مہاراشٹر ۔(یو این اے نیوز 6جنوری 2021)الحمد للہ کل بروز منگل ٥/ ٢٠٢١ کو مغرب کی نماز کے بعد جنوبی ممبئی کے چنندہ ابناء ندوہ اور اس کے سپوتوں کی ایک تقریب ملاقات مولانا سالم ندوی کے فلیٹ ڈونگری ممبئی پر منعقد ہوئی؛ طویل تالا بندی کے بعد بزرگ و خرد فرزندان ندوہ کی یہ پہلی ملاقات تھی جس میں دارالعلوم ندوۃ العلماء کی طرف انتساب اور اس سے تعلق و وابستگی کی بنیاد پر اپنی ذمہ داریوں اور ان سے عہدہ بر آ ہونے کے سلسلہ میں سنجیدہ غور و خوض کیا گیا اور چند اہم فیصلے بھی لیے گئے
اس تقریب ملاقات کو باقاعدہ راشد اسعد ندوی کی تلاوت کلام پاک سے شروع کیا گیا جبکہ صدارت کے فرائض ندوہ کے قدیم فاضل مولانا ابراہیم ندوی صاحب نے انجام دیے
سب سے پہلے اس ملاقات میں ابناء ندوہ کے لیے بطور سرپرست و نگراں مولانا ابراہیم ندوی (رکن شوری دارالعلوم ندوۃ العلماء)، مولانا عمران سعید ندوی، مولانا عالم ندوی، مولانا عبدالرزاق ندوی اور مولانا رشید احمد ندوی پر مشتمل پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی اور طے کیا گیا کہ ان کی زیر سرپرستی میں مادر علمی کے کام وکاز اور اس کے مشن و تحریک کے لیے مثبت اور مضبوط لائحہ عمل بنا کر منظم کام کیا جائے گا.
اس تقریب میں تشریف لائے تمام احباب نے اس بات پر زور دیا کہ ابناء ندوہ کے کاموں کے حدود و خطوط متعین کرتے ہوئے مادر علمی کو مادی تقویت پہنچانے کے سلسلہ میں ہر ممکن کوشش کی جائے، عوام و خواص میں اس کا خاطر خواہ کا تعارف کرایا جائے اور وہاں سے نکلنے والے رسائل و جرائد کی نشر و اشاعت اور ان کے سرکولیشن کو بڑھانے کی طرف توجہ دی جائے نیز ندوہ سے تشریف لائے سفیر مولانا علیم اللہ ندوی صاحب ( جو ممبئی کے لیے مختص کئے گئے اور آج کل یہیں قیام پذیر ہیں) کا تعاون کیا جائے
اس موقع پر اس تقریب کے کنوینر عمران صدیقی ندوی صاحب نے بھی مشورتی نظام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اظہار خیال کیا اور اپنی تحریری تجویز پیش کرتے ہوئے کہا:
"تحریک ندوۃ العلماء کو سامنے رکھتے ہوئے موجودہ دور میں ابنائے ندوہ کے اغراض و مقاصد یہ ہونے چاہیے
١) دار العلوم ندوۃ العلماء کا مالی تعاون
٢) اتحاد
٣) علماء کو عصر حاضر کے حالات و مسائل سے واقف کرانا
٤) دعوت اسلامی یعنی پیام انسانیت اور پیام اسلام
٥) تحریک ندوۃ العلماء سے زیادہ سے زیادہ افراد کو جوڑنا یعنی اپنے علاقے سے طلباء کو دار ندوۃ العلماء میں پڑھنے بھیجنا اور اپنے علاقے ندوے کے منہج پر ایک ادارہ قائم کرنا
واضح رہے کہ اس تقریب میں تالابندی کے پیش نظر دور دراز کے ندوی فضلاء کو مدعو نہیں کیا جا سکا البتہ احباب مجلس کے رائے و مشورہ سے یہ ضرور طے کیا گیا ہے کہ دیگر علاقوں کے قدیم و جدید فضلاء کو بھی جوڑا جائے اور ان کو سرگرم عمل کیا جائے گا اور جلد ہی ان شاء اللہ ابنائے ندوہ ممبئی کی ورکنگ کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو سرپرستوں کی پانچ رکنی کمیٹی کی نگرانی میں کام کرے گی من جانب : فرزندان ندوہ ممبئی (ابنائے ندوہ)

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں