گذشتہ7 سالوں سے عدم تقررات سے ریاستی صحافتی حلقوں میں حکومت کیخلاف ناراضگی: رفیق شاہی
نظام آباد: سابقہ مرکزی کانگریس حکومت نے ملک کی 29 ویں نو تشکیل ریاست ”تلنگانہ“ کے قیام کی بالاآخر منظوری دیدی اور اس خصوص میں ریاست آندھرا پردیش کو 2 تلگو ریاستوں میں تقسیم کرکے 2/ جون 2014 ء کو ریاست ”تلنگانہ“ کا قیام عمل لایا۔بعدازاں ریاستی اسمبلی کے انتخابات کرائے گئے جس میں تلنگانہ راشٹریہ سمیتی پارٹی کو اکثریت حاصل ہونے پر حکومت بنانے کی اجازت حاصل ہوگئی اور اس نئی تشکیل شدہ ریاست تلنگانہ کیلئے پہلے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے سمیتی ہذا بانی صدر کے چندر شیکھر راؤ کو بلامقابلہ منتخب کیا گیا۔
اس طرح تلنگانہ ریاستی اسمبلی کے دوسری معیاد کے انتخابات 2018 ء میں منعقد ہوئے ان انتخابات میں بھی اسی پارٹی نے بھاری اکثریت کے جھنڈے لہردئیے اور دوسری مرتبہ بھی ریاستی وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے کے سی آر کو منتخب کیا گیا۔ مگر افسوس کہ ریاست تلنگانہ کے قیام سے لیکر آج تک ریاستی محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کا قلمدان کسی بھی ریاستی وزیر کے حوالے نہیں کیا گیا جبکہ اس موجودہ محکمہ کیلئے حکومت تلنگانہ کی جانب سے مستقل طور پر کمشنر کا تقرر بھی نہیں کیا گیا۔ ان دونوں مخلوعہ عہدوں کے عدم تقررات سے ریاستی بجٹ جو ریاستی محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کیلئے گذشتہ 7 سالوں سے مختص کیا جارہا ہے
وہ ہر سال کی دوران ضائع ہورہا ہے ان خیالات کا اظہار متحدہ ضلع نظام آباد (نظام آباد و کاماریڈی) کے پیشہ صحافت سے وابستہ سینئر جرنلسٹ و ایڈیٹرانچیف ہفتہ وار ”للکار“ رفیق شاہی نے اپنے جاریہ ایک صحافتی اعلامیہ میں کیا اور بتایا کہ موجودہ ریاستی وزیر اعلیٰ کے اس اقدام سے ریاستی صحافتی حلقوں میں برسراقتدار ریاستی حکومت کے خلاف ناراضگی پائی جارہی ہے۔ موصوف نے مزید کہا کہ ریاستی اخبارات (روزنامے و ہفتہ وار) اور ماہنامے رسائل کو ریاستی محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کی جانب سے گذشتہ 2 سالوں سے اشتہارات جاری کرنے کے عمل پر پابندی عائد کردی گئی۔ اس اقدام سے ریاستی صحافتی برادری کی کمر توڑ گئی دراصل یہ اشتہارات ریاستی اخبارات و رسائل کیلئے آکسیجن کی مانند کہلاتی ہے اگر آکسیجن ہی نہ دستیاب ہوئی تو اخبار یارسالہ شائع کرنا بے
فیض ثابت ہوگا۔ انہوں نے اپنے اس جاریہ صحافتی اعلامیہ میں حکومت تلنگانہ کے تحت واقع متعلقہ حکام پر یہ بھی الزام عائد کیا کہ گذشتہ 2سالوں سے ریاستی اخبارات و رسائل کو حکومت تلنگانہ کے فلاحی و ترقیاتی اسکیمات کی تشہری کے اشتہارات پر پابندی عائد کرکے ان اشتہارات کو ریاستی سطح کے ایک گمنامی ایڈس ایجنسی کے ذریعہ ریاست بھر کے اہم شاہراؤں، ریلوے اسٹیشنوں، بس اسٹیشنوں، ہوٹلس اور سنیما گھروں کے قریب اونچے مقامات پر فیلکسی کی شکل میں نصب کئے جارہے ہیں یعنی کہ ریاستی محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کا ہر سال کا بجٹ اس گمنامی ایڈس ایجنسی کو مختص کردیا گیاہے۔
اس جاریہ اقدام سے ریاستی سطح کے تمام اخبارات و رسائل سے وابستہ کئی افراد کے نام بے روزگاروں کی فہرست میں شامل ہوگئے ہیں۔ آخر میں موصوف نے تلنگانہ وزیر اعلیٰ کے سی آر سے پرُ زور مطالبہ کیا کہ وہ اس طرف فوراً متوجہ فرمائے اور ان حالات کا کوئی متبادل انتظامات کروائے ورنہ یہ موجودہ ریاست ”سنہرا تلنگانہ“ کے نعرہ سے محروم ہوجائیگی۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں