جونپور۔اسماعیل عمران ۔(یو این اے نیوز 1اکتوبر 2020)ہندوستان کی چھوٹی بڑی عدالتوں میں اب تک کئی اہم معاملوں فیصلے ہوئے ہیں انمیں سے ایک اہم معاملہ گزشتہ 28 سالوں سے بابری مسجد انہدام کا تھا جو کل 30ستمبر 2020 کو اس مقدمے کی پریذائڈنگ آفیسر کی حیثیت سے سماعت کرنے والے خصوصی جج سریندر کمار یادو نے اپنا فیصلہ سنا ہی دیا ،انہوں بابری مسجد انہدام کے 28 سالہ پرانے معاملے میں سبھی 32 ملزمان کے خلاف پختہ ثبوت نہ پائے جانے کی وجہ بری کردیا۔
![]() |
| فوٹو:بابری مسجد انہدام کیس کا فیصلہ سنانے والے جج سریندر کمار یادو |
اس تاریخی کیس کو روزانہ سماعت کرنے والے خصوصی جج سریندر کمار یادو کا تعلق مشرقی اتر پردیش کے ضلع جون پور کے تحصیل شاہ گنج حلقہ کے پکھن پور گاؤں سے وہ رام کرشن یادو کے گھر پیدا ہونے والے سریندر کمار یادو 31 سال کی عمر میں ریاستی عدالتی خدمات کے لیے منتخب ہوئے تھے۔
ان کی عدالتی زندگی کا آغاز 8جون 1990 میں فیض آباد میں ایڈیشنل منصف کے عہدے کے ساتھ ہوا تھا۔ اس کے بعد غازی پور، ہردوئی، سلطان پور، اٹاوہ، گورکھپور میں خدمات انجام دیتے ہوئے وہ دارالحکومت لکھنؤ کے ضلع جج کے عہدے تک پہنچے۔ جہاں انھوں نے بابری مسجد انہدام کے 28سال پرانے معاملے میں اپنا فیصلہ سنایا۔واضح رہے سریندر کمار یادو جونپور میں سنہ 90-1980 میں جونپور سول کورٹ میں سینئر ایڈوکیٹ وریندر کمار یادو کے ساتھ پریکٹس بھی کی تھی ،ڈینک جاگرن اخبار میں شائع ہوئی خبر کے مطابق جاگرن نمائندہ نے اس اہم فیصلے کے آجانے کے بعد سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے جج سریندر کمار یادو کے آبائی گھر شاہ گنج تحصیل حلقہ کے گاؤں پکھن پور جاکر انکے اہل خانہ سے ملاقات کی گھر پر موجود انکی ماں سرجو دیوی نے اس پورے معاملے سے لاعلمی کا اظہار کیا۔
![]() |
| فوٹو:بابری مسجد انہدام کیس کا فیصلہ سنانے والے جج سریندر کمار یادو کی ماں |
جب انھیں پورے معاملے کے بارے میں بتایا گیا تو بیٹے کو دعا دیتے ہوئے بہت خوشی ظاہر کی ،وہاں پر موجود سبھی لوگوں نے کہا ضلع کے رہائشی جج نے اتنے اہم معاملے میں لکھنؤ میں فیصلہ سنایا یہ ضلع کےلئے فخر کی بات ہے۔ آپ کو معلوم ریے پانچ سال قبل پانچ اگست کو سریندر کمار یادو کو اس معاملے میں خصوصی جج کے طور پر مقرر کیا گیا تھا،19اپریل سنہ 2017 کو عدالت عظمی نے انھیں روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرکے سماعت کو دو سال میں پورا کرنے کا حکم دیا تھا ۔
اگر انھیں خصوصی عدالت (بابری مسجد انہدام ) کے جج کی ذمہ داری نہ دی جاتی تو وہ گذشتہ سال ستمبر کے مہینے میں ہی ریٹائر ہوجاتے۔


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں