تازہ ترین

جمعرات، 1 اکتوبر، 2020

بھارتی جمہوریت سردخانے میں_

✍️قسیم اظہر
📞9693632457

آج مجھے ان قطروں سے شکایت ہے جو میری آنکھوں سے سیال کی صورت چھلک رہے ہیں.  مجھے کیوں یہ پریشان کررہے ہیں؟ مجھے تنہا چھوڑدیجیے, میں کچھ دیر کے لیے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھاکر روناچاہتاہوں, آخر مجھ میں یہ مایوسیوں کاگریہ یا آنسوؤں کا طوفان  کیوں..؟ کیوں کہ  یہ میرا ماضی ہے. 

٦/ دسمبر, میراگزراہواکل, جس روز میرے ہاتھوں میں بابر کی بنائی ایک تصویرتھی.کاغذ پر بنی میری پرانی عمارت کی تصویر, خاموشیوں میں ڈوبی عمارت اور اس کی تین بڑی بڑی بوسیدہ گنبدیں,گنبدوں کے آس پاس کبھی نہ ہونے والے جنگلی درخت یا جھاڑیاں,اس تصویر کو میں دیکھ رہاہوں, میرے دیکھتے ہی دیکھتے گنبدوں پر ترشول لیےبندروں کا بسیراہوگیا اور میری ہاتھوں میں رکھی یہ تصویر میں اچانک آگ لگ گئی, ہزاروں لوگ مرگئے , چاروں طرف جنگلیوں کا ہجوم اور ان کے فساد کے شرارے پھٹ پھٹ کر فضاء میں تحلیل ہونے لگے. سیاہ اور سرخ آندھی چلی, اچانک ایک عجیب قسم کے ڈائناسور نے اپنا بڑاسا منہ کھولا اور پرانی عمارت کی خون میں لپٹی اینٹیں یکے بعد دیگرے اس کے پھاڑے ہوئے منہ میں ہواؤں کے جھونکوں سے چلی گئیں۔

مرشد نے کہا کہ یہ اندوہناک حادثہ ٦/دسمبر ١٩٩٢ میں اس وقت پیش آیا جب زمینی سطح پہ تمہارا وجود بھی نہیں تھا, اور تم تصویر کی بات کررہے ہو؟ مرگ انبوہ کا پاشامرزا میرے کردار میں آگیا, آپ کو نہیں معلوم کہ میں ارواح عالم سے بھی زمینی دنیا کو دیکھ سکتاہوں.

اس وقت پرانی عمارت سے چپکے ہوئے افراد کو دلاسہ دیاگیا کہ گرچہ ڈائناسور اور جنگل کے بندروں نے آپ سے آپ کی پرانی عمارت کو چھین لیاہے. مگر آپ اس ملک کے شہری ہیں. آپ اس ملک کی  جمہوریت پر بھروسہ رکھیے, بھارتی آئین م اور عدالتی نظام پر مکمل اعتمادرکھیے. اس وقت اقلیتوں نے اپنی چیخ وپکار کاگلا گھونٹ دیا اور ہندوستانی جمہوریت اور آئین کی پاسداری کا لحاظ رکھتے ہوئے انسانیت اور بھارتیت یعنی گنگا جمنی تہذیب کو قائم رکھا۔ 

آپ کو یاد دلادوں کہ میرے مرشد ایک عظیم انسان ہونے کے ساتھ ساتھ زمانہ کے نبض شناس بھی ہیں اور بسا اوقات تو وہ اپنے مطالعہ اور کتب بینی کے دوربین سے بھارت کے مستقبل کو دیکھ لیتے ہیں.

وہ کہتے ہیں کہ پرانی عمارت کو نگلنے والے ایک ہی نہیں تھے. وہ بہت سارے تھے جو دھند کی آغوش میں اوجھل ہوگئے. لیکن عملی منصوبہ بندی میں کرشن ناتھانی نامی ڈائناسور کا بہت بڑا کارنامہ ہے جس وقت وہ رتھ کے پہیے کو سڑکوں پر گھسیٹ رہاتھا. پہیے خون آلود تھےاور اس میں کٹے ہوئے سر کی آنکھیں لٹک رہی تھی. مگر اچانک اس کے پہیوں کے نیچے ایک بڑاسر روڑا بن کر آیا اور اس کی رتھ کا پہیا جام ہوگیا, رتھ اچھل کر سڑک کے نیچے گرگیا, خوف کے مارے سیال اس کے ناف کے نیچے سے جاری ہوگیااور وہ بھاگ کھڑا ہوا.ایودھیا پہنچ کر وہ سکون کی سانس لے سکا۔

ایودھیا میں شردھا بھارتی اور بانسری جوشی نامی تین بڑے قوی الہیکل ڈائناسور اپنے جنگلی بندروں سے کہہ رہے تھے.
ممکن ہے زندان کا دروازہ کھل جائے, ممکن ہے مذہبی عمارت گرانے کے عوض ہم پر مقدمہ چلایا جائے, مگر یہاں ہم سب دوست ہیں, جوزندان کے پالن ہارہیں وہ بھی, جو بیڑیوں میں قید ہیں وہ بھی, جو وحشتوں کے اسیر ہیں وہ بھی, جو حکومت کے طرف دار ہیں وہ بھی, اس لیے تماشہ تو ضرور ہوگا. لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا.کیوں کہ یہاں سب اپنے ہیں اور ان کی تعداد بہت کم ہیں جو پرانی عمارت سے چپکے ہوئے ہیں۔

اور ٹھیک یہی ہوا جب پرانی عمارت کو توڑنے والے بندروں اور اسے نگلنے والے بھیانک جانوروں کو سزا سنائے جانے کا وقت آیا تو اچانک سمندر میں ایک سنامی آئی اور سمندر سے ایک بڑی اور عجیب قسم کی وہیل باہر آئی. مرشد کہہ رہے تھے وہ انسانی آواز میں باتیں کررہی تھی, اس کے بڑے بڑے نوکیلے اور تیز دانت تھے. ایک دانت تقریبا بارہ فٹ کارہا ہوگا, جس سے اس کے بڑے اور ہیکل جسم کی چوڑائی اور لمبائی کااندازہ لگایا جاسکتاہے,عدالت میں آکر بلیو وہیل نے اپنا روپ بدلا اور انسانی چادر تان کر وہ عدالت میں جج کی کرسی پر براجمان ہوگئی. جج کی اجازت سے عدالت کی کارروائی آگے بڑھائی گئی. بحث, الزام اور دفاع کے نقارے پیٹے گئے اور معاملہ فیصلے پر جاکر ٹھہر گیا۔ 

کالے چوغے میں ملبوس اجنبی نےدلیلوں اور ثبوتوں کا مضبوط محل کھڑاکیاتھا. لیکن وہ انسانی شکل میں بیٹھی بلیو وہیل کے لیے ریت پر بنا ایک گھرتھا جسے ایک لات مارو کہہ کر توڑدیاگیا اور بڑی آسانی کے ساتھ یہ فیصلہ سنادیاگیا کہ آپ کے پاس ایسی کوئی مضبوط اور قوی دلیل نہیں جس کے ذریعے یہ ثابت ہوسکے کہ ٦/دسمبر کو انہی تین یا چار ڈائناسوروں کی خطرناک جماعت اور اس کے تابع دار بندروں نے پرانی عمارت کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کردیاتھا.لہذا یہ عدالت تمام ثبوتوں اور گواہان کے بیان پر غور کرتے ہوئے اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کرشن ناتھانی, شردھا بھارتی , بانسری جوشی اور ان کے پیروکار بے قصور ہیں. انہیں باعزت بری کیاجاتاہے۔

ویسے بھی پرانی عمارت سے چپکے کچھ انسانیت نواز پہلے ہی بک گئےتھے. 
مرشد کہتے ہیں کہ جب ان سے ڈائناسورکے متعلق پوچھاگیاتو انہوں نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ وہ اب ہماری اس آبادی والی دنیا میں اپنی آخری سانسیں گن رہے ہیں, ایسے جانوروں کو سزا سناکر آپ کس کا بھلا چاہیں گے___؟

ڈائناسور, وحشی بندر اور انسان نما خونخوار بلیو وہیل, ان سب  کو دیکھ کر تو مجھے یہی لگتاہے کہ اب جمہوریت ایک لاش ہے جو سرد خانے کے بیڈپر ہمیشہ کی نیند سورہی ہے, انصاف بھی مرچکاہے, دستور اور آئین کے ہر حروف کو جلایاجاچکاہے.

٦/دسمبر آج بھی میرے سینے کو چبھ رہاہے , میں کسی ریگستانی علاقے میں ہوں جہاں صرف ریت ہی ریت ہے اور میں اس میں دھنستاچلاجارہاہوں کہ پرانی عمارت تھی بھی یانہیں___؟

ہاں آج آپ خوش ہوجائیے کیونکہ آپ میں انسانیت نامی جراثیم سرایت کرگئی ہیں اور اسی کے نشے میں ہم بھولے جارہے ہیں کہ آئیندہ نسلوں کاکیاہوگا__؟

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad