تازہ ترین

جمعہ، 28 فروری، 2020

دلی تشدد میں اپنی لاکھوں کی جائداد کو کھونے والے طاہر حسین پر قتل اور آگ زنی کا معاملہ درج

نئی دہلی:(یو این اے نیوز 27فروری 2020) عام آدمی پارٹی  کے رہنما طاہر حسین اور دیگر نامعلوم افراد پر قتل اور آتش زنی کے الزامات عائد کیے گئے بھہیں ، آج شام یہ الزام لگایا گیا تھا کہ وہ انٹلیجنس بیورو (آئی بی) کے ملازم انکیت شرما کی ہلاکت میں ملوث تھا انکیت شرما ، جس کی لاش ظفرآباد میں اس کے گھر کے قریب ایک نالے سے ملی تھی ،   آج جاری ہونے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ، اس کے جسم پر کئی وار کے نشان لگے ہیں۔

 بدھ کے روز لاش ملنے کے بعد ، انکت شرما کے والد رویندر شرما ، جو خود بھی آئی بی ملازم ہیں ، انھوں نے الزام لگایا کہ ان کے بیٹے کو مسٹر حسین کے مبینہ حامیوں نے قتل کیا ہے۔  انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے بیٹے کو زدوکوب کرنے کے بعد گولی مار دی گئی۔آج بی جے پی کے رہنما کپل شرما نے بھی یہ الزام لگایا کہ مسٹر حسین انکیت شرما کی موت میں ملوث تھے ۔واضح رہے دہلی تشدد بھڑکانے کے الزام میں کپل مشرا پر الزام عائد کیا گیا تھا لیکن ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے۔  جبکہ ہائی کورٹ نے اس کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا ہے ۔  یہ وہی کپل شرما ہے جس نے مظاہرین کو پولیس کے سامنے سڑک خالی کرنے کی دھمکی دی تھی اور بعد میں ہنگامہ برپا ہوگیا ۔کپل مشرا ،جو غیر مہذبانہ تبصرے اور بھڑکاؤ بیان اپنی ایک تاریخ رکھتے ہیں ، اس نے طاہر حسین پر  الزام لگایا اور پولیس نے ایف آئی آر بھی درج کرلی۔

 وہیں تشدد میں،اپنی 3 منزلہ عمارت کے  تباہ ہوتے دیکھنے والے  طاہر حسین  ، نے کل اور آج ایک ویڈیو میں ان الزامات کی تردید کی ہے۔  انہوں نے کہا کہ ان کا کنبہ اور وہ "24 کو پولیس کی موجودگی میں کسی محفوظ جگہ گئے تھے" اور اس کے بعد کبھی گھر نہیں لوٹے۔  انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی دنگائیوں کا شکار ہوئے ہیں،دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے آج ان الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا: "کسی بھی پارٹی کا کوئی بھی ہو،اگر انہیں تشدد بھڑکانے کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے تو انہیں بخشا نہیں جانا چاہئے۔اس درد ناک تشدد  میں اب 38 افراد کے ہلاک ہونے کی خبر ہے  اور 200 سے زیادہ زخمی ہونے کی ۔ دہلی پولیس اور وزارت داخلہ ، دونوں کے  پاس پولیس کی رپورٹس ہے ،دونوں نے کہا ہیکہ فی الحال صورتحال قابو میں ہے ، لیکن چھڑپ ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی ہے تشدد زدہ علاقوں میں رہنے والے اب بھی خوف کے سائے سانس لے رہے ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad