حمیت و غیرت ایمانی سے ملبوس ارطغرل ڈراما اپنے آپ میں ایک شاندار تخلیق ہے، جس میں عشق حقیقی اور عشق مجازی دونوں کی مثالیں بخوبی سینمائی گئی ہیں، فلمی دنیا کے اس جہاں میں منفرد و مثبت سیریل نے نونہالان ملت کے دلوں میں جذبۂ جنوں اور تاریخی شہہ پاروں کو یکجا کیا ہے، ابن العربی کی روحانی تعلیم سے لیکر ارطغرل کی بہادری تک، ترکوں کی جانثاری سے لیکر صلیبیوں کی غداری تک وہ مناظر دیکھنے کو ملے ہیں جو شاید اب تک یاں تو تاریخ کی کتابوں میں گمنام تھے یاں نسل نو جس سے غیر متعارف تھی، اقوام عالم نے جہاں تاریخ پر گرفت مضبوط کی وہیں ملت اسلامیہ نےتاریخ کے ساتھ بڑی ناانصافی کی، یہی وجہ ہے کہ اقبال نے کہا تھا: بھلادی ہم نے وہ میراث جو اسلاف سے پائی تھی، ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا، اسلام جدت پسندی سے انکار نہیں کرتا مگر خود ساختہ مصطلحات نے قوم کوصم بکم عمی بنادیا، کہ وحی الہی کی تشریح وہی جو آزردگان ملت کریں،
خرد نے کہہ بھی دیا لا الہ تو کیا حاصل اس ناحیہ پر طائرانہ نظر بھی پڑتی تو آسودہ خیالات اور دقیانوسی افکار سے آگے بڑھ کر شرعی اصول و ضابطوں کے ساتھ عالم فانی کے ہر مقام پر سرخرو ہوتے، یہ جہاں نہ تیرا ہے نہ میرا ہے مگر اعلاء کلمۃ الحق ہمارا اوّل فریضہ ہے، اور یہ شعار جب معلوم ہوگا تب ہی اس پر عمل ممکن ہوگا، ضرورت ہے کہ تاریخ کے شہہ پارے پلٹے جائیں اور تابناک ماضی سے کربناک حال کو سنوارا جائے کہ مستقبل کے تاریک محلوں میں امید و یقین کے قمقمے روشن ہوں، حیات جاودانی کے متمنی عارضی حالات سے گھبراتے نہیں بلکہ مقابلہ آراء ہوتے ہیں، یہی مقصود فطرت ہے یہی رمز مسلمانی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں