رکھتے ہوئے اپنے گھر کے بزرگوںکو آگاہ۔ ڈاکٹر بھی اس بات کو بار بار دہرا رہے ہیں،محکمہ صحت پوسٹروں، بینروں اور پر چوں کی مدد سے بزرگوں ضروری ہدایات دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ پوسٹر میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ ضعیف لوگ آسانی سے کورونا کا شکار ہوسکتے ہیں، لہذا احتیاط ہی اصل کورونا سے دفاع ہے۔ پوسٹروں میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ اگر آپ کی عمر 60 سال یا اس سے زیادہ ہے تودو چیزوں کا خیال رکھیں گھر سے باہر نہ نکلیں اور بھیڑ والی جگہوںپر نہ جائیںوہا ںکرونا وائرس کا خطرہ زیادہ رہتا ہے۔اگرر آپ کو ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، دل یا پھیپھڑوں کی بیماری ہے توباقاعدگی سے علاج جاری رکھیں۔ ان حالات میں بھی ڈاکٹر کے مشورے پر ہی ہسپتال جائیں۔انفیکشن سے بچنے کے لئے ان چیزوں کا خیال رکھیں،کھانسی یا چھینک آنے پر ہاتھوں کی بجائے کہنی یا ٹشو پیپر کا استعمال کریں اور استعمال کے بعد ٹشو پیپر کو ڑے دان میں ڈال دیں،صابن اور صاف پانی سے بار بار ہاتھ دھوئے۔بخار، کھانسی یا سانس لینے میں دشواری ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔کورونا کے بارے میں مزید معلومات کے لئے رابطہ کریں۔میڈیکل، ہیلتھ اینڈ فیملی ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ، اتر پردیش - 1800-180-5145، وزارت صحت و خاندانی بہبود - 011- 23978046، ٹول فری نمبر- 1075

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad