آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
ازقلم،(ڈاکٹر) عبدالوحید قاسمی بانی اسماء عربک کالج پارہ کمال جونپور
(فائل فوٹو)
یہ غیر متوقع خبر سامعہ پر برق بن کر گری کہ آج سرمایہ ملت کا ایک نگہبان اور علوم نبوت کا پاسبان ہم سے اچانک جدا ہوگیا. حضرت مفتی عبداللہ صاحب پھولپوری جنہیں اب رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہوئے کلیجہ منھ کو آتا ہے. اپنی گوناگوں خصوصیات کی بناء پر ہمیشہ دل وجگر میں رہے. موصوف ایک عظیم دینی خون خاندان کے وارث تھے اور ایک مشہور ادارے کے روح رواں تھے. آپ کی عظیم القدر کاوشوں کے شہکار بیت العلوم سے راقم کا آبائی اور قلبی رشتہ تھا. یہ ادارہ میرے نانا معروف عالم دین مولانا محمد خان صاحب چھتے پوری کی ابتدائی کوششوں سے شروع ہوا تھا. والد ماجد مولانا عبدالرشید صاحب رحمۃ اللہ علیہ بھی اس کے فیض یافتہ تھے. ان رشتوں کی وجہ سے جب بھی بیت العلوم میں حاضری کی توفیق ملی تو موصوف کی خصوصی عنایتیں نصیب ناچیز ہوئیں. علم وتعلیم, سیاست وصحافت, دعوت وارشاد , بیان وخطابت, درس وتدریس اور امت وانسانیت کی بے شمار خدمات کے ساتھ وہ بندہ خدّار اب جوار رحمت میں پہنچ چکا ہے. اس کم عمری میں انہیں امت میں جو مقبولیت حاصل تھی وہ رشک علماء واکابر تھی. صدمات زدہ دل کے لیے یہ بات وجہ تسلی ہے کہ خدا نے انہیں جان جان آفریں کو سپرد کرنے کے وقت اپنے حرم محترم میں بلا لیا. کسی بندے کی قبولیت کے لیے اس سے بڑے اور کیا آثار ہوسکتے ہیں کہ اسے جنت المعلی میں تا قیام قیامت جگہ مل جائے.
خدا انہیں جنت الفردوس نصیب فرمائے.
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
غنچہ نو رستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں