ضلع کے نو بلدیاتی سیٹوں کے امیدواروں کی قسمت ووٹنگ مشین میں ہوئی قید
جونپور،رپورٹ،حاجی ضیاءالدین(یواین اےنیوز30نومبر2017) ضلع کی ۹ ؍ بلدیاتی سیٹوں جن میں سے تین نگر پالیکا پریشد سمیت چھ نگر پنچایت سیٹوں پر ووٹروں نے اپنے پسندیدہ امیدوروں کے حق میں ووٹ کر ان کی قسمت کا فیصلہ کر دیا۔ ضلع میں پرامن طور پرا نتخاب کرا نے کے لئے انتظامیہ نے سخت حفاظتی بندو بست کیا تھاتو وہیں سابق وزیرسمیت کچھ لوگوں کانام ووٹر لسٹ سے غائب ہو نے پر ہنگامہ کر نے والوں کو پولیس نے طاقت کا مظاہرہ کر تے ہو ئے بھگا نے کے علاوہ فرضی ایجنٹ سمیت چند لوگوں کو اپنی زد میں لے لیا ۔تفصیلات کے مطابق شہر کے بوتھ نمبر ۱۵۱ ؍محلہ کالی کتی ( قاضی قطب علی )کے سرسوتی بال ودیامندر پولنگ مرکز پر سابق کابینی وزیر پارس ناتھ یا دو وٹ پہنچے تو ووٹر لست میں نام غائب ہو نے کی اطلاع پر ناراضگی ظاہر کر تے ہوئے بیرنگ واپس لوٹ گئے ان کے جانے کے بعد بعض لوگوں نے ووٹر لسٹ میں نام غائب ہو نے پر ہنگامہ شروع کر دیا جس پر پولیس نے طاقت کا مظاہرہ کر کے قابو پا یا اور لوگوں کے مطابق پولیس نے سیاسی پارٹیوں کے ا یجنٹوں کو بھیڑ نہ لگا نے کی نصیحت دیتے ہو ئے ہدایت دی کی صرف ایک لوگ کے علاوہ کو ئی بھی نہیں بیٹھے ۔اس کے علاوہ پولیس نے آنے جانے والوں کو بھی نہیں بخشا اتنا ہی نہیں بلکہ آٹو رکشہ ، موٹر سائیکل والوں سمیت دیگر گاڑی مالکان کو بھی نہیں بخشا گیا ۔اس ضمن میں ریٹرنگ افسر پرینکا پریہ درشنی نے کہا کہ صاف شفاف انتخاب کرا نے کے لئے سختی برتنی پڑتی ہے ۔ فیض باغ واقع منڈی احاطہ میں ایس پی امیدوار پونم موریہ کے لوگوں کے علاوہ بی ایس پی امیدوار کے ایک حامی جس کی سیاسی گلیاری میں پیٹھ مانی جاتی ہے کو اے ایس پی انل کمار پناڈے نے بٹھا لنے کے بعد سخت طور پر متنبہ کر تے ہو ئے چھوڑ دیا ۔بدلا پو ر نگر پنچایت میں صدر عہدے کاایک حامی دو بارہ ووٹ ڈالنے پہنچا تو پولیس والوں نے جم کر پٹائی کر دیا۔منڈیاہوں سے بی جے پی سے صدر امیدوارکے حامیان نے فرضی ووٹنگ کا الزام لگا تے ہو ئے جم کر ہنگامہ آرائی کیا ۔س وہیں کھیتا سرا ئے نگر پنچایت کے سوندھی بلاک پولنگ مرکز اور ببھنوٹی پولنگ مرکز پر درجنوں ووٹروں کانام ووٹر لسٹ سے غائب ہو نے پر
لوگ ووٹ دینے سے قاصر رہے جس میں اقلیتی طبقہ کے لوگوں کی تعداد میں کثیر رہی ۔یہاں پر ببھنوٹی پولنگ مرکز پر محمد یوسف ۷۵ان کی اہلیہ ستارہ ۷۰ ، بھائی جاوید ۵۰ ان کی اہلیہ نسرین ۴۵ بیٹی تبسم (۲۸) رخسار (۲۶)سمیت پورے گھر کا نام ووٹر لسٹ سے غائب رہا ہے یہی حالت سوندھی بلاک کے بھٹیاری سرائے محلہ کے قیصر جہاں (۶۵)لائق علی (۶۵)نثار خان (۷۰) رخسانہ (۵۵) کا نام ووٹر لسٹ سے غائب رہا ۔وہیں شاہ گنج قصبہ میں بلدیاتی انتخاب میں کسی طرح کا کوئی رخنہ پیدا نہ ہو ا اس کے لئے افسران گشت کر رہے تھے کہ اسی دوران انتظامیہ کو اطلاع ملی کی اعظم گڑھ روڈ پر واقع مہاراشٹر بینک احاطہ میں سیکڑوں لو گوں کی بھیڑ میں سے کچھ لوگ فرضی ووٹنگ کر نے والے ہیں جس پر ایس ڈی ایم جے ا ین سچان نے اپنی ٹیم کے ساتھ چھاپہ مارکر بدلا پور تھا نہ کے رہنے والے نصف درجن لوگوں کو حراست میں لے لیا ۔ مچھلی شہر نگر پنچایت میں مذہبی مقام پر بی جے پی لیڈر کی جانب سے پرچی بنا ئے جانے کی اطلاع ملنے پر پولیس کے ذریعہ حراست میں لینے کے بعد سیاسی دباؤ میں آکر رہا کر دئے جانے کی اطلاع موصو ل ہو ئی ہے ۔ منگر ابادشاہ پو ر میں ایک خاص پارٹی کے حق میں فرضی ووٹنگ ہو نے کی اطلاع پر پہنچے صحافیوں کو بھی اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی ۔اس ضمن میں جب ایس ڈی ایم مچھلی شہر سے فون پر رابطہ کیا گیا توبتا یا کہ صحافیوں کو اندر جانے کی اجازت نہیں ہے ۔ واضح ہو کہ ضلع میں ۹ سیٹوں کے صدر عہدے کے لئے ۸۷؍ اور کارپوریٹر عہدے کے لئے ۱۰۵۳؍امیدوار وں کی قسمت کا فیصلہ تین لاکھ ۱۲ ہزار ۵۰۸ ووٹروں نے قسمت کا فیصلہ کردیا ہے جس میں خواتین ووٹروں ایک لاکھ ۴۴ ہزار۴۳۵ شامل ہیں ۔ کل ملاکر۴۲۲ بوتھوں پر سخت حفاظتی بندوبست کے تحت ووٹنگ شروع وہوئی جن میں نگر پالیکا پریشد جونپور میں صدر عہدے کے لئے ۱۲ ؍ا ور کارپوریٹر ۳۲۸،نگر پالیکا منگرا بادشاہ پو ر میں صدر عہدے کے لئے ۶ عدد اورکارپوریٹر عہدے کے لئے ۹۱؍ امیدوار ،اور شاہ گنج نگر پالیکا پریشد صدر کے لئے گیارہ اور کارپوریٹر کے لئے ۱۴۴ ؍امیدوار میدان میں تھے ۔وہیں ظظر آباد نگر پنچایت عہدے کے لئے ۷ اور کارپوریٹر کے لئے ۵۴؍ امیدوار ، مچھلی شہر نگر پنچایت میں صدر عہدے کے لئے ۵ ، اور کارپوریٹر کے لئے ۸۳،منڈیاہوں نگر پنچایت صدر کے لئے ۱۰ ؍اور کارپوریٹر کے لئے ۸۹ ؍امیدوار ، کھیتا سرا ئے میں صدر عہدے کے ئے ۸ اور کارپوریٹر کے لئے ۷۸؍ امیدوار ، تو وہیں پہلی بار وجود میں آئی بدلا پو ر سیٹ پر صدر عہدہ کے لئے ۲۱ ؍اور کارپوریٹر کے لئے۱۳۵؍ا میدوار میدان میں قسمت آزما رہے تھے ۔
لوگ ووٹ دینے سے قاصر رہے جس میں اقلیتی طبقہ کے لوگوں کی تعداد میں کثیر رہی ۔یہاں پر ببھنوٹی پولنگ مرکز پر محمد یوسف ۷۵ان کی اہلیہ ستارہ ۷۰ ، بھائی جاوید ۵۰ ان کی اہلیہ نسرین ۴۵ بیٹی تبسم (۲۸) رخسار (۲۶)سمیت پورے گھر کا نام ووٹر لسٹ سے غائب رہا ہے یہی حالت سوندھی بلاک کے بھٹیاری سرائے محلہ کے قیصر جہاں (۶۵)لائق علی (۶۵)نثار خان (۷۰) رخسانہ (۵۵) کا نام ووٹر لسٹ سے غائب رہا ۔وہیں شاہ گنج قصبہ میں بلدیاتی انتخاب میں کسی طرح کا کوئی رخنہ پیدا نہ ہو ا اس کے لئے افسران گشت کر رہے تھے کہ اسی دوران انتظامیہ کو اطلاع ملی کی اعظم گڑھ روڈ پر واقع مہاراشٹر بینک احاطہ میں سیکڑوں لو گوں کی بھیڑ میں سے کچھ لوگ فرضی ووٹنگ کر نے والے ہیں جس پر ایس ڈی ایم جے ا ین سچان نے اپنی ٹیم کے ساتھ چھاپہ مارکر بدلا پور تھا نہ کے رہنے والے نصف درجن لوگوں کو حراست میں لے لیا ۔ مچھلی شہر نگر پنچایت میں مذہبی مقام پر بی جے پی لیڈر کی جانب سے پرچی بنا ئے جانے کی اطلاع ملنے پر پولیس کے ذریعہ حراست میں لینے کے بعد سیاسی دباؤ میں آکر رہا کر دئے جانے کی اطلاع موصو ل ہو ئی ہے ۔ منگر ابادشاہ پو ر میں ایک خاص پارٹی کے حق میں فرضی ووٹنگ ہو نے کی اطلاع پر پہنچے صحافیوں کو بھی اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی ۔اس ضمن میں جب ایس ڈی ایم مچھلی شہر سے فون پر رابطہ کیا گیا توبتا یا کہ صحافیوں کو اندر جانے کی اجازت نہیں ہے ۔ واضح ہو کہ ضلع میں ۹ سیٹوں کے صدر عہدے کے لئے ۸۷؍ اور کارپوریٹر عہدے کے لئے ۱۰۵۳؍امیدوار وں کی قسمت کا فیصلہ تین لاکھ ۱۲ ہزار ۵۰۸ ووٹروں نے قسمت کا فیصلہ کردیا ہے جس میں خواتین ووٹروں ایک لاکھ ۴۴ ہزار۴۳۵ شامل ہیں ۔ کل ملاکر۴۲۲ بوتھوں پر سخت حفاظتی بندوبست کے تحت ووٹنگ شروع وہوئی جن میں نگر پالیکا پریشد جونپور میں صدر عہدے کے لئے ۱۲ ؍ا ور کارپوریٹر ۳۲۸،نگر پالیکا منگرا بادشاہ پو ر میں صدر عہدے کے لئے ۶ عدد اورکارپوریٹر عہدے کے لئے ۹۱؍ امیدوار ،اور شاہ گنج نگر پالیکا پریشد صدر کے لئے گیارہ اور کارپوریٹر کے لئے ۱۴۴ ؍امیدوار میدان میں تھے ۔وہیں ظظر آباد نگر پنچایت عہدے کے لئے ۷ اور کارپوریٹر کے لئے ۵۴؍ امیدوار ، مچھلی شہر نگر پنچایت میں صدر عہدے کے لئے ۵ ، اور کارپوریٹر کے لئے ۸۳،منڈیاہوں نگر پنچایت صدر کے لئے ۱۰ ؍اور کارپوریٹر کے لئے ۸۹ ؍امیدوار ، کھیتا سرا ئے میں صدر عہدے کے ئے ۸ اور کارپوریٹر کے لئے ۷۸؍ امیدوار ، تو وہیں پہلی بار وجود میں آئی بدلا پو ر سیٹ پر صدر عہدہ کے لئے ۲۱ ؍اور کارپوریٹر کے لئے۱۳۵؍ا میدوار میدان میں قسمت آزما رہے تھے ۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں