عباس دھالیوال،
مالیر کوٹلہ،پنجاب.
رابطہ: 9855259650
Abbasdhaliwal72@gmail.com
''فہمیدہ ریاض فن و شخصیت ''
معروف ترقی پسند ادیبہ، شاعرہ، سماجی کارکن حقوق نسواں کی علمبردار فہمیدہ ریاض، جنکی پیدائش 28 جولائی 1946 کو میرٹھ کے ایک تعلیم یافتہ پریوارمیں ہوئی۔ فہمیدہ کے والد ریاض الدین احمد ایک روش دماغ تعلیم یافتہ انسان تھے۔ آپ صوبہ سندھ میں تعلیمی نظام کو بہتر بنانے میں مصروف تھے کہ تبادلہ ہو گیا اور وہ لوگ حیدراباد میں مقیم ہو گئے۔ ابھی فہمیدہ کی عمر محض چار برس ہی تھی کہ والد صاحب کا انتقال فرما گئے اور والدہ نے ان کی پرورش کی۔ آپ نے ایام طفولت میں اردو اور سندھی زبان سیکھی۔
اس کے بعد فارسی سے بھی شناسائی حاصل کی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ ریڈیو پاکستان سے جڑگئیں۔ کالج سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد فہمیدہ کو ان کے اہل خانہ نے ان کی طے شدہ شادی کرنے پر ابھارا۔ فہمیدہ نے اپنے پہلے شوہر کے ساتھ کچھ برس برطانیہ میں گزارے۔ اس کے بعد طلاق لے کر واپس پاکستان آگئیں۔ اس سے پہلے انہوں نے بی بی سی اردو ریڈیو میں کام کیا اور فلم کاری میں ڈگری حاصل کی۔ اس شادی سے ان کو ایک بیٹی ہے۔
دوسری شادی سے ان کو دو اولادیں ہوئیں۔ ان کے دوسرے شوہر کا نام ظفر علی ہے۔ وہ ایک سیاست دان ہیں۔
فہمیدہ ریاض تمام عمر تنازعات سے گھری رہیں۔ جب ان کا مجموعہ بدن دریدہ منظر عام پر آیا تو ان پر شہوت انگیز اور حساس الفاظ کے استعمال کرنے کا الزام لگایا گیا۔ فہمیدہ کا شعری مجموعہ اپنا جرم ثابت ہے جنرل ضیاء الحق کے ظلم و ستم کو بیان کرتا ہوا ایک دستاویز ہے۔ دراصل فہمیدہ نے اس مجموعہ میں عوام کے ساتھ ساتھ اپنا تجربہ بیان کیا ہے۔
اسی اثنا میں فہمیدہ نے کراچی میں ایک اشتہاری ایجنسی میں کام شروع کیا اور جلد ہی اپنا ایک مجلہ بھی جاری کیا۔ اس مجلہ کا انداز کچھ سیاسی اور لبرل تھا جو جنرل ضیائالحق کو پسند نہ آیا اور ان پر اور ان کے شوہر پر متعدد الزامات لگائے گئے، یہاں تک کہ ان کے شوہر ظفر کو جیل جانا پڑا۔ بعد میں مجلہ بھی بند ہو گیا۔ سنسرشب کے بارے میں وہ کہتی تھیں:
” ہر ایک کو ایک فن میں سنجیدہ ہونا چاہئے اور کبھی بھی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہئے۔ فن میں ایسی تقدیس ہے کہ وہ تشدد کو نہیں اپناتا ہے۔
قاری کو چاہئے کہ وسعت قلب کے ساتھ مطالعہ کرے تاکہ معنی کی گہرائی کو پہونچ سکے۔ میں اردو-ہندی انگریزی لغت ایسی دلچپی سے پڑھتی ہوں گویا شاعری پڑھ رہی ہوں۔ مجھے الفاظ بہت بھاتے ہیں۔“
سماج میں عورت ذات کو جس ظلم و تشدد اور استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس سے وہ خوب واقف تھیں. اس لئے جب بھی انہیں موقع ملا تو انہوں نے اپنے نسائی ادب میں خواتین کو درپیش مسائل کو نہ صرف ابھارا بلکہ خواتین کے حقوق کیلئے بھرپور جدوجہد بھی کرتی رہیں۔ فہمیدہ کی شاعری میں جہاں مشرقی عورت کی مجبوریاں بھی نظر آتی ہیں وہیں اس میں بیسویں صدی کی عورت کی روایات سے آزاد اور خود مختار ہونے کی خواہشات بھی مچلتی ہوئی محسوس کی جا سکتی ہیں۔ دراصل فہمیدہ کا خواب ایک ایسے معاشرہ کو تشکیل میں لانا تھا کہ جہاں عورت کو مرد کے ہمراہ مساوی حقوق میسر ہوں. فہمیدہ کا ماننا تھا کہ“ فیمینزم کے کئی معنی ہوسکتے ہیں۔
میرے نزدیک فینزم کا مطلب یہ ہے کہ مرد کی طرح عورت بھی ایک مکمل انسان ہے جس کی لا محدود ذمہ داریاں ہیں۔ ان کو بھی امریکی کالے یا دلت کی طرح سماجی برابری حاصل کرنے لیے جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ عورتوں کا معاملہ مزید سنگین ہے۔ ان کو سڑک پر بلا جھجک اور بغیر کسی پریشانی کا سامنا کیے ہوئے سڑکوں پر گھومنے کی آزادی ہے۔ ان کو تیرنے، محبت کی شاعری کرنے کی آزادی ہے، بالکل اسی طرح جس طرح مرد بلا کسی روک ٹوک کیکرتے ہیں اور ان پر کوئی اخلاقی پابندی عائد نہیں ہوتی ہے۔ یہ نا انصافی بہت واضح ہے، بہت ظالمانہ اور ناقابل معافی ہے۔“
اسی ضمن میں فاطمہ حسن اپنی کتاب ”فیمنزم اور ہم“ میں فہمیدہ کے حوالے سے ایک جگہ لکھتی ہیں کہ:
’نسائی ادب کے حوالے سے فہمیدہ ریاض کی شاعری ایک نئے طرزِ احساس کی جانب سفر کرتی نظر آتی ہے جس میں عورت کے اپنے وجود کا بھرپور احساس نمایاں ہے۔ فہمیدہ کی عورت دوسروں کے وجود کا سایہ نہیں بلکہ مکمل شخصیت کے طور پر اُبھرتی ہے۔ اُنھوں نے روایتی رویوں سے کنارہ کشی کی اور ایک نئی فضا میں سانس لینے کی کوشش کی…. نظم ”اقلیما“ میں ایسی سوچ کا اظہار بڑی شدت سے کیا گیا ہے۔ ”مقابلہ? حسن“ فہمیدہ کی ایسی نظم ہے جس پر کافی ہنگامہ برپا ہوا مگر یہ حقیقت ہے کہ یہ نظم ایک ایسے رویے کی طرف بھرپور احتجاج ہے جو صدیوں سے عام رہا ہے۔ عورت کا جسم ادیب، شاعر، مصور، مجسمہ ساز سب کا موضوع رہا ہے۔ جب کہ ذہن اگر موضوع بن تو مزاح کے ساتھ۔ اس طرح عورت صرف تفریح اور تزئین آرائش کی شے بن کر رہ گئی ہے۔“
ایک جگہ خالدہ حسین نے فہمیدہ ریاض کے ضمن میں کہا ہے کہ:
”فہمیدہ ریاض ایک نظریاتی اور جدید شاعرہ ہے جس میں ایک انقلابی روح کروٹ لے رہی ہے۔ وہ استحصال سے پاک ایک جمہوری، فلاحی معاشرہ قائم کرنے کے لیے میدانِ عمل میں اترنے کی بھی قائل ہے۔ اس لیے اس کے نزدیک تخلیقی فن میں اس کا اظہار پانا ایک فطری عمل بلکہ فن کا فریضہ ہے۔ اس کی شاعری کا رنگ انقلابی ہے مگر وہ نعرہ باز ہر گز نہیں۔ اس کی تحریر میں جمالیات کا ایک پورا نظام ہے اور الفاظ میں حسیت کی شدت ہے۔“
فہمیدہ نے اپنے ایک مجموعہ? کلام ”پتھر کی زبان“ میں مثنوی کی طرز پہ لکھی گئی ایک نظم میں ناکام محبت کے سانحہ کو کچھ اس انداز میں پیش کیا
ہے کہ:
”کارگاہِ ہستی میں کسی حساس ذی رُوح پر وہ مقام نہیں آیا ہوگا. جب اس نے خود کو مقتل کے دروازے پر نہ پایا ہو۔ جب اُسے اپنے وجود کی قیمت نقدِ جاں سے نہ چکانی پڑی ہو لیکن جب جان سے گزرنا ہی ٹھہرا تو سر جُھکا کر کیوں جائیں۔ کیوں نہ اس مقتل کو رزم گاہ بنا دیں۔ آخری سانس تک جنگ کریں۔ سو مَیں نے بھی اپنی گردن جھکی ہوئی نہیں پائی۔ میری نظمیں جو آپ کے سامنے ہیں ایک رجز ہیں جنھیں بلند آواز سے پڑھتی ہوئی میں اپنے مقتل سے گزری۔ اس لحاظ سے ”بدن دریدہ“ ایک رزمیہ ہے۔“
خالدہ حسین اپنے ایک مضمون میں فہمیدہ کے حوالے سے لکھتی ہیں کہ '’فہمیدہ ریاض وہ پہلی شاعرہ ہے جس نے عورت کا آرکی ٹائیپل تشخص اُجاگر کیا۔ وہ عورت کے منصب اور مسائل کو جسمانی اور روحانی سرشاری کے ساتھ منسلک دیکھتی ہیں۔ زندگی کے تسلسل کے لیے انسانی مادہ کا کردار صرف جبلتی نہیں بلکہ ایک ماورائی جہت بھی رکھتا ہے جس میں جنس کے تمام تعلقات کو ایک مابعدالطبیعیاتی جبلت کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔ ''
جبکہ آخری پیراگراف میں خالدہ حسین لکھتی ہیں:
”ذاتی طور پر مجھے سب سے زیادہ خوشی اُس کے مابعدالطبیعیاتی منطقے میں داخل ہونے کی ہے۔ فرید الدین عطار کی سات سو برس قدیم فارسی کلاسِک”منطق الطیر“پر مبنی ایک خوبصورت تمثیلی کہانی ”قافلے پرندوں کے“ لکھنا روحانی واردات سے گزرے بغیر ممکن نہیں۔ پھر رومی کی غزلیات کی سرمستی اور روحانی کیفیت کو اردو کا پیرایہ دینا خود اس سرخوشی میں گلے گلے ڈوبنے کا اشاریہ ہے۔“
آئیے اب ہم فہمیدہ کے کلام کی روشنی میں ان کے تاثرات و خیالات کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں.
اپنے مجموعہ? کلام ”کیا تم پورا چاند نہ دیکھو گے؟“میں فہمیدہ نے ضیاء الحق کے دورِ حکومت کے خلاف بغاوت اور احتجاجی شاعری کی جو مثال پیش کی ہے اس کی نظیر بہت کم مل پانا مشکل ہے.
مذکورہ کتاب میں اپنے احساس کو فہمیدہ کچھ یوں بیان کرتی ہیں:
”مَیں چلی جا رہی ہوں
ارادوں کو دانتوں میں پیستی
سمیٹتی اپنے منتشر ہوتے وجود کو
جو بار بار بل کھا کر
میری پیشانی کی گرہ بن گیا ہے
مَیں مُنھ اندھیرے نکلی تھی
اور اب
دن ڈھلنے کو آیا
دیکھو…..میں نے کہیں تھم کر سانس بھی
نہیں لی ہے
مَیں بیٹھی ہوں سمجھوتوں کے سائبانوں میں
پَیر لڑکھڑاتے ہیں، ٹھوکر لگتی ہے
تو مَیں اپنا عہد دوہراتی ہُوں …..
بارُود کا گیت لکھنے کا عہد
لیکن…..
میرے دوست
مَیں تھک بھی جاتی ہوں!“
جبکہ فہمیدہ نے اپنے آخری مجموعہ? کلام ”تم کبیر…..“ میں حضرت زینب ؓکی یاد میں نظم ”حضرت زینبؓ کا خطبہ شام کے دربار میں“ کو کچھ اس طرح سے بیان کرتی ہیں:
سامنے ٹکڑے ہوئے تھے جن کے سب پیاروں کے تن
چھوڑ کر آئیں تھیں جو میدان میں لاشیں بے کفن
بے پنہ صدموں کی شدت پر سفر وہ پُرمحن
اس قدر مظلومیت پر ایسا خطبہ پُرجلال
مل نہیں سکتی ہمیں تاریخ میں ایسی مثال
پیش کرتی ہے انھیں انسانیت زرّیں خراج
عالمِ نسواں کے سر پر آپ نے رکھا ہے تاج
ضیاء الحق کے دورِ آمریت کی معاشرتی، تہذیبی اور سیاسی زندگی کے بھیانک مناظر پیش کیے گئے ہیں۔ خود فہمیدہ اس نظم کو”بارُود کا گیت“ قرار دیتی ہیں۔ اُس زمانے میں ”سرکاری مخبروں“ کی گرم بازاری نے اربابِ فکر و نظر کو جن اعصاب شکن نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا کیا،اُس کا ایک عکس فہمیدہ ریاض کے ان چند مصرعوں میں محسوس کیا جا سکتا ہے:
”صرف ایک اچانک آہٹ!
اور دماغ سائرن کی چیخ بن گیا
پولیس!
اور
اس کے بعد …….
دروازے پر ہر دستک
سیڑھیوں پر ہر قدم کی چاپ
گلی میں ہر آہٹ
درد سے دھڑکتے سر میں ایک ہی خیال لاتی ہے
پولیس۔۔ پولیس۔۔ پولیس!
اسے پیرونایا کہتے ہیں
……اور دروازے پر
وہم، حقیقت کی منحوس وردی پہنے پھر کھڑا ہے
چھوڑیئے ڈاکٹر صاحب
گولیاں بھلا کیا کر سکتی ہیں!“
مذکورہ حالات کے عکس کو ان کی ”چادر اور چاردیواری“، ”خانہ تلاشی“، ”سٹی کورٹ میں“ اور ”خفیہ ملاقاتیں“ میں بھی بخوبی دیکھا جا سکتا ہے. جبکہ نظم ”آخری گیت“ میں یاس و نہ امید ی سے اوپر اُٹھ کر اہلِ وطن کے دل میں اُمید کی ایک شمع روشن کرنے کی سعی کی گئی ہے۔یہاں وہ خوف اور دہشت کی چادر کو دور پرے ہٹا کر سیاسی بیداری اور عوام میں جدوجہد کی مشعل کو جگاکر وطن میں پھیلی تاریکی کو دور کرنے کی کوشش کرتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں. جیسے کہ آپ خود ہی ملاحظہ فرمائیں کہ
”جاگو اے فرزندانِ وطن
ویرانہ? وجود میں وہ اذان دینے کے لیے
کہ سہمی زمین آخری بار تھرتھراکر شق ہو جائے
اور جرا?ت کا چشمہ پُھوٹ نکلے
لاریب! نہیں کوئی طاقت ماسوا اللہ کے
اور وہ تمھاری رگِ گلو سے نزدیک تر ہے
پھر خوف کیسا؟
.آزادی، انصاف، مساوات
یہ لفظوں کے خالی گملے
تم ہی تو اپنے بیلچوں سے ان میں مٹی بھروگے
دانائی کی نرم بھر بھری مِٹی ڈال کر
مگر اِبلیسیت کو کُھل کھیلنے کی چُھوٹ نہ ہوگی
ہم اسے مُلک بدر کرنے والے ہیں“
اردو ادب کی یہ معروف ادیبہ و شاعرہ فہمیدہ ریاض آخر کار 72 سال کی عمر میں 21 نومبر 2018ء کو اس دار فانی کو ہمیشہ ہمیش کے لیے الوداع کہہ گئیں. بے شک فہمیدہ ریاض آج ہمارے درمیان نہیں ہیں لیکن ان کی بیش قیمت تخلیقات اپنے قارئین کی ہمیشہ آگاہی و رہنمائی فرماتی رہیں گی. آخر میں فہمیدہ کی شخصیت کے حوالے سے یہی کہوں گا کہ:
دیتی رہوں گی روشنی بجھنے کے بعد بھی
میں بزمِ فکر و فن کی وہ تنہا چراغ ہوں..!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں