دیوبند،سمیر چودھری(یو این اے نیوز 25 دسمبر 2020)دیوبند کے سینئر صحافی اندر پال سنگھ سیٹھی کا گزشتہ شب اچانک انتقال ہوگیا،ان کی موت کی خبر سے مقامی و ضلعی صحافیوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔آنجہانی اندر پال سنگھ سیٹھی کے بیٹے گرجوت سنگھ سیٹھی نے بتایاکہ پاپا کی گزشتہ روز اچانک طبیعت خراب ہوئی اور حرکت قلب بند ہونے کے سبب چند گھنٹوں میں ہی ان کا انتقال ہوگیا۔وہ 64/ سال کے تھے۔
ان کی آخری رسومات آج دوپہر ادا کی گئی،جس میں بڑی تعداد میں شہر کے سرکردہ افرادر اور صحافیوں نے شرکت کی۔ اندر پال سنگھ سیٹھی کی موت پر مسلم فنڈ دیوبند کے منیجر سہیل صدیقی نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ سیٹھی جی ہمارے والد مولانا حسیب صدیقیؒ کے بہت قریبی ساتھیوں میں تھے ان کے اچانک چلے جانے سے شدید صدمہ ہواہے، سہیل صدیقی نے اندر پال سنگھ سیٹھی کے مکان کیلاش پورم میں پہنچ کرپسماندگان سے اظہار غم کیا۔
وہیں سینئر صحافی اندر پال سنگھ سیٹھی کے انتقال پر صحافی برادری میں غم کی لہر دوڑ گئی اور دیوبند،ناگل و سہارنپور سمیت متعدد مقامات پر میٹنگوں کا انعقاد کرکے انہیں یادکیاگیا اور ان کی روح کی تسکین کے لئے دعاء کی گئی۔ اس سلسلہ میں پریس ایسوسی ایشن دیوبند کی جانب سے ایک میٹنگ کا انعقاد ریلوے روڈ پرواقع ایسوسی ایشن کے دفتر پر کیاگیا،جس میں صحافیوں نے سیٹھی جی کے اچانک انتقال پر گہرے افسوس کااظہار کیا۔ اس موقع پر پریس ایسوسی ایشن کے صدر منوج سنگھل نے کہاکہ سیٹھی جی دیوبند ہی نہیں بلکہ پورے ضلع کے سینئر صحافی تھے
،وہ گزشتہ چالیس سال سے صحافتی میدان میں اپنی نمایاں خدمات دے رہے تھے،اپنی دیانتداری اور غیر جانبداری کے سبب وہ صحافیوں میں الگ مقام رکھتے تھے ان کا اچانک چلے جانا ہم سبب کے لئے بڑا صدمہ ہے۔ سینئر صحافی اطہر عثمانی اور رضوان سلمانی نے اندر پال سنگھ سیٹھی کی موت پر رنج وغم کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ سیٹھی جی کی موت نہ صرف ہمارے بلکہ صحافتی میدان کے لئے بھی بڑا خسارہ ہے،وہ ہمارے قریبی ساتھی تھے اور عرصہ سے ساتھ کام کررہے تھے،وہ نیک،سچے اور اچھے انسان و بہترین صحافی تھے،جن کی کمی دیر تک محسوس کی جائے گی۔ صحافتی برادری کے ساتھ ساتھ سکھ سماج میں بھی انہیں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھاجاتا تھا۔
ادھر اترپردیش پریس ایسوسی ایشن کے صدر اشرف عثمانی نے بھی سینئر صحافی اندر پال سنگھ سیٹھی کی موت پر گہرے صدمہ کااظہا رکرتے ہوئے کہاکہ ہمارے قدیم ساتھی تھے،طویل عرصہ تک ساتھ کام کرنے کاتجربہ رہا،وہ نہایت شریف النفس،بااخلاق اور ملنسار شخصیت کے مالک تھے ان کے چلے جانے سے تکلیف ہوئی ہے۔ میٹنگ کے دوران سینئر صحافی ایم افسر،ماسٹر ممتاز احمد، دیپک شرما،معین صدیقی،فہیم عثمانی، نوشاد عثمانی، مشرف عثمانی،آباد علیعارف عثمانی، فہیم اختر صدیقی،سمیر چودھری فیروزخان، شہزاد عثمانی،تسلیم قریشی،شبھم جین،متین خان،کھلندر گاندھی،ڈاکٹر شبلی اقبال سمیت دیگر صحافی موجودرہے۔
علاوہ ازیں نامور شاعر ڈاکٹر نواز دیوبندی،جامعہ طبیہ دیوبندکے سکریٹری ڈاکٹر انور سعید،ایڈ منسٹریٹر اختر سعید،مولانا ندیم الواجدی،مولانا نسیم اختر شاہ قیصر،سید وجاہت شاہ،ڈاکٹر شمیم دیوبندی،نسیم انصاری ایڈوکیٹ وغیرہ نے بھی اندر پال سنگھ سیٹھی کے انتقال پر گہرے افسوس کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ سیٹھی جی کا چلے جانا دیوبند کی صحافت کے لئے گہرے صدمہ ہے، ان کی کمی دیر تک محسوس کی جائے گی۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں