تازہ ترین

ہفتہ، 7 نومبر، 2020

کسان کے ساتھ پولس کا نا روا سلوک سے عام و خاص کا اظہار افسوس

 سابق ممبرآف پارلیامنٹ تیج پرتاپ یادو مین پوری نے بھی پولس کے اسطرح سلوک کئے جا نے کی مذمت کی ہے 


مین پوری۔حافظ محمدذاکر ،(یو این اے نیوز7نومبر 2020)کسان کے ساتھ پولس کا نا روا سلوک سے عام و خاص کا اظہار افسوس،حکومت و انتظامیہ کے حکم کے بعد بھی کسان اپنے کھیت کے باقیات (پرالی)کو کھیت میں ہی جلا رہے تھے،اطلاع ملنے پر موقعہ پر پہنچی پولس نے کئی کسانوں کو حراست میں لیا ہے،اسی درمیان ایک پولس اہلکارکسان کا کالر پکڑ کر لیجاتے ہوئے دکھا یا گیا ہے،سوشل سائٹ پر جب یہ تصویر وائرل ہوئی تو پو رے ضلع میں پولس کے اس رویہ کے خلاف لوگوں نے اپنے غصہ کا اظہار کیا ہے،صرف عام لوگوں نے ہی نہیں بلکہ مین پوری سے سابق ممبر آف پارلیا منٹ تیج پرتاپ یادو نے بھی اپنے ٹیوٹ پر اپنے غصہ کا کچھ اسطرح اظہار کیا ہے،  



”کسانوں کو جیل میں ڈالنے والے بھاجپائی حکمرانوں کی کھدائی کر نے کو اب کسان تیار ہے،جلد ہی بہار اسکی مثال پیش کریگا“ اسی کے ساتھ مہادیپ شاکیہ نے بھی پولس کے اس رویہ کی سخت  لفظوں میں مذمت کی ہے،انہو نے کہا کہ ریاست میں جنگل راج اپنے شباب پر ہے،پولس کا یہ رویہ جمہوری اصولوں کی پامالی کرتا دکھائی دیرہا ہے، بی جے پی کے اقتدار میں یوگی کی پولس انگریزوں کی طرح کسانوں پر تشدد برپا کر رہی ہے، اب کسان پولس کے اس ظالمانہ رویہ کا بی جے پی حکومت سے 2022میں بدلہ ضرور لیگا،محمدبلال نے کہا کہ کسان جو دن رات محنت کر کے لوگوں تک طعامی اشیاء مہیا کراتا ہے، جس کو عام زبان میں ”ان داتا بھی کہا جاتا ہے “ آ


ج اسی کسان کو اس طرح ذلیل کیا جارہا ہے،انہو نے کہا کہ اگر کسان نے حکم عدولی کی ہے تو اس پر جرمانہ عائد کیا جائے،آگے سے اس کو تنبیہ کی جائے، مگر ان سب ضابطوں کو بالائے طاق رکھ کر کالر پکڑ کر ذلیل کر نا قانون کی کسی کتاب میں نہیں لکھا ہے۔ یہ واقعہ  مین پوری کے قصبہ کشنی تھانہ حلقہ کا ہے۔  

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad