محمد عباس دھالیوال،
مالیر کوٹلہ ،پنجاب.
رابطہ 9855259650
کب تک جھلسے گا دیش یونہی
نفرت بھرے انگاروں سے
کب تک ہم اپنے بچوں کو
یوں لڑتے مرتے دیکھیں گے
معصوموں کا بہے گا اور کتنا خون
اور ہونگے کتنے بچے قتل
ہونگی کتنی گودیں سُونی
اور کتنی مانگیں اجڑیں گی
بلوائیوں کی آگ زنی سے
جلیں گے ابھی اور کتنے گھر
کب تک محافظ ہم کو یوں
تماشائی بن کر دیکھیں گے
پٹّی انصاف کی آنکھوں پہ
یوں کب تک باندھے رکھیں گے
باغباں ہی کے ہاتھوں سے
یوں اجڑے گا کب تک یہ چمن
کب تک ضمیر فروش یہاں
عوام کی بولی لگائیں گے
ظلم کی شب ابھی کتنی اور
یہاں لمبی کھنچتی جائے گی
انتظار میں اس کے ہیں ہم بھی
جب امن کی پہلی کرن اُگ کر
اس دنیا کو رُشنائے گی.
اور پھیلے ظلمت کے اندھیرے کو
ہر سمت سے دور بھگا ئے گی..

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں