تازہ ترین

جمعرات، 22 دسمبر، 2022

ہندوستان میں اسلام کی اشاعت میں صوفیاء کا اہم کرؒدار /ڈاکٹر اسداحمد

 

عہد سلطنت کے ہندوستان میں مذہبی رواداری کی عام فضا قائم تھی/پروفیسر اقتدار محمد خان

تاریخ کا مطالعہ مثبت اور تعمیری سوچ کے ساتھ کیا جائے/پروفیسر محمد اسحق



/دسمبر،نئی دہلی:”ہندوستان میں اسلام کی اشاعت زور زبردستی اور تلوار کے ذریعے نہیں ہوئی اور نہ ہی مسلم حکم رانوں نے اسلام  سرکاری مذہب قرار دیا تھا،جیسا کہ اس حوالے سے ہم وطن بھائیوں میں غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔“ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر اسد احمد،سینئراستاد،دہلی یونی ورسٹی نے اپنے توسیعی خطبہ کے دوران کیا۔اس خطبہ کا اہتمام آج جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ اسلامک اسٹڈیز نے بعنوان ”عہد وسطیٰ کے ہندوستان میں اشاعت اسلام-عہدسلطنت کے خصوصی حوالے سے‘کیاتھا۔مہمان مقرر نے برصغیر میں مسلمانوں کی تاریخ سے واقف کراتے ہوئے بتایا کہ سرزمین ہندمیں اسلام کی اشاعت میں صوفیا کا اہم کرداررہاہے۔مہمان اعزازی پروفیسر فرحت نسرین،صدر شعبہ تاریخ وثقافت،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے فرمایا کہ ہند کے مسلم حکم رانوں کو اسلام کے نمائندوں کے طور پر نہ دیکھا جائے کیوں کہ ان کے متعدد اعمال اسلامی تعلیمات کے موافق نہیں تھے۔


پروفیسر اقتدار محمد خان،صدر شعبہ اسلامک اسٹڈیزنے فرمایا کہ عہد سلطنت میں مذہبی رواداری کی عام فضا قائم تھی اور ہم وطن بھائیوں کو اپنے دین کی تبلیغ واشاعت کا پورا حق حاصل تھا۔خود مسلم اہل علم و دانش کی ایک بڑی تعداد ہندو فلسفہ کا مطالعہ کرتی تھی اور یہی وجہ ہے کہ اس زمانے میں ان کی متعددمذہبی کتابوں کا ترجمہ کیا گیا۔


پروگرام کے کوآرڈینیٹرجناب جنید حارث نے دوران نظامت فرمایا کہ انگریزوں نے اپنے دور میں سیاسی فائدے کے لیے ہندو مسلم کی تفریق کی اور عوام الناس میں اس غلط فہمی کو پروان چڑھایا تھا کہ ہند میں اسلام کی اشاعت تلوار کے ذریعے ہوئی تھی۔پروفیسر محمد اسحق،ڈین،فیکلٹی آف ہیومینٹیز اینڈ لینگویجز نے اپنے صدارتی خطاب میں فرمایا کہ ہمیں اس حوالے سے غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم تاریخ کا مطالعہ کیسے کریں؟اس کا مطالعہ ہم مثبت اور تعمیری سوچ کے ساتھ فکر کی گہرائی کے لیے کریں اور اس کی مدد سے سماج کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کریں،نہ کہ گڑے مردے اکھاڑنے کے لیے تاریخ کا مطالعہ کیا جائے۔


پروگرام کا آغاز ابراہیم خان،ایم اے،سال دوم کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔آخرمیں طلبہ وطالبات کی جانب سے سوال وجواب بھی کیے گئے۔اس پروگرام میں شعبہ کے جملہ اساتذہ ڈاکٹر محمد مشتاق،ڈاکٹر محمد ارشد،ڈاکٹر محمدخالد خان،ڈاکٹرمحمد عمر فاروق،ڈاکٹر خورشید آفاق،ڈاکٹر عبدالوارث خاں،ڈاکٹر محمداسامہ،ڈاکٹر انیس الرحمن،ڈاکٹر عمار عبدالحئی،ڈاکٹرجاویداختراورڈاکٹر ندیم سحر عنبریں کے علاوہ بی اے اور ایم اے کے طلبہ وطالبات کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad