تازہ ترین

اتوار، 29 مارچ، 2020

مزدوروں اور غریبوں میں تقسیم کی جا رہی ہیں کھانے کی اشیاء

پٹنہ(یواین اے نیوز 29مارچ2020)لاک ڈاؤن کا اثر راجدھانی پٹنہ سمیت ریاست کے مختلف علاقوں میں نظر آ رہا ہے۔ لاک ڈاؤن سے روزانہ مزدوری کرنے والے مزدور اور غریب طبقے کے لوگ سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ ان کی پریشانی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب پٹنہ ٹوئنٹی فور انٹو سیون اور نفیس ایجوکیشنل فاؤنڈیشن کی ٹیم مختلف علاقوں میں کھانے کی اشیاء لے کر پہنچ رہی ہے تو بھوکے اور پریشان حال لوگ ان کی طرف ٹوٹ پڑ رہے ہیں۔مذہب یا کسی بھی قسم کی تفریق کے بغیر ٹیم کے اراکین پٹنہ کے مختلف علاقوں میں راحت رسانی کا کام کر رہے ہیں۔ پٹنہ ٹوئنٹی فور انٹو سیون کے پیج ایڈمن آصف حیات نے بتایا کہ جب تک لاک ڈاؤن رہے گا ہم لوگ ایسے افراد تک پہنچ کر انہیں کھانے پینے کی اشیاء فراہم کرتے رہیں گے۔ آصف حیات نے کہا کہ اس وقت لاکھوں افراد بھوک مری کا شکار ہیں۔ ایسے لوگوں تک پوری احتیاط کے ساتھ اشیائے خوردنی پہنچانا ایک بڑا چیلنج ہے اس کے باوجود نوجوان ہر طرح کی احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے سماج کے محروم طبقے تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ پٹنہ ٹوئنٹی فور انٹو سیون کے ذریعہ اس سے قبل بھی سیلاب اور فساد کے مواقع پر راحت رسانی کا کام کیا جاتا رہا ہے۔دوسری جانب آصف حیات نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ایسے نازک حالات میں بھی کچھ لوگ مذہب اور ذات برادری کی تفریق پیدا کر رہے ہیں۔انہوں نے کمہار اسمبلی حلقے سے بی جے پی کے رکن اسمبلی ارون کمار سنہا کے ذریعہ لاک ڈاؤن میں غریبوں کے بیچ اناج کی تقسیم میں مذہبی بنیاد پر تفریق کرنے کا الزام لگایا۔ ارون کمار سنہا نے انتظامیہ کو پسماندہ بستیوں کی جو فہرست بھیجی ہے اس میں اقلیتی آبادی کو نظر انداز کیا گیا ہے۔آصف حیات نے بتایا کہ ذکی الحق کالونی کمہرار، عبدالباری بھون درگاہ روڈ جیسے علاقے اگر کمہرار اسمبلی حلقے میں آتے ہیں تو رکن اسمبلی کو ان علاقوں کو نظر نہیں کرنا چاہیے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad