تازہ ترین

بدھ، 6 جنوری، 2021

اترپردیش میں ٹھاکر لکھا جوتا بیچنےوالے مسلم تاجر کو پولیس نے کیا گرفتار ،سوشل میڈیا پر کھل کر ہورہی ہے گرفتاری کی مذمت !

 بلند  شہر  ۔اسماعیل عمران ۔(یو این اے  نیوز 6جنوری 2021) اترپردیش کی پولیس ان دنوں گاڑیوں پر برادری نام کی تختی لگا کر چلنے والی گاڑیوں کو پکڑ کر چالان کرنے میں  جٹی ہوئی ہے جس سے عوام میں ایک طبقہ خوش ہوتا ہوا نظر آرہا ہے،تو وہیں بہت سے لوگ اس بات سے متفق نہیں ہیں۔



ایسے میں ریاست کے مغربی ضلع کے بلند شہر کے گلاوٹی قصبے میں منگل کے روز ایک انوکھا واقعہ دیکھنے کو ملا ،یہاں جوتوں پر برادری کا  نام  (ٹھاکر) لکھ کر فروخت کیا جارہا ہے۔گلاٹی قصبے میں وشال چوہان جوتا خریدنے کے لئے پہنچا تھا۔وہاں ایک مسلم دوکاندار ناصر جوتا بیچ رہا تھا۔جب جوتا دیکھنے لگا تو دیکھ اس پر  برادری لکھی ہوئی تھی۔جس سے دیکھ وہ حیران رہ گیا اس نے اس تعلق سے جوتا فروخت کرنے والے ناصر سے بات چیت کی ،جس پر وشال نے جوتا فروخت کرنے والے شخص کے خلاف گلاوٹی تھانہ میں ایف آئی آر درج کرائی ،


جس پر پولیس نے جوتا بیچنے والے مسلم تاجر  ناصر اور جوتا کمپنی کے خلاف برادری(ٹھاکر ) لفظ  کا استعمال کرنے اور امن وامان کو بیکار کرنے  سمیت کئی دفعات میں مقدمہ درج کرکے کو ناصر کو پولیس نے اپنی حراست میں لے لیا ہے ،واضح رہے شکایت  درج کرانے  والا شخص بجرنگ دل کا لیڈر ہے ،پولیس کا کہنا ہی کہ  بہت جلد ہی دیگر ملزمین کو گرفتار کرلیا جائیگا،



واضح رہے این ڈی ٹی کی رپورٹ کے مطابق آگرہ میں پچھلے 60 ۔70 سال سے ٹھاکر فٹ ویئر کمپنی قائم ہے جہاں آج بھی اس برانڈز کے جوتے تیار کئے جاتے ہیں۔ٹھاکر کمپنی کے مالک نریند ترلوکنی نے این ڈی ٹی سے بات کرتے ہوئے کہا ہماری کمپنی کا رجسٹریشن ٹھاکر فٹ ویئر کے نام ہی سے ہے لیکن ہم لوگ جوتے پر ٹھاکر نہیں لکھتے ۔کسی نے ہمیں بدنام کرنے کے لئے ایسا کیا ہے ،ہم نے نہیں دیکھا ہے ابھی تک جوتے پر کیا لکھا ہے ،


انہوں نے کہا کی میرے جوتے کی کسی نے کاپی کرکے ایسی حرکت کی ہو،وہیں سابق ڈی جی پی وکرم سنگھ نے اس تعلق سے ٹی وی پر بیان دیتے ہوئے کہا ناصر کی گرفتاری غیرقانونی ہے پولیس آزادانہ طور پر کام کرے کسی کے دباؤ میں آکر کام کرنا بند کرے ،



مسلم تاجر ناصر کے والد سلیم نے بتایا کی میرے بیٹے کا کیا قصور ہے وہ تو صرف جوتا بیچتا ہے نہ کی بناتا ہے لیکن بلند شہر کی پولیس میرے بیٹے کو پچھلے 48 گھنٹے سے  زیادہ وقت سے تھانے میں بند کی ہوئی ہے ،پولیس کی اس غیر ذمہ دارانہ کاروائی سے اہل خانہ سمیت  علاقےکے لوگوں غصہ پایا جارہا ہے، ۔واضح اس وقت  حکومت کی سہ پر پولیس  ملک میں اقلیتی طبقہ کو کبھی لو جہادکے نام پر  کبھی مذہب تبدیلی کے نام پر کاروائیاں کررہی ہیں۔جبکہ اس پوری کاروائی کی سوشل میڈیا پر عوام مذمت کررہی ہے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad