تازہ ترین

ہفتہ، 22 فروری، 2020

سڑک حادثہ میں خاتون کی موت کا معاملہ:لڑکی کے والد نے داماد پر لگایا قتل کا الزام

دیوبند،دانیال خان(یواین اے نیوز21فروری2020)گزشتہ روڑ سڑک حادثہ میں ہوئی شادی شدہ کی موت کے معاملہ میں اس وقت نیا موڑ آ گیا جب متوفی خاتون کے والد نے پولیس کو دی گئی تحریر میں داماد پر ہی اپنی بیٹی کو قتل کرنے کا الزام لگایا ہے،متاثرہ والد نے سرک حادثہ کو قتل سے بچنے کا ڈرامہ قرار دیتے ہوئے ملزم داماد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کئے جانے کا مطالبہ پولیس سے کیا ہے۔پولیس نے تحریر کی بنیاد پر معاملہ کی سنجیدگی سے جانچ شروع کر دی ہے۔واضح ہو کہ بدھ کے روز دیوبند منگلور روڑ پر کالی ندی کے نزدیک کار بے قابو ہوکر کھائی میں پلٹ گئی تھی،جس کے نتیجہ میں محلہ نیچل گڑھ کے رہنے خرم کی اہلیہ شبنم کی موقع پر ہی موت ہو گئی تھی جبکہ کار چلا رہا خرم زخمی ہو گیا تھا،اس معاملہ میں نیا موڑ اس وقت آ گیا جب محلہ پٹھانپورہ کے رہنے والے متوفی خاتون شبنم کے والد محمد شاہد نے اپنے داماد پر اپنی بیٹی کو قتل کرنے کا الزام لگاتے ہوئے پولیس کو تحریر دی۔

متاثرہ والد کا الزام ہے کہ خرم شادی کے بعد سے ہی اسکی بیٹی شبنم کے ساتھ مارپیٹ کرتا چلا آ رہا تھا،جس کے متعلق شبنم نے خرم کے خلاف 31مارچ 2017کو دیوبند کوتوالی میں مقدمہ بھی درج کرایا تھا لیکن محلہ کے ذمہ داران نے میاں بیوی کے درمیان سمجھوتہ کرا دیا تھا،شاہد کا الزام ہے کہ خرم نے ایک دوسری خاتون سے بھی شادی کی ہوئی ہے جس کا علم انہیں سال 2017 میں ہوگیا تھا،اسی وجہ سے شبنم نے اپنی جان کو خطرہ میں بتاتے ہوئے کوتوالی میں تحریر بھی دی تھی لیکن اس پر کوئی کوئی کارروائی نہیں ہو سکی تھی،شاہد کے مطابق قریب ڈیڈھ ماہ قبل خرم نے شبنم کو جان سے مارنے کی نیت سے اسکے اوپر مٹی کا تیل ڈال کر آگ بھی لگا دی تھی۔

تحریر میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ روز ملزم داماد نے اپنے ایک نامعلوم ساتھی کے ساتھ ملکر اسکی بیٹی کو قتل کر دیا اور کالی ندی کے نزدیک کار کو کھائی میں گرا کر قتل کو حادثہ کی شکل دینے کی کوشش کی۔وہیں خرم کے اہل خانہ نے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔پولیس نے متاثرہ والد کی تحریر پر معاملہ کی جانچ سنجیدگی سے شروع کر دی ہے۔کوتوالی انچارج یگھ دت شرما نے بتایا کہ جانچ کے بعد ہی کچھ کہا جا سکتا ہے،پولیس نے ہر پہلو سے جانچ شروع کر دی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad