تازہ ترین

ہفتہ، 7 نومبر، 2020

سری لنکا میں کورونا سے مرنے والے مسلمانوں کی میتوں کو زبردستی جلائے جانے کی مذمت

  چنئی میں واقع سری لنکن قونصل خانہ کے روبرو ایس ڈی پی آئی کا احتجاجی مظاہرہ

چنئی۔ (پریس ریلیز)۔ سری لنکا میں کورونا وائرس سے مرنے والے مسلمانوں کو میتوں کو ان کے مذہبی رواج کے خلاف جلائے جانے کی  مذمت کرتے ہوئے سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی)نے سری لنکا کی اقلیتی مخالف رویے کی مذمت کرتے ہوئے یہاں چنئی میں واقع قونصل خانے کا گھیراؤ کرکے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ایس ڈی پی آئی ریاستی صدر نظام محی الدین کی سربراہی میں ہوئے اس احتجاجی مظاہرے میں ریاستی جنر ل سکریٹری اے ایس عمر فاروق، ریاستی ورکنگ کمیٹی رکن اے کے کریم، سینٹرل چنئی کے ضلعی صدر جنید انصاری، شمالی چنئی کے ضلعی صدر رشید، جنوبی چنئی ضلعی صدر سلیم سمیت سینکڑوں پارٹی کارکنان شریک رہے



 اور سری لنکن حکومت کی نسل پرستانہ اقدام کے خلاف نعرے لگائے۔ ایس ڈی پی آئی ریاستی جنرل سکریٹری نظام محی الدین نے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل ایسی خبریں آرہی ہیں کہ سری لنکن حکومت کورونا سے مرنے والے مسلمانوں کی میتوں کو دفنانے سے روک رہی ہے اورمیتوں کو زبردستی جلارہی ہے۔ جبکہ دنیا کے کسی دوسرے ملک میں اس طرح کا عمل نہیں کیا جارہا ہے تو اس طرح کیوں صرف سری لنکا میں ہورہا ہے۔ اس سے نہ صرف سری لنکا کے مسلمان بلکہ پوری دنیا کے مسلمان تشویش میں مبتلا ہیں۔ ایک مسلمان کے مرنے پر اس کو غسل دیکر، کفن پہنا کردفنایا جاتا ہے۔ ایسے میں کورونا سے مرنے والے مسلمانوں کی میتوں کو کم از کم نماز جنازہ ادا کرنے اور دفنانے کی اجازت دینے کے بجائے ان کی میتوں کو نذرآتش کیا جانا مذہبی حقوق سے انکار ہے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔


 نہ صرف مسلمان بلکہ عیسائی مذہب کے ماننے والے بھی اپنے مرنے والوں کو ان کے مذہبی رسوم کے مطابق دفن کرتے ہیں۔ وہ بھی سری لنکن حکومت کی اس طرح کی کارروائیوں سے سخت غمزدہ ہیں۔ سری لنکن حکام کا یہ کہنا غلط ہے کہ کورونا سے مرنے والے کی لاش سے وائرس پھیلنے کے امکانات ہیں۔ بین الاقوامی ڈاکٹروں اور ماہرین نے اسے غلط قرار دیاہے۔ بین الاقوامی سطح پر مرنے والوں کی لاشیں زیادہ تر زمین میں ہی دفن کی جاتی ہیں۔ کورونا سے مرنے والوں کی لاشوں کو بھی اسی طرح دفن کیا جارہا ہے اور کہیں بھی جلایا نہیں جارہا ہے۔


 ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ہدایات میں بھی اس طرح لاشوں کو جلانے کی ہدایات نہ ہونے کے باوجود سری لنکن حکومت کی طرف سے اس طرح کے اقلیتی مخالف اقدام قابل مذمت ہیں۔ لہذا، سری لنکن حکومت کورونا سے مرنے والے مسلمانوں اور عیسائیوں کے لاشوں کو جلانا بند کیا جانا چاہئے۔ نیز تدفین سمیت اقلیتوں کے تمام مذہبی حقوق کے تحفظ کیلئے عملی اقدامات اٹھانا چاہئے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad