دیوبند،دانیال خان(یواین اے نیوز 28فروری2020)خواتین متحدہ کمیٹی کے زیر اہتمام شہریت ترمیمی ایکٹ کی مخالفت میں دیوبند کے عید گاہ میدان میںجاری غیر معینہ دھرنا آج 33ویں دن میں داخل ہو گیاہے، مگر خواتین نے ہمت نہیں ہاری ہے اور ان کا حوصلہ بر قرار ہے،ہر طرف سے انکی پزیرائی بھی ہو رہی ہے اور شہر کے مختلف محلوں و آس پاس کے علاقوں سے خواتین بڑی تعداد میں روز ستیہ گرہ میں شامل بھی ہو رہی ہیں۔خواتین کا کہنا ہے کہ کالے قانون کی واپسی تک دھرنا واپس نہیں لیا جائے گا۔آج کے دھرنے کو خطاب کرتے ہوئے شبانہ،روبینہ،ارم عثمانی اور گلناز نے کہا کہ آج ملک میں مکمل طور پر افراتفری کا ماحول بنا ہو ا ہے،ملک کساد بازاری سے گزر رہا ہے،مہنگائی اور بے روزگاری عروج پر ہے،ملک میں ذات اور نفرت کے نام پر نفرت پھیلائی جا رہی ہے جس پر بحث نہیں ہو رہی ہے بلکہ شہریت ترمیمی ایکٹ کی مخالفت کرنے والے افراد کو سازش کرکے پھنسانے کا کام کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پرامن اختلاف رائے رکھنے والوں پر ریاستی جبر کی لیبارٹری بن چکی ہے جس کی تازہ مثال دہلی ہے جہاںدوران تشدد دو درجن سے زیادہ لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔نے شمال مشرقی دہلی میں تشدد کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کو غیر جانبدار رہتے ہوئے پر امن احتجاجیوں کے ساتھ تعاون کرنا چاہئے،انہوں نے کہا کہ ہمیں اس طرح کا اندیشہ ہے کہ یہ تشدد ملک کے دوسرے مقامات پر بھی پھیل سکتے ہیں،انہوں نے کہا کہ د ہلی میںہوئے اتنے بڑے تشدد کے بعد بھی مرکزی حکومت کی جانب سے اب تک کوئی مذمت نہیں کی گئی ہے جو بڑے افسوس کی بات ہے اور پولیس کا رویہ بھی ان واقعات میں ناقابل فہم ہے۔انہوں نے کہا کہ دہلی الیکشن کی ہار کے بعد بی جے پی کی نیند اڑی ہوئی ہے اسی لئے اب دہلی کو تختہ مشق بنایا گیا ہے تاکہ شاہین باغ اور اس طرح کے دوسرے مقامات پر ہونے والے احتجاجیوں کو روکا جا سکے اور مظاہرین میں خوف و دہشت پھیلائی جا سکے۔
آمنہ روشی،سلمہ احسن،عذرا خان،فریحہ عثمانی اور زینب عرشی نے کہا کہ کچھ ایمان فروش لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ بی جے پی حکومت ان کو چور دروازے سے شہریت دے دیگی تو یہ ان کی غلط فہمی ہے اس لئے کسی بھی خواب غفلت میں نہ رہکر انہیں مظاہرین کا ساتھ دینا چاہئے اور یہ سوچنا چاہئے ملک کا دستور جب غیر مذہبی ہے تو مذہب کی بنیاد پر یہ قدم کیوں اٹھایا گیا ہے،انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور ر ایس ایس نے شاید ملک کی تاریخ نہیں پڑھی ہے،نہ ہی ان کو یہ پتہ ہے کہ اس ملک کوآ زاد کرانے میں تمام طبقات نے حصہ لیا تھا،اگر انکو یہ معلوم ہوتا تو مسلم مخالف سیاہ قانون نہیں بنایا گیا ہوتا،انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے لئے یہ قانون لیکر آئی ہے تاکہ وہ آسانی کے ساتھ ملک کے لوگوں کو مسائل میں الجھا کر ملک کا سرمایہ پرائیویٹ کمپنیوں کو فروخت کر سکیں۔ شائستہ،انم،پروین،گڑیا اور صفوانہ نے کہا کہ حکمراں طبقہ یہ چاہ رہا ہے کہ کسی طرح سی اے اے اور این ر سی کے معاملہ میں ہندو اور مسلمان خانوں میں بنٹ جائیں اور لوگوں کے درمیان سماجی فاصلے پیدا کر دئے جائیں انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے جہاں آپسی بھائی چارہ بنا ہوا ہے اور اس ملک میں باہمی یگانگت اس حد تک ہے کہ ملک میں لوگ بلا لحاظمذہب ایک دوسرے کا تعاون کرتے ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں