تازہ ترین

اتوار، 20 دسمبر، 2020

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے جشن صد سالہ پروگرام کے افتتاح سے قبل اے ایم یو اولڈ بوائز ایسوسی ایشن جون پور نے تزک و احتشام سے منایا جشن صد سالہ !

 جون پور ،اسماعیل عمران (یو این اے نیوز 20دسمبر 2020)ریاست اترپردیش کے شیراز ہند جون پور  کے مشہورشیعہ ڈگری کالج کے آڈیٹوریم میں اے ایم یو ایسوسی ایشن جونپور  کی جانب سے جشن  صد سالہ   کا پروگرام ڈاکٹر چھتج شرما  صدر جونپور اولڈبوائز کی صدارت میں بڑے تزک و احتشام سے منایا ،پروگرام کا آغاز حافظ یاسر حسن نے سورہ رحمان پڑھ کر کیا ،اس کے بعد علامہ اقبال رحمہ کا لکھا ہوا ترانہ ،،سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا ،،بہت ہی خوبصورت آواز  میں پیش کیا گیا ،پروگرام کے مہمان خصوصی ظفر علی نقوی سابق وزیر و رکن پارلیمنٹ ،لکھیم پور کھیری نے اپنے خطاب عام میں کہا کہ بانی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی(  سر سید ) کے مشن کو آگے بڑھانا ہماری ذمہ داری ہے



 ،تعلیم پر زور دیتے ہوئے بیان کیا کہ تعلیم کی ہر زمانےمیں اہمیت رہی ہے  ،ہر نقطہ نظر سے تعلیم کی ہہت اہمیت ہے ،انہوں نے کہا سر سید کی تعلیمات اور انکے اصول کی اہمیت پہلے کے دور سے کہیں زیادہ ہے،وہیں پر جون پور  اے ایم یو اولڈبوائز ایسوسی ایشن کے صدر چھتج شرما نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ سنسکرت کی طرح اردو بھی بہت پیاری زبان ہے ،اور تمام زبانوں کی مادری زبان ہے اور اسے تمام زبانوں کی ماں کہلانے کا درجہ حاصل ہے 



،انہوں نے کہا کی ہم نے  علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اردو کی تعلیم حاصل کی ہے،ہندی اور  اردو کے امتزاج سے ہماری روز کی بول چال ہندوستانی ہوجاتی ہے ،اسکے علاوہ اے  ایم یو اولڈبوائز ایسوسی ایشن کے سرپرست،نجم الحسن نجمی،ڈاکٹر قمر عباس ،ڈاکٹر شرف الدین اعظمی صدر اے ایم یو ایسوسی ایشن حلقہ شاہ گنج ،علیگڑھ مسلم یونیورسٹی میں زیر تعلیم محمد ارسلان  اعظمی ڈاکٹر پرویز عالم ،جناب مرزا داوربیگ ،ڈاکٹر جی ایچ خان نے بھی اپنے قیمتی خیالات کا اظہار کیا


،اس موقع پر اے ایم یو اولڈ بوائز ایسوسی ایشن جون پور کے سینئر نائب صدر پروفیسر ڈاکٹر محمد عارف خان نے یو این اے نیوز کے نمائندہ سے بات کرتے ہوئے کہا آج کا یہ پروگرام ہمارے مادر علمی (اے ایم یو ) کے تعلیم سفر کے سو سال مکمل ہونے پر ہمارے یہاں  پروقار طریقے سے منایا گیا ،ہمیں اور ہماری یونین کو اس بات کی سب سے زیادہ خوشی ہے جنہیں بھی ہم نے دعوت دی تھی تقریبا سبھی لوگ اپنا قیمتی وقت نکال کر  اس پروگرام میں شرکت کی ،ہم اللہ سے دعاء کرتے ہیں کی مادری علمی میں  22 دسمبر کو ہونے والے جشن صد سالہ کو کامیاب کرے ،اور بانی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے مشن کو اللہ رہتی دنیا تک قائم ودائم رکھے۔



پروفیسر محمد عارف خان نے نمائندہ سے بات کرتے ہوئے کہا،سر سید احمد خان نے 1875ء میں ”محمڈن اینگلو اورینٹل کالج“ کی داغ بیل ڈالی تھی جسے 1920ء میں لیجسلیٹیو کونسل آف انڈیا ایکٹ کے ذریعے (علی گڑھ مسلم) یونیورسٹی کا درجہ ملا تھا۔ تقریباً 467 ہیکٹر میں پھیلے اس کے کلیدی کیمپس کے علاوہ علی گڑھ سے باہر اس کے تین دیگر کیمپس بھی ہیں جن میں ایک بہار کے ضلع کشن گنج، دوسرا ملِّیپورم۔کیرالا اور تیسرا مغربی بنگال کے ضلع مرشد آباد میں ہے۔ 


واضح رہے اس موقع پر مہمان خصوصی کو گل دستہ پیش کرکے ان کا استقبال کیا گیا ،آخر میں حنیف نے اپنے رفقاء کے ساتھ ترانہ علی گڑھ پیش کیا ،پروگرام کی نظامت کے فرائض  حنیف انصاری نے بحسن و خوبی انجام دیا،اس موقع پر شہر کے معززین اور تعلیم سے تعلق رکھنے والی بااثر شخصیات موجود رہیں

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad